افغانستان سے تعلقات کن بنیادوں پر استوار کرنے چاہئے ، تجزیہ کار ڈاکٹر نویدالٰہی نے تجاویز پیش کر دیں 

افغانستان سے تعلقات کن بنیادوں پر استوار کرنے چاہئے ، تجزیہ کار ڈاکٹر ...
افغانستان سے تعلقات کن بنیادوں پر استوار کرنے چاہئے ، تجزیہ کار ڈاکٹر نویدالٰہی نے تجاویز پیش کر دیں 

  

اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) تجزیہ کار ڈاکٹر نوید الٰہی نے افغانستان اور کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد پاکستان کے افغانستان سے تعلقات قائم کرنے سے متعلق تجاویز پیش کر دیں ، کہا کہ حکومتوں کے آج کئے فیصلوں کے نتائج سالوں بعد برآمد ہوتے ہیں ، لہٰذا حکومت تدبر سے کام لے ۔

ڈاکٹر نوید الٰہی نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ سب سے پہلے ہمیں ماضی کو یاد رکھنا ہوگا اور فیصلے کرنے ہوں گے ، ماضی ہی بتائے گا کہ پاکستان کے طالبان کے ساتھ تعلقات کن بنیادوں پر ہونے چاہئیں، انہوں نے کہا کہ جب افغان جہاد ختم ہوا تو روس کے نائب صدر نے پاکستان کا دورہ کیا اور انہوں نے یہاں حکومتی شخصیات سے ملاقاتوں میں درخواست کی کہ ہمیں طالبان کی قید سے کچھ روسی قیدی مل جائیں تو یہ دورہ کافی کامیاب ثابت ہو گا، اس وقت کے وزیر اعظم، آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی نے طالبان لیڈر گلبدین حکمت یار سے درخواست کی لیکن انہوں نے صاف انکار کر دیا ، یہ بات ریاض محمد نے اپنی کتاب میں لکھی ہے ، محمد ریاض نے تبصرہ کیا کہ اس دن ہم پر واضح ہو گیا کہ جن کی ہم مدد کرتے ہیں وہ ہمارے ساتھ کیا کرتے ہیں۔

نوید الٰہی نے دوسرے واقعے کی طرف توجہ مبذول کرائی کہ جب افغانستان پر حملہ کیا جانے والا تھا تو اس وقت ابھی بات چیت جاری تھی ، پاکستان کی جانب سے ملا عمر سے کہا جا رہا تھا کہ اسامہ کو وہاں سے نکال دیں یا امریکہ کے حوالے کر دیں ، اس ضمن میںپاکستان کے جنرل محمود ملا عمر سے ملے ، اس وقت بھی طالبان کی حکومت تھی جسے دنیا میںپاکستان ، سعودیہ اورمتحدہ عرب امرات نے تسلیم کیا تھا ، مگر اس کے باوجود ملا عمر نے صاف انکار کر دیا ۔اس کے بعد سعودی عرب کے انٹیلی جنس چیف بھی گئے اور ملا عمر سے کہا کہ یہ اسامہ بن لادن ہمارا شہری ہے ، آپ نے وعدہ بھی کیا تھا کہ ہمیں جب ضرورت ہو گی آپ واپس دے دین گے مگر ملا عمر نے صاف انکار کر دیا کہ اسامہ ہمارے مہمان ہیں اور ایسا کوئی وعدہ آپ سے نہیں ہوا تھا۔

ڈاکٹر نوید الٰہی نے ان دونوں واقعات سنانے کے بعد کہا کہ یہ کہ چشم کشا حقائق ہیں کہ جن کو آپ سپورٹ کرتے رہے ہیں ، وہ آپ کی ایسی کوئی بات نہیں مانتے جو ان کے مفاد میں نہ ہو ۔

ڈاکٹر نویدالٰہی نے کہا کہ پاکستان اس جنگ میں امریکہ کا اتحادی بن گیا لیکن ساتھ ہی ساتھ ہم پر الزام یہ تھا کہ ہم طالبان کو سپورٹ کر رہے ہیں ،ہم نے کچھ طالبان پکڑ کر ان کے حوالے کئے مگر الزام بدستور ہم پر ہی رہے تو ہم عجیب طرح کی مصیبت میں پھنس چکے ہیں ، اب ہمارے لئے ضروری ہے کہ فیصلہ کریں کہ کن بنیادوں پر طالبان حکومت کے ساتھ چلنا ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب دوبارہ طالبان حکومت بن چکی ہے ، ہم نے ان واقعات کی روشنی میں دیکھنا ہے کہ ان کے ساتھ تعلقات کن بنیادوں پر استوار کرنا ہیں ، فیصلوں میں احتساب ہونا چاہئے ، آج کے فیصلوں کا نتیجہ کئی سال کے بعد نکلتا ہے جو عوام اور قوم کو بھگتنا پڑتا ہے ، جہاں تک طالبان کےساتھ تعلقات کا معاملہ ہے اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ افغانستان ہمارا ہمسایہ ملک ہے ، ہمارے لوگ ایک جیسے ہیں ، ہمارے 8قبیلے ایسے ہیں جو دونوں ممالک میں آباد ہیں ، ہمارے ان کے ساتھ اہم نوعیت کے تعلقات ہیں ، اس بھائی چارے کو سامنے رکھتے ہوئے چند نکات پر تو تعلقات غیر مشروط ہونے چاہئیں جن میں صحت ، خوراک اور تعلیم کا شعبے شامل ہیں ، لیکن دیگر تعلقات کیلئے کچھ معاملات پہلے سے طے کر لینے چاہئیں تاکہ ماضی کی طرح مسائل کا شکار نہ ہو جائیں ۔

ڈاکٹر نوید الٰہی نے کہا کہ ہمیں یہ ان کو بتانا چاہئے کہ اگر آپ ہماری سپورٹ چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ آپ افغانستان میں امن و امان قائم رکھیں ، خواتین کے حقوق سمیت ہیومن رائٹس کا خیال رکھیں اور تحریک طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی ) کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں ، یہ چند بنیادی شرائط ہونی چاہئیں جس کی بنیاد پر ہمارے تعلقات قائم ہوں اور دنیا بھی ہمیں ستائش کی نظر سے دیکھے گی ۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ تعلقات ملکوں کے ملکوں کے ساتھ ہوتے ہیں ، حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں ، گزشتہ تجربات کے ہم کو شدید نقصانات ہوئے جنہیں ہم آج تک فیس کر رہے ہیں ۔

مزید :

قومی -