زیادتی کا شکار 15 سالہ لڑکی کا سوال

زیادتی کا شکار 15 سالہ لڑکی کا سوال
زیادتی کا شکار 15 سالہ لڑکی کا سوال

  

پندرہ سالہ  معصوم لڑکی سوال کررہی ہے میر ا کیا قصور تھا ۔ میری والدہ کے سامنے مجھے درندوں نے نوچا، میں پوچھتی ہو ں میں نے تو کسی کو فون کر کے نہیں بلایا تھا نہ میری سوشل میڈیا پر ایسی کوئی ویڈیو تھی جس سے میں نے مردوں کی طاقت کو للکارا ہو،  ان کے جذبات کو ابھارا ہو،  میرے لباس سے ایسا نہیں لگ رہا تھا جس طرح میں کسی کو دعوت دے رہی ہوں کہ  آؤ اور میری عزت تار تا رکردو  کیونکہ تم مرد ہواور تمہیں ہر طرح کی آزادی ہے ، یہ آزاد ملک بنا بھی صرف تمہارے لیے ہے ۔ نہ ہی میں نے کسی کو فلائنگ کس دی اور نہ ہی میرے اردگر فینز کا ہجوم تھا، پھر کیوں میری عزت کے ساتھ کھیلا گیا؟جب میں خود کو آئینے میں دیکھتی ہوں تو وہ درندے انسانی شکل میں خونخوار جانوار نظر آتے ہیں جن سے میری والدہ میری عزت کی بھیک مانگتی رہی۔  پیدا کرنے والے کا واسطہ دیتی رہی۔  تم بھی ماں ،بہن اور بیٹی والے ہو خیال کر و میری زندگی تو تم خراب کر چکے ہو میری بیٹی کو چھوڑ دو۔  بے رحم بھیڑیوں کو مجھ پر ترس نہ آیا ۔

 لاہور موٹر وے کے واقعہ کا زخم ابھی بھرا نہیں تھا کہ  اتوار کی شب ایک اور دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ۔۔لاہور کے علاقے چوہنگ میں ماں بیٹی سے رکشہ ڈرائیوعمر اور اس کےساتھی منصب نے زیادتی کی۔ وہاڑی کی 35 سالہ خاتون اپنی 15 سالہ بیٹی کے ساتھ لاہور آئی۔۔ماں بیٹی نے ٹھوکر نیاز بیگ سے صدر کینٹ جانے کے لیے رکشہ لیامگر درندہ صفت رکشہ ڈرائیور ماں اور بیٹی کو ایل ڈی اے ایوینو لے گیاجہاں اس نے اپنے دوست منصب کے ساتھ مل کر ماں اوربیٹی کے ساتھ زیادتی کی ۔ 

 جنسی حملوں کے پے در پے واقعات کے تناظر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان میں ایک خاتون کے خلاف جرم سے لے کر دوسری عورت کی بے آبروئی تک جو وقفہ ہوتا ہے وہ بظاہر خواتین کے لیے امن کا وقفہ ہوتا ہے۔جب ایک مظلوم عورت کی دنیا دنیاوی جسمانی ہوس کے لیے اجاڑ دی جاتی ہے اور پھر کچھ وقفے کے بعد اسی طرح کی ایک اور بھیانک خبر آ جاتی ہے تو یہ وقفہ بھی خواتین کے لیے صبر آزما لمحات میں بدل جاتا ہے۔بنتِ حوا صدمے سے دو چار رہتی ہے اور اسے خدشہ رہتا ہے کہ اگلا شکار وہ بھی ہو سکتی ہے۔ اور یہ ہے وہ حقیقی ڈراؤنا خواب جو عورت کو تا عمر بے چین رکھتا ہے۔

نوٹ: یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں

مزید :

بلاگ -