قومی تعمیرمیں ترجیحات کا تعین

 قومی تعمیرمیں ترجیحات کا تعین
 قومی تعمیرمیں ترجیحات کا تعین

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


نگران حکومت کا آئیڈیا اب شاید صرف پاکستان تک محدود ہو گیا ہے۔ ہمیں شاید یہ پسند آ گیا ہے کیونکہ نگران دور میں فیصلے کوئی اور کرتا ہے اورنگرانوں کو وقتی طور پر ذمہ داری لینا پڑتی ہے لیکن انہیں کوئی زیادہ فرق نہیں پڑتا کیونکہ یہ مزہ تو ایک ہی دفعہ اُٹھایا جا سکتا ہے اور پھر انہوں نے کونسا الیکشن لڑنا ہوتا ہے اِس کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ غیرملکوں میں مقیم اور کچھ مقامی ٹیکنوکریٹس اور اندرون ملک سیاسی بے روزگار افراد کو حکومت میں آنے کا موقع مل جاتا ہے۔ باقی رہا اِس کا اصل مقصد یعنی غیرجانبداری وہ ایک مذاق ہے۔اول تو کوئی باشعور آدمی قومی حالات میں مکمل طور پر غیرجانبدار نہیں ہو سکتا پھر اُس کے لئے وزیراعظم اور وزراء کے انتخاب کا سرے سے کوئی فارمولہ نہیں جس پر ان کی اہلیت یا غیرجانبداری کا فیصلہ کیا جا سکے۔ اِن ساری باتوں کے باوجود اِکا دَکا اچھے لوگ بھی اس نظام کے تحت حکومت میں آ جاتے ہیں۔ موجودہ حکومت میں بھی کئی لوگ شامل ہیں جو اِس عہدے کے لئے اہلیت کے حامل ہیں۔ پنجاب کا نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی بھی ایک اچھا آدمی ثابت ہوا ہے۔ کہتے ہیں کہ وہ دن رات کام کر رہے ہیں اور شاید شہباز سپیڈ سے بھی آگے نکل جائیں۔ قابل تعریف بات ہے اگر کوئی ایمانداری اور محنت سے کام کرے خواہ اس کی حیثیت کچھ بھی ہواور محسن نقوی کی عمومی شہرت اچھی ہے لیکن مجھے جس چیز نے متاثر کیا ہے وہ اُن کاایک چھوٹا سا فیصلہ ہے وہ یہ کہ انہوں نے لائبریریاں رات بارہ بجے تک کھلی رکھنے کا حکم دیا ہے۔


یہ بظاہر معمولی فیصلہ دراصل دوررس اثرات کا حامل ہو سکتا ہے۔موجودہ دور مفادات کی جنگ ہے اِس میں ایسی سوچ غنیمت ہے شاید اس وجہ سے کہ ہمارے ہاں اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز لوگ علم وادب سے دور تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے بعد شاید موجودہ وزیراعظم کا کتاب سے تعلق بتایا جاتا ہے۔ کاش ہمارے حکمران قوموں کی تعمیر میں تعلیم کی اہمیت کو سمجھتے لیکن افسوس کہ تعلیم ہماری ترجیحات میں بہت نیچے ہے ہم نے تعلیم اور آبادی کی منصوبہ بندی جیسے بنیادی مسئلوں پر توجہ نہ کی اور آج ہم دیوالیہ ہونے کے قریب ہیں۔ ہیومن ریسورس کی ترقی کے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا لیکن ہم لڑیسی ریٹ میں اپنے خطے میں بھی سب سے پیچھے ہیں ہمارے ہی خطے میں ایک چھوٹے سے ملک سنگاپور میں وزیراعظم لی کوان لو نے حکومت کی باگ ڈور سنبھالی تو بجٹ کا تیسرا حصہ تعلیم کے لئے وقف کر دیا اور آج سنگاپور جو صرف ایک شہر تک محدود ہے ترقی کے لحاظ سے ایک ماڈل ہے۔ ہم ہمیشہ تعلیم کی وزارت کسی نیم خواندہ شخص کے حوالے کر دیتے ہیں۔ پی ٹی آئی نے البتہ ایک پڑھے لکھے شخص شفقت محمود کو یہ ذمہ داری سونپی  تھی اگرچہ کوئی واضح پتہ نہیں چل سکا کہ اُن کی قیادت اور محنت کا کیا نتیجہ نکلا۔
پچھلی حکومت کے دور میں وفاقی وزیر احسن اقبال نے بھی تعلیم کی اہمیت کا احساس کیا کیونکہ وہ خود پڑھے لکھے آدمی ہیں انہوں نے اسلام آباد میں ایک پبلک لائبریری کے قیام کا فیصلہ کیا اور سی ڈی اے سے کہا کہ وہ اِس کے لئے جگہ کا تعین کریں ابھی تک پتہ نہیں چل سکا کہ اِس معاملے میں کیا پیشرفت ہوئی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں اول تو لائبریری کلچر ہی پروان نہیں چڑھا اور جو لائبریریاں ہیں وہ سرکاری ٹائم ٹیبل کے مطابق بند ہو جاتی ہیں۔

کئی ملکوں میں لائبریریاں چوبیس گھنٹے کھلی رہتی ہیں۔ اسلام آباد میں ایک بڑی لائبریری نیشنل لائبریری ہے۔ جو سرے سے کتابیں ایشو نہیں کرتی۔ یورپ جائیں تو آپ جہاں بھی ٹھہریں گے قریب ہی کوئی نہ کوئی لائبریری ہو گی آپ وہاں جائیں مطالعہ کریں اور کتابیں ایشو بھی کروا سکتے ہیں خواہ آپ وہاں کے شہری نہیں ہیں اور کچھ وقت کے لئے وہاں ہیں کیونکہ وہ قومیں علم کی اہمیت کو سمجھتی ہیں۔ کسی معاشرے میں جہالت ایک بنیادی خرابی ہے باقی خرابیاں اِسی سے جنم لیتی ہیں۔ معاشرے میں جو افراتفری، بدتہذیبی اور ظلم و زیادتی عام ہے ظاہر ہے یہ جہالت کا ہی شاخسانہ ہے۔کچھ عرصہ سے ہمارے ہاں یونیورسٹیوں اور میڈیکل کالجز کی بھرمار ہو گئی ہے لیکن اس سلسلے میں یہ بات عام ہے کہ اس معاملے میں پیسے کا استعمال ہو رہا ہے۔ یونیورسٹی کے قیام میں یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ اُس علاقے میں کتنے کالج کام کر رہے ہیں کیونکہ انہی کالجوں سے طلباء نے یونیورسٹی میں داخلہ لینا ہوتا ہے اور پھر تعلیم کے معیار کا بیڑہ غرق ہو چکا ہے اِس کی کسی کو پرواہ نہیں۔ امتحانوں میں نقل عام ہے ٹیچرز کی بھرتی میں کسی معیار کی ضرورت نظرانداز ہو رہی ہے اِس سے جو نسل تیار ہو گی وہ معاشرے میں کیا بہتری لائے گی۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ کسی کو اِس صورتحال کا احساس نہیں نہ حکومت کو اور نہ کسی پارٹی نے آج تک اِن معاملات کو ترجیح بنایا ہے یہ ایک قومی المیہ ہے۔

مزید :

رائے -کالم -