امریکہ میں بچے کم

امریکہ میں بچے کم
امریکہ میں بچے کم

  

امریکہ کے تحقیقی ادارے اس بات پرپریشان ہیں کہ امریکی بچوں کی شرح پیدائش تشویشناک حد تک کم ہوگئی ہے۔ پچاس سال پہلے کے مقابلے میں اب تعداد بے حد کم ہے۔اس کی وجہ یقینا کئی سال سے مالی بحران، روزگار میں کمی اور معاشی حالات ہیں، لیکن سچ پوچھیں تو امریکی عرصے سے شادی کے قائل ہی نہیں رہے۔وہ گرل فرینڈ کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں،جس کی وجہ سے شرح پیدائش میں کمی ہوتی ہے۔ امریکہ کو معیشت کا پہیہ چلانے کے لئے مزدور درکار ہیں اور وہ آسانی سے باہر سے آجاتے ہیں، لیکن گیارہ ستمبر کے سانحہ کے بعد امیگریشن میں مستقل سختی کی جارہی ہے،جس کی وجہ سے یہ خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ کاروبار حیات کیسے چلے گا؟

 دیکھا جائے تو امریکی معیشت کا پہیہ چلانے میں کبھی بھی مددگار ثابت نہیں ہوئے۔وہ سخت کام ، بلکہ حقیقت میں کام کے ہی عادی نہیں۔یہ سب تو باہر سے آنے والے کرتے ہیں،جس طرح مشرق وسطیٰ کے سارے کام ہندوستان،پاکستان اور بنگلہ دیش کے لوگ انجام دیتے ہیں۔ان کے بعض ملکوں میں تو تعمیراتی کام بند ہوگئے ہیں،جس کی وجہ سے مزدوروں کی مانگ میں کمی ہوگئی ہے،لیکن اب یہی 80فیصد کام غیر ملکی ہی کرتے ہیں اور وہ اس بات کو سمجھتے ہیں ، اس لئے وہ باہر سے کسی نہ کسی طرح لوگوں کو آنے دیتے ہیں۔ امریکہ میں اگر میکسیکو سے غیر قانونی لوگ نہ آئیں تو بڑا نقصان ہو جائے ۔یہ لوگ ہر مشکل اور سخت کام کرنے کے عادی ہیں اور اجرت بھی کم لیتے ہیں، امریکہ ان کے آنے پر خوب شور مچاتا ہے۔لیکن نہ وہ رکتے ہیں ،نہ امریکی سنجیدگی سے روکتے ہیں،کیونکہ کتنے ہی کام وہ انجام دیتے ہیں.... امریکہ دراصل تارکین کا ملک ہے،یہاں ہر علاقے سے لوگ آئے ہیں اور اب یہیں کے ہو کے رہ گئے ہیں۔ان کی نسلیں یہاں بڑی ہوتی ہیں۔ اس لئے وہ امریکہ کے وفادار ہیں، لیکن بدقسمتی سے گیارہ ستمبر کے حادثے کے بعد مسلمانوں کو شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور امیگریشن کی پالیسی اور قوانین ان کے لئے سخت کردیئے گئے ہیں، جن کا نقصان امریکی معیشت کو پہنچے گا۔

امریکہ میں شرح پیدائش کتنی ہی کیوں نہ گر جائے، انتظامیہ کچھ نہیں کرسکتی۔وہ لوگوں کو مجبور نہیں کرسکتی کہ وہ زیادہ بچے پیدا کرے۔ہر امریکی پہلے اپنا مفاد دیکھتا ہے،اپنے عیش و آرام کو ترجیح دیتا ہے، کیونکہ اس ملک میں خاندان بنانے اور ایک ساتھ رہنے کا رواج نہیں۔ بچے بالغ ہوتے ہیں توماں باپ کا گھر چھوڑ دیتے ہیں اور پھر پلٹ کر نہیں آتے، ایسے بچوں کے لئے کون اپنی زندگی کے عیش و آرام کو قربان کرے جو بڑھاپے میں اس کا ساتھ نہ دیں۔ امریکہ کی بگڑتی ہوئی معاشی حالت کی وجہ سے لوگ اپنی زندگی کو صحیح طریقے سے گزار نہیں سکتے، ایسے میں شادی اور پھر بچے ایک دشوار گزار کام ہے۔یہاں لوگ تو ویسے ہی شادی کے بندھن سے دور رہنا چاہتے ہیں ۔اوپر سے حالات ایسے ہوگئے ہیں کہ لاکھ تحقیق ہو،انتظامیہ تشویش کا اظہار کرے ۔وہ زیادہ بچے پیدا کرنے پر تیار نہیں ہوں گے۔ امریکہ کے تحقیقاتی ادارے نے جو اعدادوشمار دیئے ہیں، ان کے حساب سے اگر حالات ایسے ہی رہے اور امریکہ میں بچے کم پیدا ہوئے تو وہ دن دور نہیں، جب امریکہ میں امریکی اقلیت میں ہوں گے اور تارکین وطن اکثریت میں نظر آئیں گے۔ مشرق وسطیٰ میں اس وقت بھی مقامی لوگ اقلیت میں ہیں اور باہر سے آکر کام کرنے والے اکثریت میں ہیں، لیکن وہاں ایک بات اچھی ہے کہ جو وہاں باہر سے آئے ہیں، وہ اس ملک کے شہری نہیں بن سکتے اور نہ کسی ایسی سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جو مقامی لوگوں کے لئے مخصوص ہو،اس لئے وہاں تشویش کی کوئی بات نہیں۔

امریکہ میں باہر سے آنے والے لوگ کچھ عرصے بعد یہاں کے شہری(سٹیزن) بن جاتے ہیں، اس لئے وہ تمام سہولتوں کے حق دار ہوتے ہیں۔یہ ایک لمحہ ءفکریہ ہے۔ امریکہ کے لئے ہمیشہ سے غیرقانونی لوگ زیادہ سود مند رہے ہیں،کیونکہ وہ مقامی لوگوں کی سہولتوں میں حصہ نہیں بٹا سکتے۔ امریکی صدر بارک اوباما نے بہت سے لوگوں کو غیرقانونی سے قانونی بنانے کا سلسلہ شروع کردیا ہے،جس کی وجہ سے میکسیکو کے لوگوں کو خاص طور پر فائدہ ہورہا ہے، کل وہ بھی امریکیوں کی ہر سہولت میں حصہ لیں گے۔ امریکہ اپنے شہریوں کو اس بات پر تو آمادہ نہیں کرسکتاکہ بچے زیادہ پیدا کریں، لیکن یہ ضرور کرسکتا ہے۔گیارہ ستمبر سے پہلے امیگریشن میں جو سہولتیں تھیں، انہیں دوبارہ بحال کردے ، تاکہ لوگ اس طرف آئیں اور ملک کی تعمیر و ترقی میں حصہ لیں۔

مزید :

کالم -