بلدیاتی انتخابات

بلدیاتی انتخابات
بلدیاتی انتخابات

  

پاکستان میں سب سے پہلے لوکل باڈیز کے الیکشن ایوب خان کے دور میں ہوئے تھے۔بھٹو حکومت کے دور میں ملک کے لئے آئین تو بن گیا،مگر اس کے تحت بلدیاتی الیکشن نہ ہو سکے۔1977ءمیں جنرل ضیاءالحق کی حکومت بن گئی تو 1979ءمیں بلدیاتی الیکشن ہوئے ،جس میں ضلع کونسل کے چیئرمین بنائے گئے۔جب جنرل ضیاءالحق نے 1985ءمیں غیر جماعتی الیکشن کروائے تو اس میں بلدیاتی نمائندے بہت بڑی تعداد میں ممبر قومی اسمبلی اور ممبر صوبائی اسمبلی کامیاب ہوئے ۔آج کے دور کے بڑے بڑے سیاسی رہنما ،سیاست دان انہی بلدیاتی الیکشنوں میں عوام کے سامنے آئے۔1988ءمیں جب جنرل ضیاءالحق کا جہاز تباہ ہوا، اس کے بعد عام انتخابات میں پی پی پی کی حکومت بنی، پھر 1990ءمیں مسلم لیگ اسلامی جمہوری اتحاد کی چھتری کے سائے میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی،لیکن 1993ءمیں ملکی حالات کی وجہ سے دوبارہ الیکشن ہوئے،جس میں دوبارہ پی پی پی کی حکومت بن گئی، لیکن بدقسمتی سے یہ حکومت بھی آئینی مدت پوری نہ کر سکی تو 1997ءمیں پھر الیکشن ہوئے، جس میں مسلم لیگ کی حکومت بن گئی، لیکن حالات نے دوبارہ پلٹا کھایا تو جنرل پرویز مشرف نے حکومت کی بھاگ ڈور سنبھال لی۔

حالات کی ستم ظریفی یہ ہوئی کہ 1988ءسے لے کر 1999ءتک گیارہ سال کی مدت میں بلدیاتی الیکشن نہ ہو سکے۔پاکستان میں تیسری بار بلدیاتی الیکشن 2005ءمیں ہوئے ،جس میں نیا بلدیاتی نظام نافذ کیا گیا، مالی اور انتظامی اختیارات ضلع کی سطح پر منتقل ہوئے اور ضلعی سطح سے کچھ اختیارات یونین کونسل کی سطح تک بھی چلے گئے۔ ضلعی حکومتوں کا تجربہ ہوا ،جس میں ضلعی ناظم کو وسیع اختیار حاصل ہو گئے۔ اس طرح سیاست دانوں کی ایک نئی کھیپ تیار ہو گئی، 2008ءکے الیکشن میں پی پی پی کی حکومت چوتھی بار قائم ہوئی جو آصف علی زرداری کی کامیاب سیاست اور فہم و فراست کی وجہ سے اپنی آئینی مدت پانچ سال پورے کرکے رخصت ہوئی، مگر اس حکومت نے بھی بلدیاتی الیکشن کروانے کی ہمت نہیں کی۔ ممبران قومی اور صوبائی اسمبلی صرف ترقیاتی فنڈز کی وجہ سے بلدیاتی الیکشنوں میں رکاوٹ بنے رہے۔

2013ءکے الیکشن میںمسلم لیگ برسرِ اقتدار آ گئی ہے، لیکن بلدیاتی الیکشن کا خوف اب بھی برقرار ہے، حالانکہ آئین کے تحت پہلے چھ ماہ میں بلدیاتی الیکشن کروانا لازمی ہیں، اب سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے تحت صوبائی حکومتیں بلدیاتی الیکشن کروانے پرمجبور ہوئی ہیں۔سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت تمام صوبائی حکومتوں نے تاریخوں کا اعلان کیا ہے۔ بلوچستان کی حکومت نے 7دسمبر کو الیکشن کروا لئے ہیں۔سندھ نے بھی چار ماہ کا مزید وقت مانگا تھا، جو اس کو نہیں ملا، اس لئے مجبوری کے تحت 27جنوری کو الیکشن کے لئے راضی ہوئے ہیں۔پنجاب میں بھی 30 جنوری کو الیکشن ہورہے ہیں۔

خےبر پختونخوا میں بھی بلدیاتی الیکشن فروری میں ہوں گے۔یہ بات پاکستانی عوام اور بلدیاتی الیکشن میں حصہ لینے والے نچلی سطح کے لوگوں کے سوچنے کی ہے کہ صوبائی حکومتیں بلدیاتی الیکشن کیوں نہیں کرواتیں۔ شاید مناسب قانون سازی نہیں کر سکیں یا وہی پرانا حربہ کہ ممبران قومی اور صوبائی رکاوٹ ڈالتے ہیں۔ پنجاب حکومت نے تھوڑی تبدیلیوں کے ساتھ جنرل ضیاءالحق والا بلدیاتی نظام صوبائی اسمبلی سے منظور کروا لیا ہے۔ پنجاب کی حکومت نے بلدیاتی الیکشن اپنی انتظامیہ سے کروانے کا اعلان کر دیا ہے اور وہ اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود انتظامیہ سے الیکشن کروانے والے فیصلے پر ڈٹی ہوئی ہے۔ یہ بلدیاتی الیکشن کمشنر، ڈی سی او، آئی جی، آر پی او اور ایس ایس پی ، ایس پی اور ڈی ایس پی سے ایس ایچ او تک الیکشن کا رزلٹ دیں گے۔

حکومت پنجاب بہت مجبوری سے جماعتی بنیادوں پر الیکشن کروانے کے ہائی کورٹ کے حکم کوتسلیم کررہی ہے، ورنہ پنجاب میں بلدیاتی الیکشنوں کے بعد لوٹا فیکٹری قائم ہو جانی تھی، اگر بلدیاتی الیکشن پنجاب کی انتظامیہ نے کروانے ہیں جو وزیراعلیٰ اور گورنر کے ماتحت ہے تو پھر ان کو سلیکشن بھی کہا جائے گا۔بے شک پنجاب کی انتظامیہ میں چند باضمیر آفیسر ہیں، لیکن جونیئر ہو کر اپنے سینئر پر آرڈر چلانے والے کس طرح پنجاب حکومت کے کرتا دھرتا کے احکامات کی نافرمانی کریں گے۔اس طرح سندھ کی حکومت نے بھی جنرل پرویز مشرف کے نظام کے مقابلے میں جنرل ضیاءالحق کے بلدیاتی نظام کو میک اپ کے ساتھ نافذ کیا ہے۔دونوں حکومتوں کو جنرل ضیاءالحق کا بلدیاتی نظام پسند آ گیا ہے۔پنجاب حکومت کے لیڈروں پر تو جنرل ضیاءالحق کی بہت مہربانیاں ہیں، لیکن سندھ کی موجودہ حکومت کے تعلقات جنرل پرویز مشرف سے بہتر تھے۔سندھ میں ایم کیو ایم نے بلدیاتی قانون کو کورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔شاید پی پی پی کی حکومت سندھ ایم کیو ایم سے بلدیاتی الیکشن میں کراچی اور حیدرآباد واپس لینے کی خواہش مند ہے، لیکن شاید یہ بہت مشکل ہوگا۔پنجاب کے شہروں میں پی ٹی آئی مسلم لیگ(ن) کو ٹف ٹائم دے گی۔اس میں شک کی گنجائش نہیں ہے، اگر اب بلدیاتی الیکشن دھاندلی سے چرانے کی کوشش مسلم لیگ کے لیڈرکریں گے، تو پھر شاید پی ٹی آئی اپنی خاموش رہنے کی پالیسی ختم کرکے سڑکوں پر آ جائے جو بہت خطرناک ہوگا۔

مزید : کالم