یمن: القاعدہ کی معافی اور مقتولین کاخون بہا کی پیشکش

یمن: القاعدہ کی معافی اور مقتولین کاخون بہا کی پیشکش

صنعائ(اے پی اے) ایک سینیئر جنگجو کمانڈر نے یمن میں وزارت دفاع کے ہسپتال پر القاعدہ کے جان لیوا حملے کو غلطی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا گروپ خون بہا دینے کو تیار ہے۔پانچ دسمبر کو دن دیہاڑے وزارت دفاع کے کومپلکس پر اس حملے میں فلپائن، جرمنی، ویتنام اور انڈیا سے تعلق رکھنے والے طبی عملے اور مریضوں سمیت چھپن لوگ مارے گئے تھے۔القاعدہ کے عریبین پننسیولا ونگ (اے کیو اے پی) نے پہلے ہی اس حملے کی ذمہ داری قبول کر رکھی ہے اور اب ہفتہ کی رات اس گروپ کے عسکری کمانڈر قاسم الرمی نے ایک آن لائن وڈیو میں کہا کہ ہسپتال پر حملےکی اجازت نہیں دی گئی تھی۔الرمی کا کہنا تھاکہ یہ حملہ وزارت دفاع پر کیا جانا تھا ناکہ ہسپتال پر۔الرمی کے مطابق، حملہ آوروں کو بتایا گیا تھا کہ وہ وسیع و عریض کومپلکس میں موجود ہسپتال اور عبادت گاہ سے دور رہیں لیکن ایک جہادی نے احکامات کی نافرمانی کی۔'ہم نے اپنے ساتھیوں کو ہسپتال اور عبادگاہ کے حوالے سے محتاط رہنے کی ہدایت کی تھی۔ ہمارے آٹھ جہادی بھائی تو محتاط رہے لیکن ایک نے نافرمانی کی'۔اے کیو اے پی نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے معافی اور تعزیت کی ہے اور گروپ کے مطابق وہ اس حملے کی مکمل ذمہ داری قبول کرتے ہوئے متاثرین کو خون بہا ادا کرنے کو تیار ہیں۔

الرمی کا مزید کہنا ہے کہ ان کا گروپ ہسپتال پر حملے میں زخمی ہونے والوں شہریوں کے علاج کے لیے رقم ادا کرنےکو بھی تیار ہے۔اس وڈیو میں الرمی نے عربی میں گفتگو کی ہے جس کی بعد میں انگریزی میں ترجمہ کیا

مزید : عالمی منظر