ڈاکٹر محمد مرسی اور دیگر 132 افراد کو نئے مقدمے کا سامنا

ڈاکٹر محمد مرسی اور دیگر 132 افراد کو نئے مقدمے کا سامنا

قاہرہ (اے پی پی) مصر کے معزول صدر ڈاکٹر محمد مرسی اور دیگر 132 افراد کو دو ہزار گیارہ میں جیل توڑنے کے ایک واقعے اور سکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک کرنے کے الزام میں ایک نئے مقدمے کا سامنا کرنا ہو گا۔عرب ٹی وی کے مطابق مصری پراسیکیوشن آفس نے بتایا ہے کہ اس نئے مقدمے میں فلسطین کی مزاحمتی تحریک [حماس اور لبنانی تنظیم حزب اللہ کے ? 70 کارکنوں کو بھی ملوث قرار دیا ہے۔ یہ مقدمہ ان افراد کی غیر موجودگی میں چلایا جائے گا۔ اسلام پسند جماعت اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے معزول صدر محمد مرسی کے خلاف یہ تیسرا مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔ وکیل استغاثہ کی طرف سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ سابق آمر حسنی مبارک کے خلاف شروع ہونے والی بغاوت کے ابتدائی ایام میں عسکریت پسندوں نے ایک جیل پر حملہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں متعدد پولیس اہلکار ہلاک جبکہ ہزاروں قیدی فرار ہو گئے تھے۔ وکیل استغاثہ کا کہنا تھا کہ یہ حملہ اخوان المسلمون، حماس، حزب اللہ اور دیگر جہادی تنظمیوں کے عسکریت پسندوں نے کیا تھا اور ان تنظمیوں کے متعدد اراکین فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ اس نئے مقدمے میں جن بڑے لیڈروں کے نام سامنے آئے ہیں، ان میں حماس سے تعلق رکھنے والے ایمن نوفل، حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے محمد منصور ، اخوان المسلمون کے محمد مرسی اور قطر کے مشہور عالم دین یوسف القرضاوی شامل ہیں۔

مزید : عالمی منظر