ایف بی آرکے لیے آڈٹ پلان پر عملدرآمد کرنا مشکل ہوگیا

ایف بی آرکے لیے آڈٹ پلان پر عملدرآمد کرنا مشکل ہوگیا

اسلام آباد(اے پی اے )ملک بھر میں ٹیکس دہندگان کی طرف سے عدالتوں میں مقدمے بازی کے باعث فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے ماتحت اداروں کے لیے آڈٹ پلان پر عملدرآمد کرنا مشکل ہوگیا ہے۔فیلڈ فارمشنز نے مقدمات سے نمٹنے کے لیے ایف بی آر کو پالیسی گائیڈ لائن جاری کرنے کی درخواست کردی ہے۔ایف بی آر کے ذرائع کے مطابق فیلڈ فارمشنز کی طرف سے ایف بی آر کو لیٹر لکھا گیا ہے کہ ایف بی آر کی طرف سے آڈٹ پلان کے تحت کمپیوٹرائزڈقرعہ اندازی کے ذریعے جن ٹیکس دہندگان کو ٹیکس ایئر2012 کے آڈٹ کے لیے منتخب کیا گیا ہے ان کے خلاف جب فیلڈ فارمشنز کی طرف سے آڈٹ پراسیس شروع کیا گیا تو مختلف ٹیکس دہندگان نے انہیں آڈٹ کے لیے منتخب کیے جانے کو عدالت میں چیلنج کر دیا ہے اور فیلڈ فارمشنز کے خلاف رٹ پٹیشنز فائل کردی ہیں۔ دستاویز میں بتایا گیاکہ ٹیکس دہندگان کی طرف سے دائر کردہ کیسوں کی نوعیت سے آگہی کے لیے نمونے کے طور پر رٹ پٹیشن کی کاپیاں بھی ایف بی آر ہیڈ کوارٹرز کو بھجوائی گئی ہیں۔دستاویز کے مطابق کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی کے ذریعے آڈٹ کے لیے منتخب کیے جانے والے ٹیکس دہندگان نے ایف بی آر کے ماتحت اداروں کے خلاف عدالتوں میں مقدمات دائر کرانا شروع کردیے ہیںاور ٹیکس دہندگان کی طرف سے ٹیکس ایئر 2011 اور 2012 کے آڈٹ پراسیس شروع کرنے کی مخالفت کی جارہی ہے جبکہ انکم ٹیکس آرڈیننس کی سیکشن 177 کی ذیلی شق 7 کے تحت کسی بھی ٹیکس دہندہ کو صرف معقول جواز کی صورت میں گزشتہ کچھ سال کے مسلسل آڈٹ کے لیے منتخب کیا جاسکتا ہے۔ دستاویز کے مطابق فیلڈ فارمشنز نے ایف بی آر کوبتایا کہ رٹ پٹیشن دائر میں ٹیکس دہندگان کی طرف سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ انہیں ٹیکس ایئر2012 کے آڈٹ کے لیے منتخب کیے جانے کے جواز اور وجوہ کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا۔

دستاویز کے مطابق ٹیکس دہندگان کا ٹیکس ایئر2012 کے آڈٹ کے لیے انتخاب بذریعہ رینڈم کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی ہوا ہے اور اس کے لیے کسی قسم کے کوئی پیرامیٹرز متعین نہیں کیے گئے، ایسے کیس بھی سامنے آئے ہیںکہ ٹیکس ایئر 2011 کے آڈٹ کیلیے منتخب ٹیکس دہندگان کو رینڈم کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی کے ذریعے ٹیکس ایئر2012 کے آڈٹ کے لیے دوبارہ منتخب کرلیا گیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیکس دہندگان کا ٹیکس ایئر 2012 کے آڈٹ کیلیے انتخاب پیرامیٹرز کے بغیرہوا، اس لیے ایف بی آر ہیڈکوارٹرز سے درخواست کی گئی ہے کہ پالیسی گائیڈ لائن جاری کی جائے تاکہ مقدمہ بازی کو کم کیا جاسکے۔

مزید : کامرس