تحریک انصاف نے اچھا شو کر لیا مگرپہلے جیسا جو ش و خروش نہیں تھا

تحریک انصاف نے اچھا شو کر لیا مگرپہلے جیسا جو ش و خروش نہیں تھا

  

تجزیاتی رپورٹ (جاوید اقبال +حنیف خان ) پاکستان تحریک انصاف نے پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکز سمجھے جانے والے شہر لاہور میں مہنگائی ،بے روزگاری اور بدامنی کے خلاف احتجاجی ریلی نکال کر ایسا ظاہر کیا ہے جیسے پی ٹی آئی نے حکومت کے خلاف اپنی مستقبل کی حکمت عملی کو واضح کردیا ہے مگر اتوار کے روز کی ریلی میں پی ٹی آئی کے شرکاءمیں وہ دم خم نظر آیا نہ وہ جو ش و جذبہ جو ماضی میں پی ٹی آئی کا طرہ امتیاز رہا ہے جو سونامی والوں کے خلاف ایک بہت بڑا سوال ہے جس کا جواب انہیں اپنے اندر تلاش کرنے کی ضرورت ہے دوسری طرف ریلی تو خالصتا لاہور کی تھی ۔مگر شرکاءمیں غالب تعداد کا تعلق بیرون لاہور سے نظر آیا لوگ گاڑیوں ،بسوں ،ٹرکوں میں لاہور پہنے جس میں راولپنڈی،نارووال، گوجرانوالہ، جنوبی پنجاب ، قصور، شیخوپورہ ،ننکانہ اور فیصل آباد سے سیالکوٹ تک کی بسیں موجود تھیں جن پر بینرز واضح کررہے تھے کہ یہ بیرون لاہور سے تعلق رکھتے ہیں لاہور سے یونین کونسلوں میں امیدواران کی تعداد موجود تھی کارکنوں کی تعداد کم تھی جس سے کہا جاسکتا ہے کہ کل ہونے والی ریلی میں میلہ بیرون شہر سے آنے والوں نے لگایا۔اتوار کے روز مال روڈ پر ہونے والی ریلی میں شرکاءکی تعداد کو دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ اگر یہ ناصرباغ میں جلسہ کرتے تو ناصر باغ کی جگہ زیادہ ہوجاتی ریلی میں بیرون شہرسے شامل ہونے والے قافلے جو 11بجے سے پہنچنا شروع ہوگئے تھے تاہم لاہوریوں کی جو تعداد آئی ان کی آمد دوپہر 2بجے کے بعد شروع ہوئی اور تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کی آمد کے ساتھ ہی بند ہوگئی اگر چہ تحریک انصاف نے لاہور میں مہنگائی کے نام پر اچھا شو کیا ہے مگر کمی رہی ہے تو اس جوش و جذبہ کی جو ان کے مینار پاکستان سمییت دیگر شہروں میں ہونے والے سونامی جلوسوں میں نظر آتا رہا تھا۔لاہور کی ریلی میں تحریک انصاف نے حکومت کے خلاف درخقیقت طبل جنگ بجا دیا ہے تحریک انصاف کے چیئر مین کے موڑسے لگتا ہے کہ ایک دفعہ پھر مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف آمنے سامنے آچکی ہیں ایسا لگتا ہے کہ سردی گذرتے ہی تحریک انصاف اپنی تحریک میں گرمی لائے گی اور حکومت کے خلاف مہنگائی بے روگاری اور بدامنی کو بڑے ہتھیاروں کے طور پر استعمال کرے گی جس کا جواب دینے کے لئے مسلم لیگ ن نے بھی حکمت عملی تیار کرلی ہے ۔اور لگتا ہے کہ حکومت سپورٹس فیسٹیول اور قرضہ سکیم سے سونامی کا مقابلہ کرے گی مگر یہ طے ہے کہ حکومت نے عمران خان کی سونامی کا رخ تبدیل کرنا ہے تو اس کے لئے انہیں مہنگائی اور لوڈشیڈنگ پر قابو پانا ہوگا بصورت دیگر پی ٹی آئی کی تحریک جون تک اپنے جوبن کو پہنچ جائے گی۔

مزید :

صفحہ اول -