تحریک انصاف کی ریلی کی جھلکیاں لاہور(جنرل رپورٹر+سٹاف رپورٹر)

تحریک انصاف کی ریلی کی جھلکیاں لاہور(جنرل رپورٹر+سٹاف رپورٹر)

٭ پاکستا ن تحریک انصاف کی مہنگائی کے خلاف لاہور میں پہلی ریلی مقررہ وقت کی بجائے ساڑھے چار گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوئی۔

٭ ریلی میں نو جوانوں کی بڑی تعداد شریک تھی جو مہنگائی کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے ،مال روڈ پر تحریک انصاف کی سونامی کے مختلف نعرے درج تھے ۔

٭ ریلی کا آغاز استبول چوک مال روڈ سے 4بجکر 15منٹ پر تحریک انصاف اور دیگر قائدین کی آمد پرہوا،قبل ازیں کارکنوں نے دو جیب کتروں شہزاد اور ناصر کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کردیا ۔

٭ ریلی کے موقعہ پر سکیورٹی کے انتظامات نہ ہونے کے برابر تھے ،مال روڈ پر ٹریفک بند ہونے کے باعث اردگر د کی سڑکوں پر گاڑیاںپھنسی رہیں۔

٭ وقت کی کمی کے باعث ریلی چیئر نگ کراس کی بجائے جی پی او چوک میں اختتام پذیر ہوگئی۔

٭ ریلی میں بلدیاتی امیدواروں کی کثیر تعدا د شریک تھی، خواتین کے لئے الگ ٹرک کروایا گیا ۔

٭ تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان ریلی میں 3بجکر 20منٹ پر پہنچے تو کارکنوں نے ان کا استقبال پرجوش نعروں سے کیا۔

٭ عمران خان کی آمد اور انکے خطاب کے دوران اکثریہ نعرے گونجتے رہے کہ دیکھو دیکھو کون آیا، شیر کا شکاری آیا۔

 ٭ دو چوروں کو پکڑنے کے بعد بھی ریلی میں شریک کئی افراد کی جیبیں کٹ گئیں ۔ریلی میں شریک کئی افراد نے منتظمین کو اس حوالے سے آگاہ کیا ۔ ریلی کے دوران کئی افراد اپنی قیمتیں موبائل فونز سے بھی محروم ہو گئے ۔

 ٭ رکن پنجاب اسمبلی میاں اسلم اقبال سینکڑوں کارکنوں کی قیادت کرتے ہوئے پیدل سفر کر کے ناصر باغ پہنچے ۔ میاں اسلم اقبال کی رہائشگاہ سے روانہ ہونے والے کارکن سارے راستے قیادت کے حق میں اورحکومتی پالیسیوں کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے ۔

 ٭ پاکستان تحریک انصاف پنجاب کے صدر اعجاز چودھری نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس نے دوسرے شہروں سے آنے والے قافلوں کو ریلی میں شرکت سے روکے رکھا ۔ پولیس نے مریدکے ، کامونکی اور دیگر شہروں سے آنے والے کارکنوں کی گاڑیوں کو ریلی میں شرکت نہیں کرنے دی اور انہیں روکے رکھا ، اس پر ریلی میں شیم شیم کے نعرے بلند ہونے لگے۔

 ٭ پاکستان تحریک انصاف کی مہنگائی کے خلاف ریلی کے سلسلہ میں مختلف مقامات پراستقبالیہ کیمپ لگائے گئے جہاں تحریک انصاف کیلئے تیار کئے جانےوالے نغمے سنائے جاتے رہے ۔ مہنگائی کے خلاف احتجاج میں شرکت کے لئے آنے والے کارکن ان نغموں کی دھنوں پر بھنگڑے ڈالتے رہے ۔

 ٭ ریلی میں شریک ایک وہ نوجوان توجہ کامرکز بنا رہا جس کا سر بالوں سے خالی تھا اور گنجا تھا اس نے سر پر ہائے مہنگائی ہائے مہنگائی کے نعرے سرخ رنگ سے لکھوائے ہوتے تھے۔

 ٭ ریلی کے شرکاءپرامن رہے ،عین وقت تک ضلعی انتظامیہ یہ دعوے کرتی رہی کہ ریلی نکالنے نہیں دی جائے گی تاہم جوں ہی مرکزی سیاسی قیادت نے ریلی کا آغاز کیا تو انتظامیہ کی طرف سے کوئی رکاوٹ نہ ڈالی گئی ،ریلی نکالنے دی گئی اورخار دار تار بھی ہٹالئے گئے۔

مزید : صفحہ اول