”تذکرہ حضرت میاں علی محمد خاں ؒ آف بسی شریف“ پر ایک نظر

”تذکرہ حضرت میاں علی محمد خاں ؒ آف بسی شریف“ پر ایک نظر
”تذکرہ حضرت میاں علی محمد خاں ؒ آف بسی شریف“ پر ایک نظر

  

آج کے دور میں جیسے جیسے ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہو رہی ہے، اسی تناسب سے پیروں کی تعداد بھی روز افزوں ہے، جس رکشے کی پشت دیکھو کسی نہ کسی بابا جی کی تسبیح بدست تصویر ملتی ہے، ساتھ القابات کی لمبی قطار درج ہوتی ہے۔ معلوم نہیں عوام کے ان بابوں سے کتنے دنیاوی اور روحانی معاملات سلجھ رہے ہیں، بہت لوگ تو ایسے بھی ہیں، جن کا کہنا ہے جینوئن بابے تو ماضی کا تذکرہ ہی بن کر رہ گئے ہیں۔ ایک وقت تھا ہمارے درمیان ایسے اہل دل موجود تھے، جن سے واقعی قلوب کو قرار اور ارواح کو سرور و انبساط ملتا تھا۔ وہ اخبار اور اشتہار کا سہارا لئے بغیر اپنے گردو پیش کو متاثر کرتے اور دِلوں کی ویران کھیتیوں کو سیراب کرتے تھے۔ آج میرے سامنے ماضی قریب کی ایک ایسی ہی ہستی کا تذکرہ موجود ہے، جسے دنیا حضرت میاں علی محمد خاں ؒ آف بسی شریف کے نام سے جانتی اور پہچانتی تھی۔ ان کے فضائل و محامد کو سائیں نذیر حسین فریدی نے ”گلہائے عقیدت“ کے عنوان سے مرتب کر کے فخر جہاں اکادمی گیمبر (اوکاڑہ چھاﺅنی) ضلع ساہیوال کی جانب سے شائع کیا ہے۔

زیر نظر تذکرہ میں حضرت میاں صاحب ؒ کے بارے میں40سے زائد اہل قلم نے نثری اور منظوم خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ ان میں صحافت، ادب اور دین۔ تینوں دائروں کے لوگ شامل ہیں۔ بعض نے آپ کو دیکھا تو پہلی نظر ہی میں ان کے دل نے گواہی دے دی کہ میاں صاحب ؒ واقعی صاحب کمال ہستی ہیں۔ بعض نے اپنی کوئی مشکل بیان کی تو وہ آپ کی دُعا سے آسان ہو گئی اور بعض باقاعدہ آپ کے دامن سے وابستہ ہوئے اور تادمِ آخر آپ کے ارشادات و ہدایات سے اپنے سینوں کو منور کرتے رہے۔ سب کے تاثرات اور تجربات قاری کے دل میں اہل اللہ کے لئے محبت کے چراغ روشن کرنے والے ہیں۔

ان مضامین کے مطالعہ سے آپ ؒ کی پاکیزہ زندگی کا ایک خاکہ سا نظر کے سامنے ابھرتا ہے۔ اس کے مطابق میاں علی محمد خاں1881ءمیں بسی عمر خان ضلع ہوشیار پور میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد حضرت خواجہ عمر خان ؒ زمیندار تھے، لیکن دینی علوم سے گہری و اقفیت رکھتے تھے۔ طبیعت میں غایت درجہ کی درویشی تھی۔ انہوں نے اپنے فرزند ارجمند کو اپنے وقت کے لائق اساتذہ سے دینی تعلیم دلائی۔ حضرت حکیم محمد موسیٰ امرتسری ؒ کے بقول،میاں صاحب میٹرک پاس کرنے کے بعد درس نظامی کی تعلیم کی طرف متوجہ ہو ئے تھے۔

حضرت علی محمد خاں روحانی تربیت کے لئے اپنے نانا جان حضرت میاں محمد خاں صاحب ؒ کے دست ِ حق پرست پر بیعت ہوئے۔ میاں محمد خاں حضرت شاہ محب اللہ کے حلقہ ارادت میں شامل تھے جو جامع مسجد دہلی کے جنوبی مشرقی حجرہ میں مقیم تھے۔ میاں محمد اپنے مرشد کی وفات تک دہلی میں رہے۔ علی محمد کے شب و روز ان کی صحبت میں بسر ہوتے تھے۔ 15مئی1914ءکو مرشد واصل بحق ہو گئے تو اہل سلوک کے ایک کثیر اجتماع نے جانشینی کی دستار میاں علی محمد خاں کے سر پر سجا دی۔ ملکی تقسیم کے وقت حضرت علی محمد خاں پاکپتن تشریف لے آئے اور حضرت بابا فرید گنج شکر ؒ کے مزار پُرانوار کے نزدیک مقیم ہو گئے۔ آپ کی بزرگانہ وجاہت کا کیا عالم تھا، اس کا جناب مجیب الرحمن شامی کی ایک روایت سے پتا چلتا ہے۔ لکھتے ہیں: دہلی میں اقامت کے دوران میاں صاحب کی دہلی کی معروف روحانی شخصیت مولوی عبدالسلام نیازی سے حضرت قطب الدین بختیار کاکی ؒ کے مزار پر ملاقات ہوئی۔ مولوی صاحب کا ناز مشہور تھا، لیکن حضور میاں صاحب کو دیکھا تو سراپا نیاز بن گئے۔ بے ساختہ مُنہ سے نکلا، ”جناب میرے دل کی آواز ہے کہ جبرائیل علیہ السلام جب انسانی شکل میں حضور اکرمﷺ کے پاس آتے ہوں گے تو وہ آپ کی شکل ہوتی ہو گی“۔

1945ءمیں جب قیام پاکستان کی تحریک چل رہی تھی، تو حضرت پیر صاحب مانکی شریفؒ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اس ملاقات کے بعد آپ نے اپنے عقیدت مندوں کو تحریک میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے تلقین فرمائی۔ آپ کا زیادہ وقت عبادت وریاضت اور حاجت مندوں کی عرض معروض سننے میں گزرتا۔ تصنیف و تالیف سے بھی دلچسپی تھی، لیکن اس کے لئے وقت کم ملتا تاہم تین علمی رسائل اپنی یادگار چھوڑے:

(1) راہ فردا (فارسی میں)

(2) تفسیرن والقلم المعروف میلاد نامہ

(3) مکتوب (در مسئلہ وحدة الوجود والشہود)۔ اس کے علاوہ بعض عربی مخطوطات کی تصحیح بھی فرمائی۔

حضرت علی محمد خاں ؒ شریعت کی کتنی پاسداری فرماتے تھے، اس کا اندازہ اس واقعہ سے لگا لیجئے کہ آپ دل کے عارضے کے ہاتھوں صاحب فراش تھے۔ ڈاکٹروں نے نقل و حرکت سے منع کر رکھا تھا، لیکن نماز کا وقت آیا تو اُٹھ کر نماز ادا کی۔ ڈاکٹر صاحب سے کہا، یہ زندگی اسی لئے تو درکار ہے کہ فرائض ادا کر سکوں۔ اگر فرائض ہی ادا نہ ہوں تو ایسی زندگی کس کام کی؟ عبادت و ریاضت کے ساتھ ساتھ آپ خدمت خلق میں بھی پیچھے نہ تھے۔ زیر نظر کتاب میں اس حوالے سے کئی بصیرت افروز واقعات شامل ہیں۔

آپ ؒ نے28جنوری1975ءبروز منگل لاہور میں وفات پائی اور اگلے روز درگاہ حضرت بابا فرید ؒ میں دفن ہوئے۔ آپ کا عرس ہر سال 15اور 16محرم کو زیر قیادت حضرت میاں محمود احمد خاں سجادہ نشین آف پاکپتن شریف منایا جاتا ہے۔ آپ کے کمالات پر کئی شعراءنے مدحیہ اشعار کہے ہیں، لیکن فارسی کے نامور شاعر مولانا غلام قادر گرامی کا خراج عقیدت بے مثال ہے:

مفتاح خزینہ ہائے سرمد ایں است

سجادہ نشین علی محمد ایں است

در حلقہ اولیا کہ سلکِ گُہر است

در مرتبہ الماس و زبر جد ایں است

مزید : کالم