پاکستان اور میونخ کانفرنس (1)

پاکستان اور میونخ کانفرنس (1)

  

انگریز تو برسوں برصغیر پاک و ہند پر حاکم رہے، اس لئے برطانیہ میں گاہے بگاہے باہمی دلچسپی کے متنوع تاریخی، علمی، ادبی اور تہذیبی موضوعات پر کانفرنسیں منعقد ہوتی رہتی ہیں۔ انگریزوںکے علاوہ دیگر مغربی اقوام کے نوآبادیاتی مفادات کے مراکز مشرقِ وسطیٰ، ترکی اور افریقی ممالک رہے، اس لئے برصغیر پر ان کی توجہ نسبتاً کم رہی، لیکن اب کچھ عرصے سے ان علاقوں کے اہل فکرو دانش اور علمی اداروں کے ارباب بست و کشاد نے برصغیر کے متفرق امور کو زیر بحث لانے اور انہیں سنجیدہ مطالعات کا موضوع بنانے کا آغاز کر دیا ہے۔ ماہ اکتوبر کے آخری ہفتے میں جرمنی میں پاکستان کے موضوع پرمنعقدہ کانفرنس اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی تھی۔

میونخ میں منعقدہ اس تین روزہ (25تا27اکتوبر) علمی کانفرنس کا موضوع ”پاکستان“ تھا اور اس میں راقم کے سوا تمام شرکاءکا تعلق جرمنی اور سوئٹزر لینڈ کی مختلف یونیورسٹیوں سے تھا۔ اس کانفرنس کے سبھی اجلاس میونخ یونیورسٹی کے نواح میں واقع شعبہ فلسفہ کے ہال میں منعقد ہوئے۔ روزِ اول افتتاحی تقریب میں اِسی شعبے کے سینئر اساتذہ نے مندوبین کا شکریہ ادا کیا اور برن یونیورسٹی کے پروفیسر ٹامس ورتس نے اس کانفرنس کے اغراض و مقاصد بیان کئے۔ اس کے بعد دو مقالات پیش کئے گئے، جس میں کاسل یونیورسٹی کے پروفیسر تیوڈور راتگیبر نے عالمی تناظر میں مسیحی اقلیت، بالخصوص برصغیر پاک و ہند کے حوالے سے2007ءکے بعد وقوع پذیر حالات و واقعات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ دوسرا مقالہ راقم کا تھا اور اس کا عنوان”پاکستان اور یورپ“ منتخب کیا گیا، جس میں برطانیہ کے علاوہ دیگر یورپی ممالک بالخصوص جرمنی، فرانس، آسٹریا وغیرہ کے ایسے مستشرقین کا تفصیل سے ذکر کیا گیا، جنہوں نے اپنی زندگی کا کچھ حصہ برصغیر میںگزارا اور یہاں کی علمی، ادبی اور لسانی روایات کو مستحکم کرنے میں گرانقدار خدمات سرانجام دیں۔ ان دو مقالات پربحث و مباحثے کے بعد ابتدائی اجلاس اختتام پذیر ہوا۔

دوسرے روز کی تین بھرپور نشستوں کا علی الصبح آغاز ہوا۔ پہلا محترمہ کرسٹینا اوسٹر ہیلٹ کا تھا، جو ہائیڈل برگ کے جنوبی ایشیا انسٹیٹیوٹ میں پڑھاتی ہیں۔ اردو زبان و ادب پر مضامین لکھتی رہتی ہیں۔ پاکستان کے بیشتر ادبی رسائل کے اعزازی مدیران میں ان کا نام شامل ہوتا ہے۔ اس کانفرنس میں انہوں نے ”پاکستان کی قومی زبان.... اردو“ کے حوالے سے اظہار خیال کیا۔ اردو کے آغاز و ارتقاءکے علاوہ اس زبان کی موجودہ حالت کا بھی ذکر کیا اور اسے قومی زبان کا درجہ دینے میں حائل رکاوٹوں اور مشکلوں کی بھی نشاندہی کی، لیکن اس کے ساتھ ہی رابطے کی زبان کی حیثیت سے اردو کی اہمیت کو تسلیم کیا۔ اردو زبان و ادب کی ترویج و ترقی میں پنجاب کی خدمات کا کھلے دل سے اعتراف بھی کیا۔

دوسرا مقالہ میونخ ہی کے مارٹن سیوکے فلیٹ نے مع تصاویر پیش کیا۔ 4جنوری2010ءکو گلگت بلتستان میں زلزلے نے وہاں کے ایک گاﺅں عطا آباد میں جو تباہی مچائی، اُس کے دور رس اثرات بیان کئے گئے، مثلاً دریائے ہنزہ کے طوفانی ریلوں نے بلند و بالا پہاڑی سلسلوں کو درہم برہم کر دیا۔ پاکستان اور چین کو ملانے والی شاہراہ قراقرم ٹوٹ پھوٹ گئی اور 30کلو میٹر لمبی ایک نئی و ادی ظہور پذیر ہو گئی۔ اس شکست و ریخت نے اس آفت زدہ علاقے کے باسیوں پر جو معاشی اور سیاسی اثرات مرتب کئے، مقالہ نگار نے ان کا بہ نظر غائر جائزہ پیش کیا۔

ڈومینیک شلوسر کا تعلق جرمنی کی ایئر فورٹ یونیورسٹی سے ہے۔ یہ وہی شہر ہے،جہاں گوئٹے اور نپولین کی ملاقات ہوئی اور یہیں معروف ماہر پاکستانیت این میری شمل کی ولادت ہوئی۔ مقالہ نگار شلوسر اسی یونیورسٹی کے استاد ڈاکٹر جمال ملک کی زیر نگرانی ڈاکٹریٹ کر رہے ہیں اور ان کا موضوع” شاہراہ مکہ“ کے جانے پہچانے نو مسلم سکالر محمد اسد کی حیات و تصانیف ہیں۔ اس کانفرنس میں ان کے پیش کردہ مقالے کا عنوان محمد اسد (1901ئ،1992ئ، قبول اسلام1926ئ) اور مریم جمیلہ (1927ئ،2012ئ، قبول اسلام1962ئ) تھا۔ ان دونوں کے مابین خط و کتابت کا سلسلہ چلتا رہا ہے، شلوسر صاحب نے ان خطوط پر تفصیلی اظہار خیال کیا، جو مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی ؒ اور مریم جمیلہ کے مابین لکھے گئے۔ یہ تمام مراسلات شائع ہو چکے ہیں(1956ئ)، لیکن ان میں تین ایسے مکتوبات ہیں، جن میں محمد اسد کا ذکر کیا گیا ہے۔ محمد اسد کی طرح مریم جمیلہ بھی یہودی النسل تھیں اور انہوں نے قبول اسلام سے قبل مولانا مودودی ؒ کے نام مکتوب(بابت31جنوری1961ئ) میں ان سے استفسار کیا تھا کہ انہوں نے محمد اسد کی اولین انگریزی کتاب ”اسلام دوراہے پر“ (مطبوعہ لاہور1934ئ) پڑھی ہے؟ جواباً مولانا موصوف نے اپنے مکتوبات (بابت 25جنوری1961ئ) میں نہ صرف اس کتاب کا، بلکہ صاحب کتاب سے اپنے ذاتی تعلق، مغربی تہذیب پر ان کے ناقدانہ تصورات اور شدید مالی مشکلات کے باعث ان کے طرز زندگی اور انداز فکر میں تبدیلیوں کا ذکر کیا۔ ان کی رائے میں انہیں مجبوراً بعض نامساعد تبدیلیوں کو تسلیم کرنا پڑا، لیکن اس کے باوجود دین اسلام پر ان کے محکم یقین اور بنیادی معتقدات جوں کے توں قائم و دائم رہے۔

 اس خط کے بعض مندرجات نے مریم جمیلہ مرحومہ کو غمزدہ کر دیا اور ان کے تبدیل شدہ رویوں اور خیالات سے خود کو محوظ رکھنے کے لئے دعا گو رہیں۔ اس کے باوصف وہ ”اسلام دوراہے پر“ کے بعض حصوں کی معترف اور اسلام سے ان کے گہرے جذباتی لگاﺅ کی معترف رہیں (بحوالہ مکتوب بابت8مارچ1961ئ)۔ مقالہ نگار نے ان خطوط کے مندرجات بالخصوص ان کی مغربی تہذیب پر تنقید کو موضوع بحث بنایا اور اس ضمن میں ان کے مماثل خیالات کا ذکر کیا۔ محمد اسد اور مولانا مودودی ؒ کے مابین تعلقات خاصے پرانے تھے۔ گاہے گاہے ان میں اتار چڑھاﺅ آتے رہے۔ دارالاسلام (پٹھان کوٹ، موجودہ مدھیہ پردیش بھارت) میں دونوں برسوں اقامت پذیر رہے،1947ءکے فسادات میں مولانا کو بحفاظت پٹھان کوٹ سے لاہور پہنچانے، بالخصوص دارالاسلام کے بانی چودھری نیاز علی خاں کے نام مولانا کے خط (غالباً 1936ئ) میں محمد اسد کے متعلق یہ رائے کہ”میرا خیال یہ ہے کہ دور جدید میں اسلام کو جتنے غنائم یورپ سے ملے ہیں، ان میں یہ سب سے زیادہ قیمتی ہیرا ہے“۔ محمد اسد نے بھی”شاہراہ مکہ“ کے حصہ دوم (مرتبہ راقم) میں مولانا کی دینی خدمات کا کھلے دل سے اعتراف کیا ہے۔ ان دونوں شخصیات کے باہمی تعلقات کا ایک الگ موضوع کے متقاضی ہیں۔ ممکن ہے، مقالہ نگار آئندہ چل کر اس موضوع پر تفصیل سے لکھیں۔

سہ پہر کی نشست میں تین مقالات پیش کئے گئے۔ پہلا مقالہ پرنسٹن یونیورسٹی کی جرمن خاتون ماریا نے پڑھا، جس کا عمومی موضوع برصغیر کے برطانوی دور میں مسلمانوں اور مسیحیوں کے مابین ہونے والے مناظروں سے متعلق تھا اور اس پس منظر میں معروف اہل حدیث عالم دین اور مفسر قرآن مولانا ثناءاللہ امرتسری (1868ئ،1948ئ) اور پادری برکت اللہ (1891ئ،1972ئ) کے مذہبی مباحث کا تفصیلی ذکر کیا۔ مو¿خر الذکر نے1907ءمیں شیعہ مسلک ترک کر کے دین عیسوی اختیار کیا تھا۔ انیسویں صدی عیسوی کے نصف دوم میں اسلام سمیت مختلف مذاہب، مسالک، فرقوں اور بعض اصلاحی تحریکوں کے عالموں، مبلغوں اور سربراہوں کے مابین مناظرے زور شور سے جاری تھے۔ ان میں مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان ہونے والے نزاعی اجتماعات سرفہرست تھے۔ اس ضمن میں جرمن پادری فانڈر (مولف ”میزان الحق“) اور مولانا رحمت اللہ کیرانوی (مو¿لف ”اظہار الحق“) کے مناظر ے تو تاریخی حیثیت رکھتے ہیں،اب ان پر ایک جرمن خاتون سکالر کرسٹین ماخر نے مبسوط کتاب (بزبان جرمن) قلمبند کر دی ہے (مطبوعہ برلن،1992ئ) ....(جاری ہے)

مزید :

کالم -