دہشت گردی کے خلاف نئی فورس

دہشت گردی کے خلاف نئی فورس
دہشت گردی کے خلاف نئی فورس

  

پنجاب میں دہشت گردی کی روک تھام کے لئے بنائی جانے والی انسداد دہشت گردی فورس کو پولیس کے بجائے بیوروکریسی کے کنٹرول میں دینے کی تجویز ان دنوں زیر غور ہے جس پر پولیس سروس آف پاکستان نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انسداد دہشت گردی فورس کا سربراہ پولیس کی بجائے ڈی یم جی کا افسر ہوگا اور محکمے کے دیگر تنظیمی ڈھانچے میں بھی پولیس کے بجائے آرمی کے ریٹائرڈ افسروں کو جگہ دی جائے گی، جبکہ نچلی سطح پر نفری کو براہ راست بھرتی کیا جائے گا۔ خیال کیا جارہا ہے کہ صوبے میں اس نئے شعبے کے قیام سے پولیس کی کارکردگی پر نہ صرف اثر پڑے گا،بلکہ انسداد دہشت گردی فورس کا قیام پولیس کی موجودگی پر سوالیہ نشان ثبت کرے گا۔ صوبے میں دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے پہلے قائم کاﺅنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ ختم کردیا جا ئے گااور سٹاف کو واپس بھیج دیا جائے گا جس سے پولیس میں افسروں کی تعداد میں اضافہ ہو جائے گااور ترقی کی رفتار مزید سست ہو جائے گی، جبکہ ایلیٹ پولیس کو صوبائی محکمہ داخلہ کے ماتحت کرنے سے پولیس میں ترقیوں کا بحران شدت اختیار کرنے کا بھی اندیشہ ہے۔ اس طرح انسداد دہشت گردی فورس کے قیام سے 1997سے صوبے میں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے قائم کردہ ایلیٹ فورس اور بعد ازاں صوبے میں قائم کردہ کاﺅنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ ختم ہو کر رہ جائیں گے اور پنجاب پولیس بھی محض وزراءاور اہم شخصیات کی سیکورٹی یا چوکیداری پر مامور ہو کر رہ جائے گی، جبکہ دہشت گردوں کو پکڑنے کے لئے بیوروکریسی کے براہ راست اختیار ہوں گے۔

دوسری جانب وفاقی حکومت انسداد دہشت گردی کا موثر قانون بھی پارلیمنٹ میں لے جانے والی ہے جس کے بارے میں وزیر داخلہ نے کابینہ کمیٹی برائے دفاع کے اجلاس کے بعد بتایا تھا کہ عام لوگوں کی حفاظت گلی کوچوں تک کی جائے گی کیونکہ سول اور فوجی سربراہان نے فیصلے کئے ہیں کہ دہشت گردوں کو مذاکرات کا آخری موقع ضرور دینا چاہئے اور اگر ہتھیار نہیں پھینکتے ہیں تو ان کے خلاف فوجی آپریشن کا آغاز کیا جائے۔محکمہ پولیس میںاوپر دی گئی بحث اسی تناظر میں زوروں پر ہے کیونکہ ان دنوں انسداد دہشت گردی فورس میں بھرتی کے لئے نوجوانوں کی بھرتی کا عمل بھی شروع ہے، جس کی سب سے بڑی کشش یہ ہے کہ اس فورس میں بھرتی ہونے والے کی تنخواہ کا آغاز ہی مبلغ 75,000/-روپے سے ہوگا۔ ممکن ہے کہ اس حوالے سے فنڈز بھی امریکہ بہادر ہی دے جس نے کبھی روس کے خلاف افغانستان میں جنگ کے لئے پاکستانی نوجوانوں کو جہاد کے نام پر اکٹھا کیا تھا تو آج ان مجاہدوں کے خلاف جنگ کے نام پر انسداد دہشت گردی فورس کی داغ بیل ڈال رہا ہے!

وزیر اعلیٰ پنجاب کا یہ بیا ن سونے پر سہاگے کے مترادف ہے کہ دہشت گردی کے دوران شہید ہونے والے پولیس جوانوں کے ورثا کو حکومت ایک کروڑ روپیہ اور نوکری دے گی!اس سے قبل ملک بھر کی سیاسی جماعتیں سر جوڑ کر بیٹھ گئی تھیں کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات ہی مسئلے کا حل ہے، لیکن اگر مذاکرات سے امن نہ آئے تو فوجی کارروائی سے شرپسندوں کا قلع قمع کردیا جائے ، ایسا لگتا ہے کہ انسداد دہشت گردی فورس کا قیام اسی سوچ کا مظہر ہے اور امن کے حصول کے لئے شروع کئے جانے والے سلسلے کی ایک کڑی ہے!اگر 11مئی 2013کے انتخابات سے کچھ ماہ پہلے کے حالات کاجائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ عوام کا مسئلہ نمبر ایک بجلی کی حد سے بڑھی ہوئی لوڈ شیڈنگ تھی ، اسی لئے عام انتخابات میں نون لیگ کے لئے عوامی پذیرائی کا سیلاب امڈ آیا کہ لوگ بجلی کے بحران کا حل چاہتے تھے ، انتخابات کے فوری بعد ایسا محسوس بھی ہوا کہ حکومت کی اولین ترجیح بجلی کی فوری اور سستی دستیابی ہے ،لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عیاں ہوتا جا رہا ہے کہ نہ تو بجلی کی فوری اور نہ ہی سستی دستیابی اس تیزی سے ممکن ہے جس کی توقع عوام نے انتخابات کے دوران نون لیگ سے لگائی تھی!

کیا ہی اچھا ہوتا کہ نون لیگ طالبان سے مذاکرات کی طرح بجلی کی فوری اور سستی دستیابی کے لئے بھی ایک اے پی سی کا انعقاد کرتی کیونکہ طالبان سے مذاکرات یا جنگ اگر امریکی مسئلہ ہے تو بجلی کی فوری اور سستی دستیابی عوامی مسئلہ ہے، لیکن حالات بتا رہے ہیں کہ موجودہ حکومت بھی کہیں اور کا زور کہیں اور لگا رہی ہے اور امن کی طرف منہ کرکے ساری نماز کی نیت کر چکی ہے، حالانکہ اس امن کا کیا فائدہ ہوگا جس میں بجلی نہ ہوگی، بجلی کی فوری اور سستی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح نہیں لگتی ، وزیر اعظم نواز شریف خود کہہ چکے ہیں کہ بجلی کی سستی دستیابی میں تین سے چار سال لگیں گے، گویا کہ اگلے عام انتخابات آ جائیں گے، تب تک لگتا ہے کہ بجلی اسی صورت میں ملے گی اگر کمیاب ہوگی ، جہاں اس کی فراوانی ہوگی ، بجلی کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں گی!افسوس تو یہ ہے کہ ڈرون بھی چل رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود عوام کو بجلی نہیں مل رہی، کچھ مل رہا ہے تو خوف اور دہشت اور دہشت گردی سے چھٹکارے کے لئے ہم اپنے نوجوان ایک نئی قسم کی جنگ میں دھکیلنے کی تیاری کر رہے ہیں، کاش ڈرون سے بجلی بھی پیدا کی جاسکتی ، ایسا ہوتا تو کیا ہی اچھا ہوتا!

کہیں ہم سے طالبان کی سیاست تو نہیں کی جارہی، طالبان سے پاکستان کو خطرہ ہے یا پاکستان طالبان کے لئے خطرہ بنتا جا رہا ہے، امریکہ ہماری چکی میں مٹی پیستاہے اور آٹا نکال لیتا ہے، ہماری نیشنل سیکورٹی کے اجلاس میں طالبان پر بحث کی جاتی ہے بجلی کی عدم دستیابی پر نہیں، حالانکہ پتھر کے زمانے میں دھکیلے جانے کے لئے بجلی کا بحران ہی کافی ہے ، کسی کارپٹ بمبنگ کی ضرورت نہیں ہے، ہم امن برائے امریکہ اور بجلی برائے پاکستان کی پالیسی پر گامزن ہیں، ہمارے بزنس مین بھی میڈیا پر سیخ پا دکھائی دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میڈیا دہشت گردی کے واقعات بڑھا چڑھا کر بیان کرتا ہے جس سے انگریز خریدار ملک میں نہیں آتے ، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ انگریزجیو یا دنیا ٹی وی نہیں، بلکہ بی بی سی اور سی این این دیکھتے ہیں ، ہمارے بزنس مین کیوں نہیں سمجھتے کہ خالی امن سے مشینیں نہیں چل سکتیں، اس کے لئے بجلی ضروری ہے اور بجلی کے حصول کے خالی بیان ہی آرہے ہیں ، حکومت کا سارا زور امن کے حصول پر لگ رہا ہے ، خواہ اس کے لئے ملک میں ایک اور جنگ ہی کیوں نہ شروع کرنی پڑے، لیکن سردیاں ہیں تو مذاکرات کی بات ہورہی ہے کیونکہ قبائلی علاقوں کے راستے مسدود ہیں اور فوجی کارروائی نہیں ہو سکتی ، یہی نہیں، بلکہ ڈرون طیارے بھی اس موسم میں نہیں اڑ سکتے ، جونہی سردی ختم ہوگی ، بادل چھٹیں گے تو پاک فوج اور امریکی ڈرون مل کر پیش قدمی کریں گے ، تب دہشت گرد بھی خود کش جیکٹیں پہن کر پاکستان کی شہری آبادیوں پر چڑھ دوڑیں گے۔ 

مزید : کالم