یہودی محسن تیرا شکریہ

یہودی محسن تیرا شکریہ
یہودی محسن تیرا شکریہ

  

جونز سالک1914ءکو نیو یارک میں پیدا ہوا۔ اس کے ماں باپ یہودی تھے۔ یہودیوں کے اس چشم و چراغ نے پوری دنیا کے انسانوں پر بہت بڑا احسان کیا کہ آج دنیا کا ہر انسان، چاہے وہ کسی بھی مذہب کا ہو، جونز سالک کو اپنا محسن سمجھتا ہے اور شاید رہتی دنیا تک لوگ اس کے لئے دعائیں کرتے رہیں گے۔ جونز سالک نے 1934ءمیں بی ایس سی کا امتحان پاس کیا۔ بی ایس سی کے بعد اس نے میڈیکل میں داخلہ لے لیا۔ اسے انسانی نفسیات، فطری عوامل اور انسانی رویوں کے بارے میں گہری دلچسپی تھی۔اس نے نیو یارک کالج آف میڈیسن سے بائیو کیمسٹری اور بیکٹیریالوجی میں ڈگری حاصل کی۔ 1941ءاس نے یونیورسٹی آف مشی گن کی لیبارٹری میں نوکری شروع کر دی اور ساتھ ہی راک فیلر فاﺅنڈیشن کے لئے بھی کام کرنے لگا۔ اس نے فلو وائرس پر تحقیق کا آغاز کیا، لیکن وہ یونیورسٹی آف مشی گن کی لیبارٹری میں خود کو آزاد محسوس نہیں کرتا تھا، اس لئے اس نے یونیورسٹی آف پٹس برگ سکول آف میڈیسن میں ڈین کی جاب آفر قبول کر لی۔1943ءمیں اس نے انفلونزا وائرس کو ختم کرنے کے لئے ویکسین تیار کر لی اور اس کے کامیاب تجربات کی دھوم مچ گئی۔

امریکی صدر فرینکلین روز ویلٹ جو خود بھی پولیو کا شکار ہو چکے تھے اور پولیو کے شکار معذور بچوں کی دیکھ بھال کے لئے ایک تنظیم چلا رہے تھے، ان تک جب جونز سالک کی اینٹی فلو ویکسین کی خبر پہنچی تو انہوں نے جونز سالک کو خصوصی ملاقات کے لئے بلایا اور اس سے درخواست کی کہ وہ پولیو کے خلاف بھی کوئی دفاعی ویکسیشن تیار کرے تاکہ ہر سال لاکھوں بچے معذور ہونے سے بچ سکیں۔ انہوں نے اسے کہا کہ اگر وہ کامیاب ہو گیا تو اس کا بنی نوع انسان پر بہت بڑا احسان ہو گا۔ صدر فرینکلین روز ویلٹ سے ملاقات کے بعد جونز سالک نے اگلے روز ہی پولیو وائرس پر کام شروع کر دیا۔ ابتدائی دنوں میں اُسے کامیابی حاصل نہ ہوئی، لیکن اس کی نیت کیونکہ اللہ کی مخلوق کی مدد کرنا تھی اور وہ انسانوں کو اس منحوس مرض سے نجات دلانے کے لئے کا م کر رہا تھا ، جس سے انسان ساری عمر کے لئے معذور ہو کر دوسروں پر بوجھ بن کر رہ جاتا ہے۔ اس کی نیت کا پھل اُس کو مل گیا، کیونکہ اللہ صرف انہیں دیتا ہے جو نیک نیتی سے محنت کرتے ہیں۔ ہاتھ پر ہاتھ دھرے سست اور کاہل لوگوں کو اللہ پاک بھی پسند نہیں کرتا، ایسے لوگوں کی قسمت میں ذلت و خواری اور محتاجی و غلامی ہوتی ہے۔

پانچ سال کی محنت، ریاضت اور تجربات کے بعد جونز سالک نے پولیو کے خلاف مدافعتی ویکسین تیار کر لی۔1952ءمیں اس نے اپنی ویکسین امریکی محکمہ صحت کے حوالے کر دی، جسے بچوں پر استعمال کر کے اس کے مثبت اثرات کے بعد دنیا کے دوسرے ممالک کے لئے بھی اقوام متحدہ کی درخواست پر بھیجا جانے لگا۔ آج میرے اور آپ کے بچے پاکستان جیسے پسماندہ ملک میں رہ کر پولیو جیسی منحوس بیماری سے محفوظ ہیں، تو اس کا کریڈٹ اللہ کے فضل کے بعد جونز سالک کو جاتا ہے، جس نے پولیو ویکسین تیار کر کے آنے والی کئی نسلوں کو محفوظ بنا دیا۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے پونیسیف کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا میں پولیو ویکسین یچوں تک نہیں پہنچ رہی اور خطرہ ہے کہ بڑے پیمانے پر بچے اس موذی مرض کا شکار ہو جائیں گے۔ پولیو ویکسین نہ پلانے والے لوگ عجیب جاہلانہ پروپیگنڈے کا شکار ہیں کہ اس سے تولیدی جرثومے مر جاتے ہیں اور مرد بانجھ پن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ سرا سر جھوٹ ہے۔ دنیا کے جن ممالک میں یہ مہم کامیابی سے چل رہی ہے، ان میں چین اور بھارت سرفہرست ہیں، جن کی آبادی سوا ارب سے بھی تجاوز کر چکی ہے، جبکہ ہماری وہ نسل، جس نے پولیو ویکسی نیشن کرائی تھی، وہ اب ماشا اللہ بال بچوں والی ہے، لہٰذا یہ فضول اور گمراہ کن پروپیگنڈہ ہے۔

خیبرپختونخوا کے وہ لوگ جو پولیو کے قطرے گھر گھر جا کر پلانے والے اپنے محسنوں کے شکر گزارہونے کی بجائے ان پر گولیاں چلا رہے ہیں، ان غیرت مندوں سے گزارش ہے کہ آپ لوگ اتنے ہی غیرت مند ہیں اور یہودیوں کی تیار کردہ ویکسین اپنے بچوں کو نہیں پلانا چاہتے تو اس کے مقابلے میں اپنی ویکسین تیار کر کے پولیو کے خلاف جہاد کا اعلان کریں۔ جہاد صرف بندوق اُٹھا کر لوگوں کو جان سے مارنے کا ہی نام نہیں، اپنے بچوں کو معذوری سے بچانا اور امت مسلمہ کو محتاجی سے نکالنا بھی افضل ترین جہاد ہے۔ اپنے بچوں کو معذور و ناکارہ بنانے کا ظلم کرنے کی بجائے ان پر ترس کھائیں۔ جہالت کے خول سے نکلیں اور اپنی نسل کو معذوری سے بچانے کے لئے پولیو ویکسین پلا کر جونز سالک کی اس جدوجہد پر اس کا شکریہ ادا کریں کہ اس یہودی نے اولیا اللہ والا کام کیا ہے اور ساتھ اپنے گریبانوں میں بھی جھانکیں، اپنی جہالت پر شرمندگی محسوس کریں کہ آج ہم چھوٹی سے چھوٹی بیماری کے علاج کے لئے یہود و نصاریٰ کی ٹیکنالوجی کے محتاج ہیں۔ تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی کے حصول کا اصل جہاد بھی شروع کریں۔ ہمارے عظیم نبی کریمﷺ کہ جنہوں نے اپنے آپ کو علم کا شہر کہا، آج ان کے امتی ہونے کے دعویدار علم میں سب سے پیچھے اور جہالت میں سب سے آگے ہیں۔ یہ ہمارا فرض تھا کہ ہم پولیو ویکسین، ہیپاٹائٹس، ٹی بی، کینسر، ایڈز، نابینا پن، بہرہ پن ، گردہ، دل، جگر اور آنکھ کی پیوند کاری جیسے علوم پر دسترس حاصل کر کے بنی نوع انسان پر احسان کر کے ثابت کرتے کہ ہم اس رحمت عالم کے امتی ہیں، جو انسانوں کا درد رکھتے تھے، مگر ہم جاہل کے جاہل ہی رہے۔

ہم نے علم دشمنی اور جہالت کو گلے لگا لیا۔ علم کے میدان میں ہم یہود و نصاری سے بُری طرح شکست کھا چکے ہیں۔ اب جہالت کی خفت مٹانے کے لئے ہم ہٹ دھرمی اور ڈھٹائی سے ہر سائنسی ایجاد پر کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں اور اسے حرام قرار دے کر خود کو پسماندگی کی گہری کھائی میں دفن کرنے پر بضد ہیں۔ اپنا نقصان کرنے اور اپنی نسل کو معذور کرنے کو مذہبی حق سمجھ ہے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں عمران خان نے مولانا سمیع الحق کے ساتھ مل کر اگر دوبارہ پولیو مہم کا آغاز کیا ہے، تو اسے نعمت سمجھئے۔ آج اگر ہم اپنی جہالت، ہٹ دھرمی اور ڈھٹائی پر اڑ کر اپنی نئی نسل کو پولیو کے قطرے نہیں پلاتے اور انہیں معذور ہونے دیتے ہیں، تو اس کا یہود و نصاریٰ کو کیا نقصان ہو گا، ہماری ہی آئندہ نسل جہالت کے ساتھ ساتھ جسمانی معذوری کا شکار ہو کر کرہ¿ ارض پر بوجھ بن جائے گی۔ ذرا سوچئے کہ ایسی نسل کا بوجھ کون برداشت کرے گا؟ یہ نسل ہمیں بددعائیں دیا کرے گی اور ساری عمر ہماری جہالت کا کفارہ ادا کرتی رہے گی۔

چھوڑیئے اپنی جہالت کو، اپنی نئی نسل پر رحم کیجئے۔ غیرت جو دراصل جہالت ہے، اس کی بھینٹ نوخیز بچوں کو نہ چڑھائیں۔ تسلیم کر لیں کہ ہم علم کے میدان میں بہت پیچھے ہیں۔ ہتھیار پہن کر دفاع کا کام فوج کو کرنے دیں، خون خرابہ کر کے معصوم لوگوں کا خون بہانا، بچوں کو تعلیم سے محروم رکھنا، سکولوں کو بموں سے اڑانا، پولیو ویکسین نہ پلانے دینا، یہ سب فعل اپنی نسل کی بربادی کے ہیں۔ یہود و نصاریٰ کا مقابلہ کرنا ہے، تو تندرست جسم اور درس گاہوں کی حفاظت کرو، اس کے بغیر مقابلہ ممکن نہیں۔ تباہی، بربادی، خون ریزی، ہٹ دھرمی اور جہالت کی بجائے اصلاح، فلاح،امن، تعلیم اور جدوجہد کاراستہ اپنایئے کہ عزت و کامیابی کے یہی راستے ہیں۔ اپنے بچوں کو زندہ درگور ہی کرنا تھا، تو کلمہ طیبہ پڑھنے اور عظیم نبی کریمﷺ کا امتی ہونے کا کیا فائدہ کہ یہ کام تو زمانہ جاہلیت میں بھی ہو رہے تھے۔ انہی مظالم، بداخلاقیوں اور جہالت کے خاتمے کے لئے ہی تو اللہ پاک نے ہمیں قرآن کریم اور نبی پاکﷺ جیسا کامل رول ماڈل عطا کیا، پھر ہم کیوں بھٹک رہے ہیں؟ انسانی فلاح کے ایسے کام کر جایئے کہ دنیا کا ہر انسان ہمیں اپنا محسن سمجھے اور ہم محسن انسانیت نبی پاکﷺ کے امتی ہونے کا حق ادا کریں۔ یہودی، عیسائی، ہندو، بدھ مت اور سکھ سب کہیں مسلمان امت تیرا شکریہ۔

مزید : کالم