اکیسویں صدی کا پاکستان

اکیسویں صدی کا پاکستان
اکیسویں صدی کا پاکستان

  

اکیسویں صدی کے پہلے تیرہ سال تو ہم نے برباد کر لئے، مزید کتنی دہائیاں نا اہلی کی بھینٹ چڑھیں گی، ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔اگر تو پوری دنیا پتھر کے دور میں بس رہی ہو تی تو پھر عام پاکستانی بھی صبر کر سکتا تھا، لیکن کراچی کا سمندر پار کرتے ہی نئی دنیائیں پوری چمک دمک سے زندگی آگے بڑھا رہی ہیں۔ نہ وہاں دہشت گردی کی لعنت ہے، نہ وحشیانہ قتل و غارت اور نہ ہی عوام کے جسموں کو بھنبوڑتے سیاستدان و بیوروکریٹ۔ جو تماشے پاکستان میں لگے ہوئے ہیں، ان کا انجام کسی صورت میں بھی اچھا نہیں ہوگا۔ یہاں ادارے عملاً باغی ہو چکے ہیں۔ امن و امان کی ذمہ دار پولیس غیر اعلانیہ حکمران بن چکی ہے۔ مدعی ہو یا ملزم، گناہ گار ہو یا بے گناہ، پولیس ہر طرف سے سرعام رشوت وصول کرتی ہے۔ تھانے فیکٹریوں کی مانند ہیں،جہاں ایس ایچ او مینجر کی حیثیت سے ڈیل کرتا ہے۔ اچھا ایس ایچ او وہ ہے جو ڈپٹی، ایس پی اور سی پی او کو خوش رکھ سکے۔ اب ایسی نا اہل اور بددیانت پولیس کے ہوتے ہوئے پاکستان کس طرح دہشت گردوں کا مقابلہ کر سکتا ہے؟صاف نظر آ رہا ہے کہ حکومتی امن مذاکرات بالآخر ناکام ہو جائیں گے۔ ایک یقینی جنگ سروں پر منڈلا رہی ہے۔

بعض لوگوں کے نزدیک بظاہر جنگ کے شعلے مدھم پڑ چکے ہیں۔ سفاکانہ کارروائیوں کے تسلسل میں بھی کمی نظر آ رہی ہے۔ طالبان قیادت کی ہلاکت اور القاعدہ رہنماﺅں کی گرفتاریوں کو بھی بڑی کامیابیوں سے تعبیر کیا جا رہا ہے، لیکن کیا محض ان عوامل کی بناءپر یہ دعوی کیا جا سکتا ہے کہ دہشت گردوں کے قدم واقعی اکھڑ چکے ہیں۔ کیا ریاستی قوتیں شرپسند عناصر کے دماغوں میں پنپتے خیالات تک رسائی حاصل کر چکی ہیں؟ کیا امن و امان کے ذمہ دار ادارے، تباہی کی مختلف اقسام کو بھگتاتے ہوئے ان صلاحیتوں سے مالا مال ہوچکے ہیں، جہاں دہشت گردوں کے آئندہ اہداف کی نشاندہی کی جا سکے؟کیا پالیسی میکر ،کورے کاغذ پر کھنچی بربادی کی ان آڑھی ترچھی لکیروں کو پڑھنے میں ماہر ہو چکے ہیں ، جو انتہائی شاطر دشمن کے ممکنہ اقدامات سے پردہ اٹھا سکیں؟

سوال بہت ہیں، لیکن جواب مایوس کن۔ دہشت گرد بدستور مضبوط ہیں، ان کا قلع قمع کرنا تو کجا ،ابھی تک یہ ادراک بھی نہیں کیا جا سکا کہ پاکستان بھر میں پھیلی کالعدم تنظیمیں مشترکہ مفادات کی خاطر، باہمی تعاون کی راہیں ہموار کر چکی ہیں۔ وہ مسلکی سائے متحرک ہو چکے ہیں جو گذشتہ کئی برسوں سے نحیف و نزار ہو چکے تھے۔ ان میں زندگی کی علامات وہ معاہدہ ہے، جس کے تحت ”فتح“ حاصل کرنے کے بعد متعلقہ علاقوں کی عملداری انہیں سونپ دی جائے گی۔ یہ معاہدہ کب، کہاں اور کتنے گروپوں کے درمیان ہوا، ہم سے زیادہ معلومات دبئی، سعودی عرب، ایران اور امریکہ کے پاس موجود ہیں۔ اس معاہدے کو تشکیل دینے اور جزئیات تیار کرنے والے خلاءمیں نہیں رہتے، اسی کرئہ ارض پر بستے ہیں۔ تعلق خواہ مشرق سے ہو یا مغرب سے ۔ جس قدر شدت سے پراکسی وار پاکستان میں لڑی جا رہی ہے ،اس کی سنگینی کا پوری طرح ادراک ابھی نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان ایسی ریاست میں بدل رہا ہے، جہاں مسلح گروپ عزائم کی تکمیل کے لئے آخری حدیں پھلانگنے پر کمربستہ ہو چکے ہیں۔ ان دہشت گردوں نے پراکسی وار کی پشت پناہی کرنے والی عالمی طاقتوں کے ایماءپر صوبوں، قبائلی پٹی اور آزادکشمیر کے علاقوں تک پنجے گاڑ لئے ہیں۔

گزرے برسوں میں انہی طاقتوں کے ایماءپر ممکنہ رکاوٹوں، ریاستی مدافعت، شہری نظام اور معاشی سرگرمیوں کی تفصیلات بھی اکٹھی کی گئی تھیں۔ مزید معلومات کے لئے آئیڈیالوجیکل دنیا میں بسنے والے وفادار کارکنوں کو متحرک کیا گیا۔ ان کارکنوں نے انتظامیہ، پولیس، سیاستدانوں، جاگیرداروں، فوجی گزرگاہوں، پلوں، دفاعی تنصیبات، علمائے کرام، مدرسوں، امام بارگاہوں، غیر ملکی ریستورانوں اور امیر علاقوں کے رہائشیوں کے متعلق ڈیٹا مرتب کرنا شروع کر دیا۔ ان تفصیلات کو باقاعدہ دستاویزات کی صورت میں پراکسی وارز ہیڈ کوارٹرز تک پہنچایا گیا۔ فوری نتائج کے لئے چند اہداف کو ترجیح دیتے ہوئے ہدایات جاری کی گئیں۔ انہی ہدایات کی روشنی میں بنک ڈکیتیوں، فوجی قافلوں پر حملوں اور خودکش بمباروں کے لئے متعلقہ گروپوں نے رضاکاروں اور فدائین کے نام پیش کئے۔ بالآخر ابدی مسرت کے حصول میں سرگرداں یہ فدائین پاکستان کو دنیا کا خطرناک ملک بنانے پر تل گئے۔

کیا یہ تعلیم سے بے بہرہ، وسائل سے عاری دہشت گرد اتنی بڑی کارروائیاں محض اپنی ذہانت اور اپنے ہی بل بوتے پر کر رہے ہیں، بالکل نہیں۔ ان دہشت گردوں کے پیچھے بڑے منظم دماغ اور وسیع وسائل کا استعمال ہو رہا ہے۔ جبھی تو یہ دیکھتے ہی دیکھتے پہاڑوں سے اتر کر ترقی یافتہ شہروں میں بھی پھیل چکے ہیں۔ انہوں نے جس سرعت کے ساتھ پنجاب اور سندھ کے جہادی گروپوں کو یکجا کرتے ہوئے اپنی اطاعت پر مجبور کیا ،وہ بھی حیران کن ہے۔ عالم جنون میں بستے یہ شدت پسند حیران کن حد تک باہم مماثلت رکھتے ہیں۔ بچپن جہالت کا شکار، جوانی غربت کا شہ کار۔ تاریخ، سیاست، علم، سائنس، ٹیکنالوجی انہیں ہر چیز سے نفرت ہے۔ ان کے رول ماڈلز عام انسانوں سے قطعی مختلف ہیں۔ ان کی فلاسفی کے مطابق ایک بہترین انسان وہ ہے جو حد درجہ نڈر اور بے باک ہو۔ نڈر ہونے کے لئے ضروری ہے کہ کسی بے گناہ کو قتل کرتے وقت لحظہ بھر کے لئے بھی ہاتھ نہ کپکپانے پائیں۔ بے باک ہونے کی نشانی ”مقصد“ کے حصول کے لئے جان کی قربانی۔ علم و ہنر سے دوری، ذرائع روزگار میں ناکامی اور ماضی کی میتھالوجیز میں الجھے ان شدت پسندوں کو روش ترک کرنے پر آمادہ کرنا انتہائی دشوار گذار مرحلہ ہے۔

ان دہشت گردوں کو پاکستان کے روشن مستقبل سے کوئی دلچسپی نہیں۔ یہ جس جہان میں بس رہے ہیں ،وہاں ”روشنی“ کے معنی بھی مختلف ہیں۔ پچاس ، ساٹھ کی دہائی ہوتی تو شاید انہیں راہ راست پر لانے کے لئے ایک آدھ دہائی کی مزید قربانی دی جا سکتی تھی ، لیکن وقت اب ایک مشکل کروٹ لے چکا ہے۔ ریاست بے پناہ اندرونی و بیرونی چیلنجوں میں گھر چکی ہے۔ عام لوگ زندگی کا رشتہ برقرار رکھنے کی خاطرکڑی جدوجہد سے گزر رہے ہیں۔ پاکستان کسی نئے ایڈونچر ازم کے قابل ہی نہیں رہا۔ آج یکجہتی کی ضرورت ہے۔ اتفاق ہوگا تو غیر ملکی انویسٹر بھی آئے گا اور برین ڈرینج بھی رکے گی۔ نا اتفاقی شر کی قوتوں کو مزید مضبوط کرے گی۔ امن کی خاطر ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے۔ چارو ناچار اگر جنگ کی طرف جانا پڑ گیا تو یہ بہت بدقسمتی کی بات ہوگی۔ نہ صرف غیر ملکی سرمایہ کاری رکے گی، بلکہ گلی محلوں میں بستے چھوٹے چھوٹے جرائم پیشہ گروہ بھی تفویت پکڑیں گے۔ پارلیمنٹ سے درخواست ہے، بھلے دنیا بھر کے معاملات پر سیاست چمکائیں، لیکن خدارا اس مسئلے پر تو ایک ہو جائیں۔ دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے نئی فورس بنائیں۔ یہ جو پولیس نے واویلا شروع کر رکھا ہے کہ وہ دہشت گردوں سے بھی نمٹ لے گی ،خدارا اس جھانسے میں نہ آئیں۔ انہیں مال بنانے سے فرصت نہیں، یہ خاک دہشت گردی سے نمٹیں گے۔نہ یہاں شہروں کی انٹرینس پر سکینرز، نہ تجربہ کار بم ڈسپوزل سکواڈ، نہ سیکیورٹی کی خامیوں کے بارے مےںآگاہی۔ لاکھوں بس سٹاپ، پلازے، بازار، پارکس، سبھی اللہ کے بھروسے پر چل رہے ہیں۔ پاکستان میں حکومتی اور پرائیویٹ سیکیورٹی کا ایسا امتزاج ہونا چاہئے جو رات کی تاریکیوں میں حملہ آور ہونے والوں کو روک سکے۔ سماج اس طرح محفوظ نہیں ہوتے۔ اس طرح وقت تو گذارا جا سکتا ہے دیرپا کامیابی حاصل نہیں کی جاسکتی۔  ٭

مزید : کالم