ملکہ ترنم نور جہاں کی 13ویں برسی آج منائی جائے گی

ملکہ ترنم نور جہاں کی 13ویں برسی آج منائی جائے گی
 ملکہ ترنم نور جہاں کی 13ویں برسی آج منائی جائے گی

  

لاہور(حسن عباس زیدی)ماہ دسمبر شوبز انڈسٹری کی شخصیات کے لئے اکثر بھاری ثابت ہوا ہے ، کئی معروف فنکار اس مہینے میں ہم سے بچھڑ گئے ۔چند دن پہلے 17دسمبر کو لیجنڈ اداکار ، رائٹر، ڈائریکٹر کمال احمد رضوی داغ مفارقت دے گئے۔ اسی طرح گلوکارہ کوثر پروین ،استاد دامن اور اداکار ساقی بھی اسی ماہ جدا ہوئے ۔اداکار ساقی کی 28ویں برسی آج منائی جارہی ہے جبکہ 23دسمبر یعنی کل لیجنڈ گلوکارہ ملکہ ترنم نورجہاں کے ساتھ اداکار اظہار قاضی اور استاد تصدق علی خان کی بھی برسی ہے۔ موسیقی کی دنیا کا ذکر سروں کی ملکہ نورجہاں کے بغیر مکمل نہیں ہوتا،گیت ہو یا غزل میڈم کی آواز کانوں میں رس گھولتی ہے،میڈم کی صلاحیتوں کا اعتراف صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں موسیقی کے قدردان کرتے ہیں،نورجہاں کو گزرے 13برس ہونے کو آئے مگر آج تک کوئی ان کی طرح فن کا جادو نہیں جگا سکا،کئی گلوکاروں نے ان کی نقل کی ، کوئی ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرتا رہا، کسی نے ان کے گلدستے سے چند پھول چننے کی کوشش کی مگر کوئی نورجہاں ثانی نہ بن سکا،بے شمار کامیاب فنکاروں کو پس پردہ آواز کے ذریعے کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کرنے والی عظیم گلوکارہ نے اپنا فلمی کیریئر 1930ء میں خاموش اداکاری والی فلم ’’حنا کے ترسے‘‘ سے شروع کیا جبکہ فلمی ہیروئن کے طور پر ان کے کیرئیر کا آغاز 1942ء میں ’’خاندان‘‘ فلم سے شروع ہوا۔ اس فلم کیلئے غلام حیدر کے کمپوز کئے ہوئے تمام گانے سپر ہٹ ہوئے اور اس دور کے مقبول ترین گانوں میں شمار ہوئے۔ اس طرح نور جہاں کیرئیر کے آغاز میں ہی گلوکارہ اور اداکارہ کے طور پر مشہور و مقبول ہو گئیں۔ انہوں نے ممبئی میں کئی بھارتی فلموں نادان، نوکر، لال حویلی، دل، ہمجولی اور جگنو وغیرہ میں کام کیا۔ بعد ازاں قیام پاکستان کے بعد 1947 میں وہ لاہور منتقل ہو گئیں جہاں پر انہوں نے اداکاری اور گلوکاری کا سلسلہ جاری رکھا۔ نور جہاں نے دوپٹہ، گلنار، انتظار، لخت جگر، کوئل اور انار کلی میں کام کیا۔ بعد ازاں نور جہاں نے 1960 سے 1970 کے عشرے میں پنجابی فلموں کیلئے گانے گائے جو کہ سپرہٹ ہوئے۔

انہوں نے ایک ہزار فلموں کیلئے گیت گائے جن میں سے زیادہ تر مقبول عام ہوئے۔ ملکہ ترنم نور جہاں کے دل میں پاکستان کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی اور انہوں نے 1965ء کی جنگ میں اپنی آواز میں رضا کارانہ طور پر کئی ترانے گائے جو کہ بڑے مقبول ہوئے اور ان ترانوں سے پاکستانی فوج اور عوام کا حوصلہ بلند ہوا۔ اللہ وسائی کے نام سے 21 ستمبر 1926 کو پیدا ہونے والی نور جہاں نے 9 سال کی عمر میں چائلڈ گلوکارہ کے طور پر گانا شروع کیا۔ ملکہ ترنم نور جہاں نے اپنا آخری نغمہ 1996 میں ریکارڈ کرایا جس کے بعد خرابی صحت کی بناء پر ا نہوں نے گلوکاری ترک کردی اور23 دسمبر 2000ء کو انتقال کر گئیں۔ نصف صدی سے زائد عرصہ تک موسیقی کی سلطنت اور کروڑوں سامعین کے دل ودماغ پر حکمرانی کرنیوالی ملکہ ترنم نورجہاں کے حوالے سے عظیم اداکار دلیپ کمار نے بھی اپنے ایک انٹرویو میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ نورجہاں نے ’’پلے بیک سنگنگ‘‘ میں جو اُسلوب اور انداز وضع کیا وہ فلمی موسیقی کالازمی جُز بن گیا ۔ اصل میں نورجہاں کی آواز نے فلمی موسیقی کو وہ جمالیات بخش دئیے تھے اور اس کی وجہ سے یہ آج تک سجی ہوئی ہے۔ دلیپ کمار نے کہا دنیا میں فلم اور میوزک ریکارڈنگ کی ایجادات کو متعارف ہوئے ابھی تھوڑا عرصہ ہوا تھا اس لئے اس تکنیک کو سیکھنے کے لئے نہ تو انسٹی ٹیوشنز تھے اور نہ ہی فنکاروں کی کوئی ٹریننگ تھی ۔ حیرت انگیز امر ہے کہ نورجہاں اور ان کے دوسرے ساتھیوں نے جو کام کیا وہی ان انسٹی ٹیوشینز کی بنیاد اور سلیبس بنا۔ لتا منگیشکر نے بھی اسی طرح ملکہ ترنم نورجہاں کو ٹریبوٹ پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ سبھی لوگ جانتے ہیں کہ میں نے انہیں ہمیشہ ’’نورجہاں دیدی ‘‘ کہاہے ، وہ سچ مچ میری بڑی بہن تھیں انہیں بڑی فنکارہ بھی تسلیم کرتی ہوں ۔ وہ اپنی تمام عمر سُر میں گائیں ان کا سب سے بڑا کریڈٹ یہ ہے کہ انہوں نے ’’پلے بیک موسیقی‘‘ کو وہ انداز بخشا جسے گذشتہ 60 سالوں سے نقل کیا جارہا ہے ۔ لتا منگیشکر نے کہا کہ مُجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ جہاں برصغیر کی فلم اور سنیما نے بہت ترقی کی ہے وہاں موسیقی کے شعبے میں زوال اور عامیانہ پن کے علاوہ کچھ حاصل نہیں کیا گیا ۔ لتا منگیشکر نے کہا کہ میں نے نورجہاں کے انداز کو بنیاد بنا کر اپنا ایک اسلوب وضع کیا جسے چاہنے والوں نے بہت سراہا ۔ لتا منگیشکر نے کہا کہ دنیامیں جو آتا ہے اسے ایک نہ ایک دن تو واپس جانا ہوتا ہے مگر نورجہاں جیسے دنیا میں آئیں انہوں نے کروڑوں لوگوں کے دل جیتے اور بھرپور زندگی گزار کر اوپر والے کے پاس گئیں یہ بہت کم انسانوں کو نصیب ہوتا ہے ۔ملکہ ترنم نورجہاں کی برسی کے حوالے سے گلوکارہ شاہدہ منی نے کہا کہ نورجہاں کی جدائی ایک گہرا گھاؤ ہے جو کبھی نہیں بھر پائے گا۔رواں صدی میں ان جیسی فنکارہ کا آنا ممکن نہیں۔ ان کی گنڈا بندھ شاگرد گلوکارہ ترنم ناز نے کہا کہ وہ اپنے نام اور کام کی طرح انسان بھی بہت بڑی تھیں جو ہمیشہ نئے آنیوالوں سے شفقت کرنے کے ساتھ ان کی حوصلہ افزائی بھی کرتی تھیں ان کی وفات سے فلمی موسیقی یتیم ہوگئی ہے اور آج تک کوئی دوسری سنگر ان کا خلا پر نہیں کرسکی۔میوزک ڈائریکٹر ذوالفقار عطرے نے کہا کہ نورجہاں ایک لاجواب شخصیت تھی جو صدیوں بعد پیدا ہوتی ہیں‘ اگر کوئی گائیکی میں اپنا مقام بنانا چاہتا ہے تو وہ میڈم نورجہاں کی شخصیت کو سامنے رکھ کر چلے جس نے موسیقی کو باقاعدہ سیکھا ہے۔گلوکارہ سائرہ نسیم نے کہا کہ وہ موسیقی کی ایک مکمل درس گاہ تھیں‘جنہیں فلمی ‘ غیر فلمی ‘ غزل سمیت ہر انداز کے گانے پر مکمل عبور حاصل تھا‘اگر اس نے غزل گائیکی تو کمال کردیا ‘اس کی وفات موسیقی ایک حقیقی ملکہ سے محروم ہوکر رہ گئی ہے۔

مزید :

کلچر -