پاکستان میں اسلامی بینکاری اور برآمدات کا فروغ

پاکستان میں اسلامی بینکاری اور برآمدات کا فروغ
 پاکستان میں اسلامی بینکاری اور برآمدات کا فروغ

  

پوری دنیا میں اسلامی بینکاری ایک مقبول پروڈکٹ بن چکی ہے، اس کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ اسلامی بینکاری غیر مسلم بینک کر رہے ہیں۔ غیر مسلم بینکوں کو اسلامی بینکاری کی بدولت حیرت انگیز منافع حاصل ہو رہا ہے۔ پاکستان میں بھی اسلامی بینکاری آہستہ آہستہ اپنے قدم مضبوطی سے جما رہی ہے۔ اسلامی بینکاری کے بہت سے ادارے وجود میں آ چکے ہیں۔ موجودہ حکومت نے اسلامی بینکاری کو فروغ دینے کے لئے خصوصی انتظامات کئے ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے اہم کردار سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈپٹی گورنر سعید احمد ادا کر رہے ہیں۔ اس بات کا انکشاف چند روز پہلے ایک ہوٹل میں اسلامی بینکاری پر ہونے والے سیمینار کے دوران ہوا۔ وفاقی وزیر خرانہ اسحاق ڈار اس تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے، انہوں نے تفصیل سے بتایا کہ پاکستان میں اسلامی بینکاری کو فروغ دینے کے لئے حکومت بہت اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ اس ضمن میں سٹیٹ بینک آف پاکستان، حکومت اور بینکوں کے درمیان بہترین رابطے کا کردار انجام دے رہا ہے اور اسلامی بینکاری کے راستے میں جو مشکلات حائل ہیں انہیں دور کرنے کے لئے سٹیٹ بینک حکومت کے ساتھ مل کر عملی اقدام کر رہا ہے۔

اس تقریب میں ممتاز بینکار میاں منشاء کے علاوہ متعدد بینکوں کی اہم شخصیات نے بھی شرکت کی۔ سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر اور یونائیٹڈ بزنس گروپ کے چیئرمین افتخار علی ملک نے بھی اس سیمینار میں شرکت کی۔ اسلامی بینکاری کی پاکستان میں پیش رفت پر بات کرتے ہوئے افتخار علی ملک نے بتایاکہ پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا۔ قائد اعظم محمد علی جناحؒ ہر جگہ دو قومی نظریئے کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے تھے کہ پاکستان میں اسلامی ثقافت و معیشت کو فروغ دیا جائے گا۔ بدقسمتی سے ان کے جانشین قائد اعظمؒ کے وژن کو فراموش کر بیٹھے، لیکن اب ایک بار پھر پاکستان معاشی طور پر ٹیک آف کی پوزیشن میں آ رہا ہے۔ اسلامی بینکاری معیشت کی وسعت میں اہم کردار ادا کرے گی۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بھی پاکستان کی معیشت کو مضبوط کرنے اور زر مبادلہ کے ذخائر ایکسپورٹ کے ذریعے بڑھانے کے لئے ایک روڈ میپ بھی تیار کر کے حکومت کو پیش کر دیا ہے۔جلد ہی نئی تجارتی پالیسی بھی سامنے آنے والی ہے، اس پالیسی کو بنانے میں یونائیٹڈ بزنس گروپ اور ایف پی سی سی آئی نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے اور تمام سٹیک ہولڈرز کو اکٹھا کر کے وزیر اعظم میاں نوازشریف کی صدارت میں ایک پانچ گھنٹے کی نشست رکھی جس کی وجہ سے نئی تجارتی پالیسی ، خصوصاً ایکسپورٹ پالیسی حقیقت پسندانہ ہو گی اور تمام چیمبرز اور ایسوسی ایشنوں کے لئے قابل قبول ہو گی۔

اسلامی بینکاری کی مقبولیت اب ہر طرف صاف نظر آ رہی ہے۔ نئے اسلامی بینک بھی پاکستان میں قائم ہور ہے ہیں اور تقریباً تمام بڑے کمرشل بینک اسلامی بینکاری کو بطور ایک پروڈکٹ مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ سٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر سعید احمد تقریباً 2013ء میں اپنے عہدے پر آئے تھے۔ ان کے پاس مشرقِ وسطیٰ میں اسلامی بینکاری کا وسیع تجربہ موجود ہے۔ پاکستانی ہونے کی وجہ سے ان کی بہت شدید خواہش ہے کہ پاکستان میں اسلامی بینکاری بھرپور کامیابی حاصل کرے۔ اس وقت تک ان کی کارکردگی ہر لحاظ سے قابل تعریف ہے ،کیونکہ حکومت اور کمرشل بینکوں کے درمیان بہترین رابطے کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ مجھے خود متعدد کمرشل بینکوں کے اعلیٰ عہدیداروں نے بتایا کہ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ کمرشل بینک اسلامی بینکاری کو فروغ دینے کے لئے جو کوششیں کر رہے ہیں، وہ صرف اس لئے کامیاب ہو رہی ہیں کہ ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک اس سلسلے میں ہماری تمام جائز شکایات اور مشکلات نہ صرف حکومت تک پہنچا رہے ہیں، بلکہ ان مشکلات کو ختم کرنے کے لئے قابل عمل حل بھی تجویز کر رہے ہیں۔ اس وجہ سے امید ہے کہ آئندہ چند سالوں میں پاکستان کے اندر اسلامی بینکاری کو زبردست فروغ حاصل ہو جائے گا۔مَیں وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا شکرگزار ہوں کہ وہ محفلوں میں میری خدمات کا تذکرہ ہمیشہ اچھے الفاظ کے ساتھ کرتے ہیں۔ اسلامی بینکاری کے علاوہ سٹیٹ بینک کا ایک اہم کارنامہ پاکستانی برآمدات کے لئے روڈ میپ تیار کرنا ہے۔ روز نامہ پاکستان پہلے ہی تفصیل سے لکھ چکا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف کی شدید خواہش ہے کہ پاکستانی برآمدات کو ڈبل کر دیا جائے۔ اس مقصد کے لئے حکومت تمام سفارشات پر عمل درآمد کے لئے تیار ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے برآمدات میں اضافے کے لئے روڈ میپ بھی تیار کر کے پیش کر دیا ہے، جس کی بھرپور جھلک نئی آنے والی تجارتی پالیسی میں نظر آئے گی۔

سٹیٹ بینک کی سفارشات کے مطابق ملک میں انرجی اور لا ء اینڈ آرڈر کی صورت حال تیزی سے بہتر ہو رہی ہے، اب پیداواری یونٹوں کو چلانے والے فعال ہوئے ہیں کہ ان کے برے دن ختم ہونے والے ہیں ،سرکاری اور نجی شعبے میں شراکت اور خام مال کی ہمہ وقت فراہمی بہت ضروری ہے۔ پیداوار بڑھانے کے لئے افرادی قوت کی استعدادِ کار میں اضافہ بھی ضروری ہے، اس مقصد کے لئے متعدد ادارے سرگرم ہیں۔ انسانی مہارت سب سے بڑا سرمایہ ہے، لیکن عالمی مقابلے بازی کی فضا میں پاکستانی کاریگروں کی استعدادِ کار میں اضافے کے ساتھ زیادہ پیداوار دینے والے صنعتی یونٹوں کی تنصیب بھی ضروری ہے۔ بہت سے پاکستانی نئی چیزیں بنا لیتے ہیں، لیکن دانشورانہ قوانین سے لاعلمی کی وجہ سے دوسرے لوگ اسے لے اُڑتے ہیں اور رجسٹریشن کرانے کے بعد خود فائدہ اٹھاتے ہیں، اس لئے دانشورانہ قوانین سے فائدہ اٹھانا بہت ضروری ہے۔ گزشتہ دس سال میں عالمی تجارت میں مسابقت بڑھنے اور پاکستان کے صرف چند شعبوں تک محدود ہونے سے ہماری ایکسپورٹ بھی فلپائن اور انڈونیشیا کی طرح ایک ہی دائرے میں موجود ہیں۔ جبکہ نئی پالیسیوں کو اپنا کر پاکستان اپنی برآمدات میں سالانہ سو فیصد اضافے کی صلاحیت رکھتا ہے، انشاء اللہ پاکستانی برآمدات بڑھنے سے بے روز گاری کم ہو گی، زرِ مبادلہ کے ذرائع بڑھیں گے، جس کی وجہ سے ہمیں عالمی مالیاتی اداروں سے قرضے نہیں لینے پڑیں گے۔

مزید :

کالم -