مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے

مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے
 مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے

  

ہمسایہ ملک بھارت کی وزیرخارجہ محترمہ سشماسوراج پاکستان تشریف لائیں ۔ یہ ایک خوش آئند بات ہے۔ دونوں ملکوں میں آمد و رفت کا دروازہ تو کھل گیا ہے۔ یہ دروازہ ہمیشہ کھلا رکھنا ہوگا۔ مجھے تو ہر گز کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ ہمارے تمام دیرینہ مسائل حق و انصاف کی بنیادوں پر حل نہ ہوں۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان سب سے بڑا اور اہم ترین مسئلہ کشمیر ہے۔1947ء سے یہ مسئلہ جوں کا توں حل طلب ہے۔ جب تک یہ مسئلہ انسانی بنیادوں پر حل نہیں ہوگا۔ اس وقت تک پاکستان اور بھارت کے درمیان اچھے ہمسایوں جیسے تعلقات پیدا نہیں ہو سکیں گے۔ باقی تمام مسائل مسئلہ کشمیر سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس مسئلے کے حل کی طرف تمام تر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ آئیں ہم سب مل کر اس مسئلے کو حل کرتے ہیں۔ جموں و کشمیر کے دو کروڑ کے لگ بھگ لوگ اس مسئلے کے اہم ترین فریق ہیں۔ مَیں خود اس مسئلے سے متاثر ہوا تھا۔ وہ میرا بچپن کا زمانہ تھا۔ اس وقت تمام لوگوں کا یہ خیال تھاکہ مسئلہ کشمیر جلدحل ہو جائے گا اورجموں و کشمیر کے تمام مہاجرین واپس اپنے وطن کو جا سکیں گے۔

اسی مسئلے کے انصاف پر مبنی حل سے ہی پاکستان اور بھارت دونوں کا مستقبل جڑا ہوا ہے۔ اس مسئلے کا ایسا کیا حل ہے جو پاکستان بھارت جموں و کشمیر کو ایک ہی وقت میں قابل قبول ہوگا۔ یہ بات سامنے رکھی جائے کہ ریاستی لوگوں کی آبادی واضح اکثریت میں مسلمان ہے۔ دوقومی نظریہ کی بنیاد پر بھارت اور پاکستان معرض وجود میں آئے ہیں۔ کیا دو قومی نظریہ کی بنیاد پر جموں و کشمیر کے مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے یا اس کے متبادل کوئی اور قابل قبول حل موجود ہے؟ دوقومی نظریہ کی بنیاد پر ہی ریاست جموں و کشمیر کے مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے۔ اس سکیم کے تحت گلگت و بلتستان اور آزاد کشمیر ایک علیحدہ اور منفرد شکل اختیار کر چکے ہیں۔ میرے نزدیک یہ تمام علاقے کسی بھی لحاظ سے متنازع نہیں ہوں گے۔ وہاں کے لوگ سو فیصد خوش ہیں اور انہوں نے ہر لحاظ سے سرزمین پاکستان کو اپنا وطن بنا لیا ہے۔ اوریہ لوگ خود پاکستانیوں سے بھی زیادہ پاکستانی ہیں۔ مَیں خود ان لوگوں میں شامل ہوں۔ ہماری زندگی اور موت پاکستان سے وابستہ ہو چکی ہے۔ تاقیامت کبھی پاکستان سے علیحدگی کا سوال پیدا نہیں ہوگا ۔کشمیری النسل لوگمدتوں سے پاکستان میں آباد چلے آ رہے ہیں۔

ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی مثال کو سرفہرست رکھیں۔ پاکستان میں کشمیریوں نے شہر کے بعد شہر آباد کر رکھے ہیں۔ دیگر شہروں کے علاوہ لاہور، گوجرانوالہ سیالکوٹ میں بھی کشمیری لوگ اکثریت میں آباد ہیں۔ اسی بات کی بنیاد پر وادی کشمیر کے لوگ پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ جموں کے لوگ بھی قربت کی وجہ سے پاکستان کے ساتھ رہنا پسند کریں گے۔ بھارتی رہنماؤں سے میری درخواست ہے کہ وہ مجبور و محکوم شہریوں کی آواز کو غور سے سنیں اور ان کی زندگی سے متعلقہ تمام حقوق دیں، اسی اصول کے پیش نظر ’’یو این او‘‘ نے قراردادیں منظور کرکے یہ کہا تھا کہ ریاست جموں و کشمیر کے لوگ ہی اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کریں گے۔ اگر بھارت کو رتی برابر بھی اس بات کی امید ہوتی کہ کشمیری ان کا ساتھ دیں گے تو وہ جموں و کشمیر میں رائے شماری کروا دیتا۔بھارت اچھی طرح جانتا ہے کہ جس طرح برصغیرکے تمام مسلمانوں نے یک زبان ہو کر پاکستان کے قیام کی حمایت کی تھی، بالکل اسی طرح خوشی کے ساتھ کشمیر ی کریں گے۔

بھارت اس حقیقت کوکبھی فراموش نہیں کر سکے گا کہ کشمیری روز اول سے پاکستان کے حامی ہیں۔بھارت ہزاروں میل دور سے آکر زبردستی کشمیریوں کو غلام بنا کر ان پر ان کی صریحاً مرضی اور خواہش کے برعکس آٹھ لاکھ بھارتی افواج کی طاقت سے کشمیر پر حکمرانی کرتا آ رہا ہے۔ بھارت کو ہمیشہ جنوبی سوڈان اور مشرقی تیمور کی مثالوں کو اپنے سامنے رکھنا ہوگا جس طرح اولاد اپنے ماں باپ کی جدائی کو ناقابل برداشت خیال کرتی ہے۔ اسی طرح کشمیری بھی اپنے ’’کل‘‘ میں شمولیت کے لئے بے چین اور بے قرار بیٹھے ہیں۔ کشمیری دن رات آٹھ لاکھ بھارتی افواج کے سامنے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے ہیں۔ وہ بھارتی فوجی طاقت سے خوفزدہ نہیں ہیں، وہ بھارت سے آزادی چاہتے ہیں۔ کشمیریوں کی آزادی کی تڑپ اور جذبہ کبھی بھی ختم نہیں ہوگا۔ ریاست جموں و کشمیر پاکستان کے ساتھ شامل ہوگی۔

جموں و کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ اس شہ رگ کی وجہ سے ہی پاکستان زندہ ہے۔ جموں و کشمیر سے پانی آتا ہے،جس سے پاکستان کے تمام میدانی علاقے سیراب ہوتے ہیں۔ کیا پانی کے بغیر پاکستانی قوم کی زندگی ممکن ہے، پاکستانی قوم بہادروں اور شیروں کی قوم ہے۔ وہ کسی صورت میں بھی اپنی شہ رگ کو دشمن کے حوالے نہیں کرے گی، یہی ہمارے قائد اول اور قائد آخر کا حکم ہے ، جن کی تکمیل ہم سب پر لازم ہے۔ تمام جموں و کشمیر کے 12فیصد سے کم ایسے علاقے ہیں جہاں پر ہندوآبادی رہتی ہے۔ وہاں پر رائے شماری کروا لی جائے۔ ریاست جموں و کشمیر سے بھارتی افواج کو واپس اپنی سرحدوں پر بلا لیا جائے۔ پاکستان بھی ایسا کرنے کو تیار ہے، اگر اس طرح ہوجائے تو مسئلہ کشمیر خود بخود حل ہو جائے گا۔ جموں و کشمیر کے مظلوم لوگوں کو کب تک آٹھ لاکھ بھارتی افواج غلام بنائے رکھے گی۔ آزاد فضاؤں میں زندگی گزارنا کشمیریوں کا پیدائشی حق ہے،انہیں کب تک غلامی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور کرکے رکھا جائے گا؟ آزادی کشمیریوں کا مقدر ہے۔ دیکھیں اور غور کریں کہ جب ہم اپنے وطن کشمیر سے ہجرت کرکے پاکستان آئے تھے تو مَیں ایک سکول کا طالب علم تھا۔ اس وقت ہم تمام بچے آزادی کے نعرے لگاتے تھے۔ پاکستان زندہ باد کے نعرے جموں و کشمیر کے گلی کوچوں میں لگاتے پھرتے تھے۔ آج بھی وہی جوش و جذبہ ہم سب میں پہلے سے بھی زیادہ موجود پایاہے۔ دن بہ دن اس جذبے میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

مزید :

کالم -