کیا پاکستان پیپلز پارٹی ختم ہو رہی ہے؟

کیا پاکستان پیپلز پارٹی ختم ہو رہی ہے؟
 کیا پاکستان پیپلز پارٹی ختم ہو رہی ہے؟

  

کیا آصف علی زرداری خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ چکے ہیں؟ کیا ایک حقیقی اور واحد انقلابی جماعت آہستہ آہستہ تحلیل ہو رہی ہے؟کیا سکڑاؤ کے عمل کو اسٹیبلشمنٹ یا عمران خان کی حکمت عملی سے نتھی کیا جا سکتا ہے؟ اور سب سے اہم کیا پاکستان پیپلز پارٹی واقعی ختم ہو رہی ہے؟

آصف علی زرداری خود کو ضرورت سے زیادہ تھکا چکے ہیں۔ شاید بی بی کی شہادت کے بعد وہ بے اعتباریوں کے جنگل میں کھو چکے یا حد سے بڑھا اعتماد انہیں غلط سیاسی چالوں پر اکسا رہا ہے۔ پیپلز پارٹی ایک نظریے کے علاوہ منظم تنظیمی نیٹ ورک اور پولیٹیکل برین کا بھی نام ہے۔ نیٹ ورک بدستور ملک کے طول و عرض میں موجود ہے جبکہ برین سیاسی سرگرمیوں کا مناسب تعین نہ ہونے کے باعث متواتر زنگ آلود ہوتا چلا جا رہا ہے۔ سواء سندھ‘ تمام صوبوں میں پارٹی دفاتر پر سناٹوں کا راج ہے۔ آصف علی زرداری عین اسی طرح react کر رہے ہیں جیسا اسٹیبلشمنٹ یا عمران خان چاہتے تھے۔ انہیں معلوم ہے آصف علی زرداری فائٹر ہیں ‘ وہ اپنی طرف اچھلنے والے فقرے تک کا لفظوں کی بجائے عملی صورت میں جواب دینے کی فطرت رکھتے ہیں۔ تو جناب آصف علی زرداری کو اک طویل عرصے سے ‘شہر میں نووارد افغانی پٹھان کی مانند‘ سیٹی مار کر چھیڑا جا رہا ہے۔ نتیجتا زرداری صاحب غیر سنجیدہ اور چھوٹے ایشوز میں الجھ کر توانائیاں ضائع کر رہے ہیں۔ یہ ایشوز اس قدر مہارت اور طاقتور امپریشن کے ساتھ منظر عام پر لائے جاتے ہیں کہ زرداری صاحب سب کچھ بھلا کر پوری صلاحیتیں انہیں کاؤنٹر کرنے میں صرف کر دیتے ہیں۔ ایسا کرتے وقت نہ وہ پارٹی کے عظیم الشان ماضی کو مدنظر رکھتے ہیں اور نہ ہی عوامی نبض پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کا کلچر قید و بند کی صعوبتوں سے بھرا پڑا ہے‘ اگر آج ڈاکٹر عاصم کو چند روز حراست میں گذارنا پڑ رہے ہیں تو پوری پارٹی کی ساکھ داؤ پر لگانے سے کیا حاصل؟۔

یہ بدستور پیپلز پارٹی کی خوش نصیبی ہے عمران خان متواتر مواقع ضائع کر رہے ہیں۔ عمران خان پر ایک لمحہ ایسا آیا تھا جب وہ پنجاب ‘خیبر پختونخوا کی حد تک پیپلز پارٹی کو ہائی جیک کر سکتے تھے۔ لیکن وہ لمحہ نکل گیا۔ عمران خان کو جوں جوں عروج نصیب ہوا وہ عوامی رابطہ مہم اور گلیوں‘محلوں میں گھلنے ملنے سے اجتناب برتنے لگے۔ یہ وہ وقت تھا جب آصف علی زرداری حسب معمول نادیدہ دشمنوں سے ’’نمٹنے‘‘ کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے تھے‘ جبکہ ان کے پرانے رفیق کار اس لاحاصل جنگ میں کودنے کی بجائے عمران خان کا لشکری بننے کی سوچ رہے تھے۔ تاہم آج یہ اپروچ کچھ حد تک تھم چکی ہے۔ عمران خان پر غیر سنجیدگی کا لیبل اور خواتین میں نسبتا کم ہوتی پسندیدگی تحریک انصاف کے لئے خوفناک سوال کی صورت سامنے آچکی ہے۔

اب آصف علی زرداری کو اس موقع سے کیا فائدہ اٹھانا چاہئے؟۔ ان کے سامنے دو راستے ہیں‘ یا تو وہ روایتی ’’فائٹنگ اپروچ‘‘ کا مظاہرہ کریں اور نتیجے کے طور پر ایک نخیف و نزار پیپلز پارٹی کا بوجھ اٹھانے کی ذمہ داری بھی قبول کریں یا وہ اس راستے کو اپنائیں جس پر شہید ذوالفقار علی بھٹو اور بی بی شہید نے سفر کیا۔ اس سفر سے مراد مقام شہادت ہرگز نہیں بلکہ اس وسیع تنظیمی نیٹ ورک کی طرف متوجہ ہونا ہے جو شہداء کے خون سے سینچا گیا۔ درحقیقت یہ نیٹ ورک ہی پیپلز پارٹی کا سب سے بڑا اثاثہ ہے۔ آصف علی زرداری اسٹیبلشمنٹ‘ عمران خان اور دوستوں کے جھرمٹ کو وقتی طور پر بھول جائیں ۔ بحیثیت سیاسی کارکن ان کی پرائم ذمہ داری اس نیٹ ورک کی حفاظت ہے جو پیپلز پارٹی کی طرف سے انہیں امانتا سونپا گیا۔ انہیں کوئی کچھ نہیں کہے گا اور نہ ہی کوئی ان کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ یہ سارے خوف کے مصنوعی بادل ہیں جنہیں جدید میڈیا تکنیک کے ذریعے زرداری صاحب کے قلب کے آسمان پر چھڑکا گیا۔ یاد رہے عالمی سطح پر نمودار ہوتی تبدیلیوں کے پیش نظر اور عمران خان کی مسلسل حماقتوں کی بدولت پیپلز پارٹی مستقبل میں ایک بار پھر فیصلہ کن طاقتوں کی چوائس ہوسکتی ہے۔

اگر پیپلز پارٹی نے دوبارہ اٹھان پکڑنی ہے تو اسے اس فارمولے پر عمل کرنا ہوگا جس سے خاطر خواہ نتائج حاصل ہوں گے۔ یہ وہ فارمولہ ہے جسے عمران خان نے نظر انداز کیا‘ یہ وہ فارمولہ ہے جس نے مسلم لیگ کو عوام میں جڑیں گہری کرنے کا موقع فراہم کیا‘ اور یہ فارمولہ ہے گلیوں‘محلوں کے سنگم پر پرائمری یونٹس کی ہمراہی میں خطابات‘ میل ملاقات۔ اگرچہ یہ کچھ عجیب سا لگتا ہے آصف علی زرداری جیسی شخصیت گلیوں‘ محلوں میں خطابات کرے۔ لیکن موجودہ حالات میں پیپلز پارٹی کے پاس اس کے سواء کوئی آپشن بھی نہیں۔ کیا ذوالفقار علی بھٹو گلیوں‘محلوں میں پنچائتیں جما کر نہیں بیٹھے‘ کیا شہید بھٹو نے مقامی چائے خانوں اور تنگ مکانوں میں کارکنوں کے ہمراہ کھانے نہیں کھائے؟۔ کیا بی بی شہید نے صبح سے رات گئے تک نت نئے شہروں کی ٹوٹی پھوٹی گلیوں کے پیدل دورے نہیں کئے؟۔ کیا نصرت بھٹو گوجرانوالہ کے زبیر شاد مرحوم جیسے غریب کارکن کے ولیمے میں شریک نہیں ہوئیں؟۔ ایسا سب کچھ ہوا اور انہی عوامل کی بدولت پیپلز پارٹی غریب پرور پارٹی بھی کہلوائی۔پیپلز پارٹی کے احیاء کیلئے زرداری صاحب اور بلاول بھٹو کو نئے سرے سے خود کو متعارف کروانا پڑے گا۔

پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت اس معاملے میں شدید کوتاہی کا ارتکاب کر رہی ہے۔ کارکن اور لیڈر شپ میں دوری سیاسی موت کا دوسرا نام ہے۔ پیپلز پارٹی کے پاس کارکن بھی ہیں‘دفاتر بھی اور تنظیمی نیٹ ورک بھی۔ لیکن بدقسمتی سے انہیں متحرک کرنے والا کوئی نہیں۔ عمران خان کی گرتی ساکھ پیپلز پارٹی کے لئے نئی زندگی کی مانند ہے۔ عمران خان مسلم لیگ کے مقابلے میں دھڑا تشکیل دینے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے امیدوار بدستور لوگوں میں جڑیں رکھتے ہیں۔ لیکن لوگ ان سے چند سوالات بھی پوچھتے ہیں۔ لوگ سندھ کے طرز حکمرانی سے نالاں ہیں۔ لوگ عوامی مسائل کے حل کی بجائے ذاتی دوستوں کے نوازنے اور بچاؤ کی پالیسی سے خفاء ہیں۔ لوگ اس جماعت کو کیونکر ووٹ دیں گے جسے چلانے والے انہیں ملنا‘خطاب کرنا بھی گوارہ نہیں کرتے۔ کچھ عرصہ قبل آصف علی زرداری گوجرانوالہ تشریف لائے۔ بجائے کارکنوں سے ملنے یا تنظیمی دفتر کا دورہ کرنے کے ، ان کا جلسہ گتہ بنانے والے مقامی صنعتکار کی فیکٹری میں رکھ دیا گیا۔ وہیں ہیلی کاپٹر اترا اور وہیں صنعتکاروں کے اس ٹولے نے یہ شعر پڑھا:

اسیں گبھرو پتر پنجاب دے ساڈے شیراں ورگے ناں

اسیں تہاڈے نال غداری کریے سانوں دودھ نہ بخشے ماں

تو جناب جلسے میں خوب دھوم دھڑکا ہوا۔ زرداری صاحب واپس تشریف لے گئے۔ ٹھیک پانچ دن بعد غداری نہ کرنے کا عزم کرنے والے یہ صنعتکار عمران خان سے ہاتھ ملا کر پی ٹی آئی میں شریک ہوگئے۔ زرداری صاحب آگے بڑھئے۔ اگر آپ اپنی دوستی فقط کارکنوں کے لئے مختص کر دیں۔ انہیں بلائیں‘پاس جائیں‘ غمی خوشی میں شریک ہوں تو کوئی طاقت پیپلز پارٹی کو دوبارہ ابھرنے سے نہیں روک سکتی۔ سینکڑوں‘ ہزاروں کارکن پنجاب میں اپنی لیڈر شپ کے منتظر ہیں۔ ڈھلوان کا سفر آپ نے خود چنا ہے۔ اگر یہ اسی طرح جاری رہا تو پیپلز پارٹی اندرون سندھ کے چند علاقوں تک محدود ہوکر علاقائی جماعت بن جائے گی۔ اب یا تو تلملاتے ہوئے اس عمل کو وقوع پذیر ہوتا دیکھ لیں یا حقیقی ہیرو کی مانند پہلے سے موجود نیٹ ورک کو انقلابی بنیادوں پر متحرک کر لیں۔اگر عوامی رابطہ مہم شروع ہو تو بنیادی ایجنڈہ وہ مسائل ہونے چاہئیں جن پر نہ تو مسلم لیگ توجہ دے رہی ہے اور نہ ہی پاکستان تحریک انصاف بات کر رہی ہے۔ لگ بھگ یہ دونوں جماعتیں سٹیٹس کو کا حصہ بن کر بنیادی تبدیلیوں کی خاطر سسٹم سے ٹکر لینے سے اجتناب برت رہی ہیں۔ عمران خان جوش خطابت میں کہہ تو بہت کچھ دیتے ہیں مگر عملی طور پر وہ بھی اس نظام کو برقرار رکھنے کے خواہشمند ہیں۔ اگر زرداری صاحب یا بلاول بھٹو ان دونوں جماعتوں سے مایوس ہوتے لوگوں کی توجہ چاہتے ہیں تو ان بنیادی تبدیلیوں کے نعرے کے ساتھ باہر نکلیں جنہیں سننے کو لوگوں کے کان ترس گئے ۔ ماضی کی پیپلز پارٹی میں یہ صلاحیت موجود تھی کہ وہ روٹی‘کپڑا اور مکان جیسے نعرے کے ساتھ سسٹم سے ٹکر ائی۔اب دیکھتے ہیں موجودہ پیپلز پارٹی کن نکات کو اپناتی ہے۔

پس تحریر: ہمارے قابل احترام کالم نگار بھائی جناب توفیق بٹ کے چھوٹے بھائی ثاقب بٹ گھٹنے میں ہائی گریڈ کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ ہنس مکھ اور درویش صفت کی خاطر تمام پڑھنے والوں سے التماس ہے صحتیابی کے لئے اللہ کے حضور دعا کریں۔

مزید :

کالم -