موچی دروازہ کے سامنے شراب خانہ کہاں واقع ہے؟

موچی دروازہ کے سامنے شراب خانہ کہاں واقع ہے؟
 موچی دروازہ کے سامنے شراب خانہ کہاں واقع ہے؟

  

نامور صحافی جاوید چودھری محقق اور محتاط اہلِ قلم ہیں، ان کے رشحات قلم کا ذوق وشوق کے ساتھ مطالعہ کیا جاتا ہے، بعض اوقات سہوًا ایسے واقعات کا تذکرہ بیان وتحریر کے دائرے میں آجاتا ہے جو حقائق کے منافی ہوں، گذشتہ دنوں 15دسمبر کے روزنامہ ایکسپریس میں انہوں نے’’حکمت کی واپسی‘‘ کے زیرِ عنوان آغاز میں گھوڑوں کی قومی اہمیت کے واقعات کے بعد لکھا ہے:’’ معاشرے میں بھی اتھرے گھوڑے ہوتے ہیں ان کے نتھنوں میں اگر’’ حکمت‘‘ کی لگام نہ ہو تو یہ خود کو بھی اور دوسروں کو روند ڈالتے ہیں ، ادب، مصوّری اور موسیقی یہ تینوں معاشرے کی حکمت ہوتے ہیں۔، عرب گھوڑے کی لگام کو’’ حکمت‘‘ کہتے تھے، یہ لوگ گھوڑے کو طاقت کی علامت سمجھتے تھے، اور معاشرے میں جتنی یہ لگام مضبوط ہاتھوں میں ہوگی ، ان کی طاقت اتنی ہی قابو میں رہے گی‘‘۔

جاویدصاحب نے لکھا ہے کہ ’’ملک میں جب تک نثر، شاعری ، مصوّری، تھیٹر اور قوالی تھی تو اس وقت معاشرے میں امن، برداشت اور سکون بھی تھا، لیکن جب ملک میں فنونِ لطیفہ سکڑنے لگے تو پھر دہشت گردی، عدمِ برداشت، بدامنی اور بے سکونی میں بھی اضافہ ہونے لگا، یہ ایک ایسا ملک تھا جس میں عطاء اللہ شاہ بخاریؒ جیسے خطیب موچی دروازے میں پوری پوری رات خطاب کرتے تھے اور جلسہ گاہ کے بالکل سامنے شرابی شراب خانے میں بیٹھ کر شغل مَے کرتے تھے، اور جلسے میں موجود کوئی شخص ان گناہ گاروں کے خلاف نہ تو نعرہ لگاتا تھا اور نہ ہی یہ شرابی باہر نکل کر مولویوں کو مولوی کہتے تھے۔ یہ ایک ایسا معاشرہ تھا جس میں ہمارے علمائے کرام لاکھ لاکھ لوگوں کو ساتھ لے کر مرزا غلام احمد قادیانی کے گاؤں ’’قادیان‘‘ چلے جاتے تھے، گاؤں میں پہنچ کر ختمِ نبوت پر تقریر کرتے تھے اور قادیانیوں کو گالی تک دیئے بغیر لاہور واپس آجاتے تھے۔‘‘(ایکسپریس فیصل آباد)

جاوید چودھری نے ’’حکمت کی واپسی‘‘ کے زیرِ عنوان جو معلومات فراہم کی ہیں، واقعی حکمت ودانائی کی واپسی پر مبنی ہیں ورنہ وہ یہ نہ لکھتے کہ عرب گھوڑے کی لگام کو حکمت کہتے ہیں ، عربی زبان کی لغت المنجد میں گھوڑے کی لگام کو حکمت نہیں، بلکہ’’ اَلْحُکْمَۃُ‘‘ لکھا ہے۔ ثانیاً یہ کہ موچی دروازے کے باغ میں امیرِ شریعت سید عطا اللہ شاہ بخاریؒ کی بابت لکھا ہے کہ’’ وہ ساری رات تقریر کرتے تھے اور جلسہ گاہ کے بالکل سامنے شرابی شراب خانے میں بیٹھ کر شغل مَے کرتے تھے‘‘۔ جبکہ موچی دروازے کے باغ کے سامنے شراب خانہ تو کجا، پورے لاہور شہر میں مغربی ممالک کے طرز کا قطعاً کوئی شراب خانہ موجود نہیں ہے، جس میں چائے خانوں کی طرح بیٹھ کرشرابی مَے نوشی کا شغل کرتے ہوں، البتہ لاہور کی مال روڈ پر ایسی دکان موجود تھی جہاں سے لوگ شراب کی بوتلیں لے جاکر اپنے گھروں یا ٹھکانوں پر خفیہ طور پر پیتے ہوں، شارع عام پر کوئی بھی شراب نوشی کا مرتکب نہیں ہوتا۔ نیز ان کے یہ الفاظ بھی مہمل ہیں کہ ’’نہ ہی شرابی باہر نکل کر مولویوں کو مولوی کہتے تھے‘‘۔ جاوید چودھری ہی اس کی وضاحت فرما دیں کہ کیا مولویوں کو’’ مولوی‘‘ کہنا قابل گرفت اور لائق مذمت ہے؟۔۔۔تیسری بات انہوں نے یہ تحریر فرمائی ہے کہ :’’ علماء کرام لاکھ لاکھ لوگوں کو ساتھ لے کر مرزا غلام احمد قادیانی کے گاؤں قادیاں چلے جاتے تھے۔ گاؤں میں پہنچ کر ختمِ نبوت پر تقریر کرتے تھے اور لوگ قادیانیوں کو گالی تک دئیے بغیر واپس لاہور آجاتے تھے‘‘۔

جاوید چودھری کوئی ثبوت فراہم کریں جب علمائے کرام کسی مقام سے بھی لاکھ لاکھ لوگ اپنے ساتھ لے کر قادیان گئے ہوں اور انہیں وہاں قادیان گاؤں میں مرزا قادیانی کے گھر یا اس کی جماعت کے دفتر کے قریب کبھی ختم نبوت کے موضوع پر تقریر کرنے کی اجازت دی گئی ہو، جبکہ قادیان میں کسی مسلمان اور غیر احمدی کو حدودِ قادیان کے اندر ختمِ نبوت کے عنوان سے تقریر تو کجا، لب کشائی کی بھی اجازت نہیں ہوتی تھی، مجلسِ احرار اسلام کے رہنماؤں امیرِ شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ ، مولانا حبیب الرحمن لدھیانویؒ ، ماسٹر تاج الدین انصاریؒ اور مولانا محمد حیاتؒ مبلغ ختمِ نبوت نے قادیان میں ختمِ نبوت کانفرنس کا اعلان کیا تو قادیانی جماعت نے انگریز حکمرانوں سے مل کر قادیان کی حدود میں تبلیغ ختمِ نبوت کانفرنس منعقد کرنے پر پاپندی لگوادی تھی۔ مجبور ہو کر حدودِ قادیان سے باہر ایک سکھ نے اپنے رقبے میں کانفرنس منعقد کرنے کی اجازت دی تو انگریزی حکومت کے کارندوں نے جریب سے پیمائش کرکے جائزہ لیا تھا کہ یہ کانفرنس کہیں حدودِ قادیان کے اندر تو نہیں منعقد ہورہی تاکہ سرکاری احکام کی خلاف ورزی پر کوئی گرفت کی جاسکے، انہیں گرفتار کیا جاسکے۔

قومی انحطاط اور معاشرے کے زوال کے اسباب ومحرکات کے سلسلے میں جاوید چودھری نے لکھاہے کہ :’’آپ کو اگر یقین نہ آئے تو آپ پاکستان میں فنونِ لطیفہ پر تحقیق کرلیں ،آپ چند لمحوں میں موجودہ دہشت گردی کی وجوہات تک پہنچ جائیں گے۔ ملک میں جب نثر ، شاعری مصوّری، تھیٹر، موسیقی اور قوالی تھی اس وقت معاشرے میں امن ، برداشت اور سکون بھی تھا، جب معاشرے میں فنونِ لطیفہ سکڑنے لگے تو پھر دہشت گردی ، عدمِ برداشت ، بدامنی او بے سکونی میں بھی اضافہ ہونے لگا‘‘۔

جاوید چودھری نے پاکستان میں دہشت گردی اور بدامنی سے بچنے کا جو حل پیش کیا ہے اس سلسلے میں جائزہ لینے سے تو یہ حقائق رونما ہوتے ہیں کہ ملک میں جتنی شاعری، مصوّری ، موسیقی اور قوالی کی بہتات اب ہوئی اور یہ فنونِ لطیفہ اب ہمہ گیر ہوئے ہیں،اس قدر پہلے کبھی نہ تھے۔ مصوّری کے لیے ہر شخص کے ہاتھوں میں موبائل ٹیلیفون ہے اور عام محفلوں ، جلسہ گاہوں ، مسجدوں حتی کہ مکہ شریف کی مسجد الحرام تک اب بے دریغ تصویریں اتاری جارہی ہیں اور جتنی موسیقی اور قوالی اب ہونے لگی ہے، قبل ازیں ایسے فنونِ لطیفہ کا سیلاب کبھی نہ آیا تھا، علامہ اقبالؒ نے قومی زوال وانحطاط کی جو نشاندہی کی تھی:

آ تجھ کو بتاؤں میں تقدیر اُمم کیا ہے

شمشیر وسناں اوّل طاؤس ورباب آخر

آج کل یہ نظریہ اور تھیوری دم توڑ گئی اور منقلب ہوگئی ہے، اب شمشیر وسنان کا دور ختم ہوگیا اور طاؤس ورباب ہی کو پذیرائی حاصل ہے، آج تقدیر اُمم کا یہی مؤثر ذریعہ ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حکمرانوں کو جاوید چودھری کی زیرِ نگرانی شعر وشاعری ، موسیقی اور قوالی کی محفلیں وسیع پیمانے پر منعقد کرنے کا اہتمام کرنا چاہئے تاکہ دہشت گردی، بدامنی اور قتل وغارت گری کی مصیبت سے ہماری جان چھوٹے اور امن وسلامتی کے سکون افزا اور روح پرور دور کا پھر سے آغاز ہوسکے اور علامہ اقبالؒ کو ہم چیلنج کی صورت میں کہہ سکیں :

آ تجھ کو بتادوں میں کہ تقدیر اُمم کیا ہے

ہر آن قوالی ہو، ہو شاعری وموسیقی

مزید :

کالم -