34مُلکی اتحاد۔۔۔ سینیٹ میں سرتاج عزیز کا تشنہ بیان

34مُلکی اتحاد۔۔۔ سینیٹ میں سرتاج عزیز کا تشنہ بیان

  

مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ 34ملکی اتحاد کے حوالے سے حکومت کلیئر نہیں، تفصیلات کا جائزہ لے رہے ہیں، ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے، دو ہفتے بعد تمام تفصیلات سامنے آنے کے بعد سینیٹ کو آگاہ کریں گے، اُن کا کہناتھا 34ممالک کا اتحاد نہیں کولیشن ہے، اس میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے تاہم پاکستان کے کردار پر مشاورت کی جا رہی ہے، انہوں نے کہا اتحاد میں شمولیت کا فیصلہ ملکی پالیسی کے مطابق ہے،چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے اُن سے دریافت کیا کہ اگر مشیر خارجہ کو تفصیلات کا علم نہیں تو اتحاد میں شامل ہونے کا کیسے فیصلہ کیا،اتحاد میں شمولیت کر لی اور آپ کے پاس معلومات ہی نہیں، یہ کوئی گپ شپ نہیں ہو رہی، آپ سینیٹ میں حکومتی موقف پیش کر رہے ہیں۔ سرتاج عزیز نے کہا معاملے کو ابتدائی مرحلے پر سینیٹ میں نہیں لانا چاہ رہے تھے اپنے کردار کا تعین ابھی کرنا ہے۔ چیئرمین نے کہا کہ اب تفصیلات دیکھ رہے ہیں اور شامل پہلے ہو گئے ہیں، سوال یہ ہے کہ جن چار ممالک کو اتحاد میں شامل نہیں کیا گیا،اُنہیں یہ تاثر نہیں ملے گا کہ اتحاد اُن کے خلاف ہے، سینیٹ میں اپوزیشن ارکان نے خارجہ پالیسی کو ہدفِ تنقید بنایا۔

سینیٹ میں مشیر خارجہ کے بیان کے بعد یہ بات تو واضح ہو گئی ہے کہ حکومت نے اتحاد (یا بقولِ مشیر خارجہ کولیشن) میں شمولیت کا فیصلہ عجلت میں کر لیا اور اب اس میں اپنے کردار پر مزید مشاورت کی جا رہی ہے، سینیٹ کو بھی پندرہ دن بعد تفصیلات سے آگاہ کرنے کا وعدہ کیاگیا ہے اس موقعہ پر چیئرمین سینیٹ نے بجا طور پر یہ سوال اٹھایا کہ شمولیت پہلے کر لی گئی ہے اور تفصیلات اب طے کی جا رہی ہیں، ایسے محسوس ہوتا ہے کہ سعودی حکومت نے بھی اتحاد بنانے اور اس کا اعلان کرنے سے پہلے کوئی ہوم ورک نہیں کیا تھا، نہ بہت سی ایسی باتوں کے متعلق ٹھوس پالیسی اختیار کی گئی تھی، جو اتحادکی تشکیل کے بعد پیش آنے والی تھیں، سعودی حکومت نے اپنے دوست ملکوں پر اعتماد کرتے ہوئے اور اپنے قریبی تعلقات کے باعث اتحاد تو بنا لیا ہے، لیکن اس کا لائحہ عمل کیا ہو گا اور اتحادی ملکوں نے کیا کردار ادا کرنا ہے۔ یہ اب طے کیا جا رہا ہے۔

اس حوالے سے سرتاج عزیز کا بیان اگرچہ بڑی حد تک تشنہ ہے اور اُن کے بیان سے چیئرمین سمیت ارکان سینیٹ مطمئن بھی نہیں ہوئے تاہم اس کا ایک فائدہ یہ ضرور ہو گیا ہے کہ حکومت ابتدائی طور پر ہی اس معاملے کو پارلیمینٹ کے ایوانِ بالا میں لے آئی ہے تو اب مشاورت کے بعد اس کی تفصیلات بھی سامنے لانی ہوں گی،ارکان نے بھی اس مرحلے پر اپنا مختصر سا موقف پیش کر دیا ہے، جس کی روشنی میں تمام امور طے کئے جا سکتے ہیں۔ حکومت اگر مختلف سطحوں پر مشاورت کر رہی ہے، تو پارلیمینٹ سے بہتر مشاورت اور کہاں ہو سکتی ہے، بلکہ ہماری تجویز یہ ہے کہ جب سرتاج عزیز کی مشاورت مکمل ہو جائے اور اتحاد کے متعلق ہر قسم کی تفصیلات اُن کے سامنے آ جائیں تو وہ ارکان کو اعتماد میں لے کر انہیں مطمئن کریں۔ خارجہ پالیسی انتہائی نازک موضوع ہے اور اِس ضمن میں ارکانِ پارلیمینٹ کی جو رائے سامنے آئے اُسے بھی پالیسی میں شامل کر لیا جائے تو اسے صحیح معنوں میں قومی رُخ دیا جا سکتا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کا خطہ اِس وقت شدید سیاسی و عسکری زلزلوں کی زد میں ہے، شام اور عراق کے وسیع علاقوں پر داعش نے قبضہ کر رکھا ہے اور وہاں عملاً اِس کی حکومت ہے وہ دونوں ملکوں کے تیل کے ذخائر بھی اپنے تصرف میں لا رہی ہے۔ یہ تیل سستے داموں فروخت کیا جا رہا ہے خریدنے والے ٹینکروں کی لائنیں لگی ہیں اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی سے ہتھیار اور گولہ بارود خریدا جا رہا ہے،عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ بھی یہی ہے کہ داعش اس مالِ مفت کو دِل بے رحم کی طرح فروخت کرر ہی ہے۔ ساری عالمی طاقتیں خطے میں موجود ہیں البتہ ان کے مقاصد اپنے اپنے ہیں۔ امریکہ اور اس کے اتحادی شام کی حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں، اُن کا یہ خیال ہے کہ بشار الاسد کی حکومت ختم ہونے تک شام میں امن قائم ہونا محال ہے، سعودی عرب کی بھی پالیسی یہی ہے کہ شام کے صدر مستعفی ہوں، چونکہ ایسا نہیں ہو رہا، اِس لئے امریکہ اُن باغیوں کی سرپرستی کر رہا ہے روس ان کے ٹھکانے تباہ کررہا ہے جو شامی حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں، لیکن یہ تنازعہ اس لحاظ سے گھمبیر ہے کہ امریکہ اور روس داعش کے ٹھکانوں پر اپنے اپنے مقاصد کے لئے بمباری کر رہے ہیں، روس بشار حکومت کا خاتمہ نہیں چاہتا، لیکن داعش اس کا بھی ہدف ہے، اقوام متحدہ امریکہ اور روس کو اِس معاملے میں متحدہ اقدام پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن ابھی تک اسے کامیابی نہیں ہوئی، سلامتی کونسل نے شام کے بحران کے حل کے لئے قرارداد ضرور منظور کی ہے۔

سعودی عرب اب تک دہشت گردی کی وارداتوں سے محفوظ و مامون چلا آ رہا تھا، لیکن سالِ رواں میں مختلف سعودی شہروں میں دہشت گردی کے بڑے سنگین واقعات ہو چکے ہیں، جو مشرقِ وسطیٰ کے حالات کا ہی نتیجہ ہیں، سعودی سرحد سے ملحقہ یمن میں آگ لگی ہوئی ہے، جہاں بہت سے ملکوں کے متضاد مفادات کا تصادم ہو رہا ہے،انہی حالات نے سعودی عرب کو یہ اتحاد بنانے پرمجبور کیا، اِس اتحاد کی نوعیت اور مقاصد فوجی ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا شمولیت کے بعد پاکستان خطے میں اپنی افواج بھیجنے کا بھی پابند ہو گا، رُکن مُلک ہونے کی حیثیت سے اتحاد کی جانب سے دی جانے والی ذمہ داریوں سے عہدہ برا تو بہرحال ہونا پڑے گا، لیکن پاکستان کے اِردگرد جو ماحول بنا ہوا ہے، افغانستان میں طالبان کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے، وہاں داعش کی موجودگی کی بھی اطلاعات ہیں، جنگ ایسے علاقوں میں پھیلتی نظر آ رہی ہے جو پاکستان کی سرحد سے زیادہ دور نہیں ہے۔ وزیرستان میں آپریشن ضربِ عضب جاری ہے اور ابھی قطعیت کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ کب ختم ہو گا۔ اِس پیچیدہ صورتِ حال کی وجہ سے پاکستان کا مُلک سے باہر فوجی کردار محدود نوعیت کا ہی ہو سکتا ہے،34مُلکی اتحاد میں شمولیت تو پاکستان نے اختیار کر لی ہے، لیکن اِس کے مثبت اور منفی پہلوؤں پر غور اب کہا جا رہا ہے،جو پہلے کرنے ضرورت تھی، اب بھی حکومت کو اِس معاملے کے تمام پہلوؤں پر اچھی طرح غور کر کے پورے مسئلے کو وضاحت کے ساتھ پارلیمینٹ کے سامنے رکھ دینا چاہئے اور پوری انشراحِ صدر کے ساتھ ایسی رائے کو قبول کر لینا چاہئے، جو مُلک کے لئے بہتر ہو، اور اس کے لئے مشکلات کی بجائے آسانیاں پیدا کرے۔

مزید :

اداریہ -