جمیعت اور قوم

جمیعت اور قوم

  

انقلاب عالم میں نوجوانوں اور بالخصوص طلبہ کے کردار کو فراموش کر دیا جائے تو یہ تاریخ کے ساتھ سنگین بدیانتی کے مترادف قرار پائے گا۔ قیام پاکستان کی جدوجہد میں بھی طلبہ نے جو کردار ادا کیا خود قائد اعظم نے کھلے بندوں اس تحریک پاکستان کے اہم سنگ میل کے طور پر بیان کیا۔بلامبالغہ دنیا میں جو بھی تبدیلیاں اور انقلابات رونما ہوئے خواہ ان کی نوعیت سیاسی ہو یا سائنسی، معاشی ہو یا سماجی ان سب میں طلبہ کا کردار اظہر من الشمس ہے۔

پاکستانی طلبہ اپنی صلاحیت اور علم و شعور کی بنیاد پر دنیا بھر میں ایک قابل قدر مقام رکھتے ہیں۔ان کی پہچان جہاں تعلیمی میدان میں ان کے کارہائے نمایاں ہیں وہیں اسلامی و نظر یاتی تشخص بھی ان کو پوری دنیا میں دوسروں سے ممتاز کرتا ہے۔ آج پاکستان کی کل آبادی کا 63فیصد یہ نوجوان جہاں ایک جانب امت مسلمہ کی امیدوں کا مرکز و محور ہیں وہیں طاغوتی طاقتوں کی آنکھوں میں بھی کانٹے کی طرح کھٹک رہے ہیں۔لیکن پروپگنڈے کے طوفان کے باوجود طلبہ پاکستان کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ، تعلیمی اداروں میں مثبت روایات کو پروان چڑھانے، تعلیمی دنیا میں ایک دوسرے کے معاون و مددگاربننے اور مایوسی کے مجموعی ماحول میں پوری قوم کو امید اور تعمیر کا پیغام دے کر منظم کرنے کی جو جدوجہد کر رہے ہیں ، اسلامیانِ پاکستان کو اس پر فخر بھی ہے اور ان کی کامیابی کے ان گنت ہاتھ محو دعا بھی ہیں۔بلاشبہ اسلامی جمعیت طلبہ مبارکباد کی مستحق ہے جس نے ان نوجوانوں کو بامقصد زندگی گزارکر رب کی رضا حاصل کرنے کے لئے ایک مؤثر اور ملک گیر پلیٹ فارم مہیا کیا۔ 1947ء میں قیام پاکستان کے ٹھیک 4ماہ بعد وجود میں آنے والی اس تنظیم نے جن اصولوں پر اپنی جدوجہد کی بنیاد رکھی وہ آج بھی روشن میناروں کی طرح اس تنظیم سے وابستگان کی راہنمائی کر رہے ہیں۔ طلبہ تک اسلام کی دعوت پہنچایانا، اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ان کی زندگیوں کو ڈھالنا، ایک پلیٹ فارم پر منظم ہو کر دیگر طلبہ کو مجتمع کر کے تعلیمی دنیا میں ان کے مسائل کو حل کروانا اور ایک اسلامی فلاحی ریاست کا قیام اسلامی جمعیت طلبہ کی جدوجہد کے نمایاں نکات ہیں۔جمعیت نے صرف تعلیمی اداروں میں مثبت سرگرمیاں ہی متعارف نہیں کروائیں ، طلبہ کے دل و دماغ بدلے، حالات کا شعور دیا ، انہیں بولنے اور کچھ کر گزرنے کی صلاحیت دی،قوم کو دیانتدار قیادت فراہم کی اور زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کو ملک و قوم کے لئے کھپانے والے صالح نوجوان مہیا کئے۔

آج اسلامی جمعیت طلبہ کے قیام کو 68سال مکمل ہو چکے ہیں۔ 23دسمبر کو25طلبہ سے اپنے سفر کا آغاز کرنے والی یہ تنظیم آج لاکھوں طلبہ کو اپنے اندرسموئے ہوئے ہے اور ملک کی تمام یونیورسٹیز، کالجز، سکولز اور پروفیشنل اداروں میں اس کے یونٹس قائم ہیں ۔جمعیت کے یہ 68سال خدمت طلبہ، تعلیمی مسائل کے حل، تعمیری و مثبت سرگرمیوں کے فروغ اور ملک و قوم کے لئے گراقدر خدمات سے عبارت ہیں۔جمعیت کی جدوجہد کے ان گنت عنوانات ہیں اور ہر عنوان اپنے اندر ایک پوری تاریخ سموئے ہوئے ہے۔ سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی فکر اور لٹریچر کے ذریعہ جمعیت نے لادینیت اور نام نہاد ترقی پسندی کو تعلیمی اداروں میں شکست فاش دی، گرم پانیوں تک رسائی کا خواب دیکھنے والی سوویت یونین کو افغانستان میں ہزیمت سے دوچار کیا، مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی اور بھارتی افواج کے مقابلے میں حب الوطنی کی تاریخ رقم کی اور کشمیر میں ہندو بنئے کو مقابلے میں مجاہدین کی عملی حمایت کے ذریعہ امت کے جسدِ واحد کے تصور کو مضبوط کیا۔ یقیناًاسلامی جمعیت طلبہ پوری قوم ہی نہیں ، امت مسلمہ کا قیمتی سرمایہ ہے۔

جمعیت تعلیمی اداروں میں کتاب میلے، ٹیلنٹ ایوارڈز،اسٹڈی سرکل، قرآن و حدیث سرکلز ، سپیکر فورمز،ا سپورٹس فیسٹول ، فری کوچنگ کلاسز، نوٹس کی فراہمی ، سمر و ونٹر اسٹڈی کیمپس ،بک بینک، بلڈبینک،کوئزو تقریری مقابلے، مباحثے، مشاعرے، نیلام گھر،سیمینار، کانفرنس اور ٹریننگ کیمپس جیسی ان گنت سرگرمیوں کے ذریعے طلبہ کی علمی، فکری،اخلاقی ، سیاسی اور جسمانی تربیت و نشو ونما کا اہتمام کرتی ہے ۔اس کے علاوہ طلبہ کے مسائل کے حل کیلئے کوششیں اورذہین و با صلاحیت طلبہ کو اسکالر شپ کی فراہمی بھی جمعیت کی سرگرمیوں کا حصہ ہے۔اپنے بامقصد و تعمیری پروگرام، وژن اور سرگرمیوں کی بدولت اسلامی جمعیت طلبہ ہمیشہ طلبہ کی واحد نمائندہ رہی اور تعلیمی اداروں میں ہونے والے یونین انتخابات میں طلبہ کی سب سے بڑی قوت کے طور پر ابھری۔جمعیت سے وابستہ یونینز نے کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور سمیت ملک بھر کی اہم جامعات اور کالجز میں تواتر کے ساتھ کامیابی حاصل کی اور خدمت طلبہ ، تعلیمی مسائل کے حل کے لئے میمورنڈم، کتاب میلوں اور ٹیلنٹ ایوارڈ جیسی ان گنت سرگرمیوں کو متعارف کیا اور پروان چڑھایا۔ملک پر قابض ہونے والے سول و ملٹری ڈکٹیٹروں کیخلاف طلبہ نے جمعیت کے پلیٹ فارم سے پوری قوم کی ترجمانی کی اور اہم قومی مہمات کو کامیابی سے ہمکنار کرایا۔آج بھی یونین سازی پر پابندی کے باوجود اگر کوئی طلبہ تنظیم اپنے پروگرام اور تمام تر سرگرمیوں کے ساتھ تعلیمی اداروں میں سرگرم ہے تو وہ اسلامی جمعیت طلبہ ہی ہے۔

اسلامی جمعیت طلبہ بلاشبہ مملکت خدا د کے لئے ایک عظیم نعمت خداوندی ہے جو ہر میدان میں طلبہ اور نوجوانوں کے کردار اور اخلاقیات کی تعمیر اور ملک کی ترقی میں کردار ادا کرنے والے محب وطن نوجوانوں کی تیاری کے لئے ایک درسگاہ ہے۔ اسلامی جمعیت طلبہ سیاست، ادب ، معاشیات و معاشرت غرضیکہ ہر شعبہ زندگی میں مؤثر افراد کی تیاری کے لئے ایک نرسری ہے، جس نے ملک کے تعلیمی اداروں مثبت روایات اور طلبہ کی بہتری کے لئے سرگرمیوں کی بنیاد ڈالی اور آج تک اپنی روایات کو تعلیمی اداروں میں زندہ رکھے ہوئے ہے۔

***

مزید :

ایڈیشن 2 -