روشنیاں ہی روشنیاں، خوبصورت نظارے،میلاد مصطفیؐ کی تیاریاں، عقیدت اور جوش ساتھ ساتھ، کوچہ و بازار سج گئے

روشنیاں ہی روشنیاں، خوبصورت نظارے،میلاد مصطفیؐ کی تیاریاں، عقیدت اور جوش ...

  

لاہور سے چودھری خادم حسین:

پوری دنیا میں کروڑوں مسلمان نبی اکرم رسول کریم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ و علیہ وسلم کا یوم ولادت پوری عقیدت و احترام اور جوش و خروش سے منا رہے ہیں۔ پیغمبر آخر الزمانؐ کی یاد اور آمد کی خوشی میں کوچہ وبازار سجائے گئے اور روشنیاں کی گئیں۔ درودِ احمد مجتبیٰؐ کی خوشی میں نیاز یں پکا کر بھی تقسیم کی گئیں۔ ہر طبقہ کے حضرات کو اس خوشی میں شامل کیا گیا۔ پاکستان اور دنیا بھر میں تقریبات کا آغاز یکم ربیع الاول ہی سے ہو گیا تھا اور جوں جوں تاریخ آگے بڑھی جوش و خروش میں بھی اضافہ ہوتا چلا گیا۔ اب تو ہر روز متعدد جلوس نکلتے ہیں۔ چھوٹے بڑے شہروں میں پیدل اور سواریوں پر جلوس نکالے جا رہے ہیں نعت و درود کا ورد ہوتا ہے اس بار خصوصی طور پر شرکاء جلوس کو خلاف شرح حرکات سے اجتناب کرایا گیا۔ اور زیادہ تر حضرات سبز ہلالی پرچم لے کر آتے ہیں۔ بچے بوڑھے، جوان و بزرگ سب شریک ہیں۔

لاہور بھی عقیدت مندی کا مرکز ہے کہ یہاں ہی سے عید میلاد النبیؐ کے جلوس کا آغاز ہوا تھا اور عید میلاد النبیؐ منانے کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا۔ یہاں کوچہ و بازار سجانے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کی گئی ہے کل (جمعرات) 12 ربیع الاول ہے اگرچہ بعض مسالک کے نزدیک حضورؐ کی دنیا میں تشریف آوری 9 یا 17 ربیع الاول کو ہوئی تاہم اجماع امت 12 ربیع الاول پر ہے اس لئے یہ دونوں مسالک بھی احترام کرتے ہیں۔ ان کی طرف سے بھی آمد مصطفیٰ کے سلسلے میں تقاریب ہوتی ہیں کل لاہور میں کونے کونے سے جلوس نکالے جائیں گے۔ آج بھی متعدد علاقوں سے جلوس نکلیں گے۔ رات کو جامعہ حزب الاحناف سے مشعل بردار جلوس نکالا جائے گا۔ جبکہ حسب روایت منہاج القرآن کی طرف سے مینار پاکستان کے زیر سایہ تقریب عید میلاد النبیؐ ہو گی۔ اس سے منہاج القرآن کے سر پرست چیئرمین اور پاکستان عوامی تحریک کے صدر ڈاکٹر طاہر القادری خصوصی خطاب کریں گے (جلوسوں کی تاریخ کے حوالے سے کل کالم میں تحریر ہو گی)

اس مرتبہ عید میلاد النبیؐ ولادت مسیح حضرت عیسیٰؑ اور یوم پیدائش بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح ساتھ ساتھ آئے ہیں۔ کل میلادِ مصطفیؐ ہوگا تو اگلے روز ہی ولادت مسیحؑ اور یوم قائد اعظمؒ منائے جائیں گے۔ پاکستانی عیسائیوں نے بھی کرسمس خوب منائی اور انہوں نے یوم پیدائش عیسیؑ منانے کی مکمل تیاریاں کی ہیں۔ بڑے بڑے چرچوں میں میلے لگے ہوئے ہیں۔ کل ان چرچوں میں دعائیہ تقریبات ہوں گی۔ خصوصی عبادت میں ملکی سلامتی اور تحفظ کی دعاؤں کے ساتھ ساتھ ترقی کے لئے بھی دعا کی جائے گی۔

سیاسی طور پر ہفتہ رفتہ سست رہا اور یہاں کوئی بڑا واقعہ نہیں ہوا۔ تاہم بلدیاتی سطح پر سرگرمیاں جاری رہیں اور جیتنے والے امیدوار اپنے فرض کی ادائیگی چاہتے ہیں اور ان کو نوٹیفیکیشن اور اداروں کے قیام کا انتظار ہے۔ ابھی تو ان کو کامیاب قرار دے کر سرکاری نوٹیفیکیشن ہونا ہے۔ اس کے بعد مخصوص نشستوں کے انتخابات ہوں گے اور تبھی ایوان مکمل ہوں گے اور سرکاری نوٹیفیکیشن کے بعد حلف برداری ہو گی اور یہ ادارے وجود میں آ کر اپنا کام شروع کریں گے۔

لاہور میں اس مرتبہ پاکستان سپر لیگ کے انتظامی امور مکمل ہو رہے ہیں تو دورہ نیوزی لینڈ کے لئے فٹنس کیمپ بھی لگایا گیا ہے اس کے لئے سزا یافتہ کرکٹر محمد عامر کو بھی طلب کیا گیا جس پر کچھ اختلافات بھی سامنے آئے۔بڑے نقاد محمد حفیظ ہیں جبکہ یونس خان اور مصباح الحق نے کوئی اعتراض نہیں کیا کہ مذکورہ باؤلر اپنی سزا بھگت چکا ہوا ہے پاکستان سپر لیگ کی تیاریاں اپنے اختتام پر ہیں۔ گزشتہ دو دنوں کے دوران لوگو کی رونمائی ہوئی تو کھلاڑی بھی نیلام ہوئے۔ ایک ٹیم کے کوچ ڈین جونز کی آمد ایک بڑی خبر بن گئی جو پاکستان سپر لیگ انتظامیہ کی دانش کا منہ بولتا ثبوت ہے ڈین جونز دوبئی سے دستاویزات اور ویزا کے بغیر ہی دوبئی سے اسلام آباد آ گئے۔ یہاں ان کو روک لیا گیا اور ایئرپورٹ سے باہر نہیں آنے دیا گیا۔ ان کو واپس دوبئی جانا پڑا۔ اس خبر کے بعد ان کی دستاویزات مکمل کرائی گئیں اور ایک دوسری پرواز سے وہ لاہور اترے اور یہاں تقریبات میں شرکت کی۔

لاہور آج کل عید میلاد النبیؐ اور کرسمس کی تقریبات کا شہر بن چکا یہاں سیاسی سرگرمیاں نہیں ہو رہیں۔ البتہ 27 دسمبر کو پیپلزپارٹی کی چیئرپرسن۔ سابق وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کی برسی کے حوالے یہاں سنٹرل پنجاب پیپلزپارٹی کا ایک اجلاس منعقد ہوا اس کا ایجنڈا برسی میں شرکت کا پروگرام بنانا تھا، لیکن صوبائی دفتر میں حاضری مکمل نہ تھی اس کے باوجود جو لوگ آئے انہیں کے ساتھ مشاورت کے بعد روانگی اور شرکت کا فیصلہ کیا گیا تا کہ بروقت 27 دسمبر کو گڑھی خدا بخش پہنچا جائے۔ پیپلزپارٹی لاہور نے اپنے طور پر پروگرام مرتب کیا ہے۔

اس کے علاوہ لاہور میں سیاسی حالات میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں اور نہ ہی لوگ دلچسپی لے رہے ہیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -