ایم کیو ایم کی علمیت پسندی نے ان کی پوزیشن مستحکم کردی، مئیر ان کا ہو گا

ایم کیو ایم کی علمیت پسندی نے ان کی پوزیشن مستحکم کردی، مئیر ان کا ہو گا

  

آنے والے دِنوں میں سندھ کا سیاسی منظر کیا رُخ اختیار کرے گا؟ اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا، تیزی کے ساتھ یکے بعد دیگرے ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں، جن سے صرفِ نظر بھی نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی ان پر اطمینان کیا جا سکتا ہے خدا کرے وہ تمام خدشات غلط ثابت ہو جائیں، جن کی باز گشت خوشی و غمی کی نجی تقریبات تک میں سنی جا رہی ہے۔ سندھ میں رینجرز کے خصوصی اختیارات میں توسیع کے حوالے سے سندھ حکومت اور عسکری قیادت کے درمیان مفاہمت نہ ہونا قومی سلامتی اور قومی یکجہتی کے حوالے سے بڑا سوالیہ نشان بنا ہوا ہے؟ اس میں کسی کو کوئی شک نہیں اور نہ ہی کوئی ذی ہوش اس حقیقت کا انکار کر سکتا ہے کہ کراچی میں آج جتنا بھی امن نظر آ رہا ہے، وہ نتیجہ ہے اس آپریش کا جو تمام جماعتوں کی مشاورت کے بعد قومی اتفاق رائے کے ساتھ رینجرز کو خصوصی اختیارات دینے کے بعد شروع ہوا تھا، ویسے تو رینجرز گزشتہ25سال سے حکومت سندھ کی درخواست پر سندھ میں موجود ہے،مگر کراچی میں اس کے باوجود بدامنی اور لاقانونیت کا دور دورہ رہا۔رینجرز کی موجودگی، دہشت گردی روک پائی اور نہ ہی بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان کا جن بوتل میں بند ہو پایا آج امن آیا ہے تو رینجرز کو خصوصی اختیارات دینے اور اس کے کام میں سیاسی عدم مداخلت کی پالیسی کی وجہ سے آیا ہے۔ اب بھی رینجرز کی موجودگی کی افادیت اسی وقت رہے گی جب اس کے پاس ہمہ اقسام کے مسلح گروہوں کی مکمل بیخ کنی اور ان کے طاقتور سرپرستوں اور سہولت کاروں پر کسی خوف و خطر کے بغیر ہاتھ ڈالنے کے قانونی اختیارات ہوں گے۔

سندھ اسمبلی کی سرکاری قرارداد کی روشنی میں حکومت سندھ نے خصوصی اختیارات کی جو سمری وزارتِ داخلہ کو ارسال کی ہے اس کی جو بھی آئینی اور قانونی پوزیشن ہو، وہ تنازعات میں اضافے کا باعث تو ہو سکتی ہے، کمی کا باعث بالکل نہیں۔ قومی سلامتی کو لاحق داخلی اور خارجی خطرات متقاضی ہیں کہ جلد از جلد سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان اختیارات کا تنازعہ مفاہمت کے ساتھ حل ہو،بصورت دیگر اس کے منفی اثرات سے کوئی فریق بھی بچ نہیں پائے گا۔ ڈاکٹر عاصم حسین کو صحیح پکڑا گیا ہے یا غلط۔ اس کا فیصلہ اب عدالتوں میں ہونا ہے،انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں کے منتظم جج جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹو نے ڈاکٹر عاصم حسین کی بے گناہی اور رہائی سے متعلق تفتیشی افسر کی جانب سے پیش کردہ اے کلاس کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ ’’بادی النظر میں ڈاکٹر عاصم حسین اور دیگر کے خلاف کافی شہادتیں موجود ہیں‘‘۔ خصوصی عدالتوں کے منتظم جج جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹو نے تفتیشی افسر ڈی ایس پی الطاف حسین کی جانب سے پیش کردہ بے گناہی اور رہائی سے متعلق رپورٹ کو مسترد کر کے جے آئی ٹی کی رپورٹ کی روشنی میں ڈاکٹر عاصم حسین پر انسداد دہشت گردی کی عدالت میں کیس چلانے کا فیصلہ کیا ہے، جس پر سندھ حکومت نے شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے اور ڈاکٹر عاصم حسین کے وکیل سابق اٹارنی جنرل آف پاکستان کیپٹن (ر) انور منصور خان نے فیصلے کے خلاف ہائیکورٹ میں جانے کا اعلان کیا ہے۔ڈاکٹر عاصم حسین کے وکیل انور منصور خان نے ’دُنیا‘‘ نیوز کے ٹاک شو کے میزبان ’’کامران خان کے ساتھ‘‘ میں ڈاکٹر عاصم حسین کے کیس کے فیصلے پر بات کرتے ہوئے رینجرز پر دستاویز میں جعل سازی کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ اب عدالت اس کیس کو کس طرح دیکھتی ہے۔ اس پر کوئی اعتراض بھی مناسب نہیں ہے۔ عدالت ڈاکٹر عاصم حسین اور ان کے ساتھ دیگر ملزموں کے بارے میں کیا فیصلہ کرتی ہے؟ اس کا انتظار کرنا چاہئے۔

دوسری طرف ایم کیو ایم کی طرف سے کراچی کی میئر شپ کے لئے نامزد امیدوار وسیم اختر جو ڈاکٹر عاصم حسین کے ساتھ دہشت گردوں کے علاج اور سہولت کار کے الزام میں نامزد ملزم ہیں رینجرز سے درخواست کر رہے ہیں کہ اگر ان کے کسی بیان یا ٹاک شو میں ان کی زبان سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو وہ ان سے معذرت کرتے ہیں وہ یہ بات تواتر کے ساتھ کر رہے ہیں۔ ایم کیو ایم نے رینجرز سے ورکنگ ریلیشن شپ دوسرے مرحلے کے بلدیاتی انتخاب سے قبل ہی آپریشن کی حمایت کر کے اور کراچی کے امن کی بحالی میں اس کے مثبت اثرات کا اعتراف کر کے کرلی تھی۔ اب نامزد میئر نے باقاعدہ طور پر دل آزاری پر معذرت بھی کر لی ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ وسیم اختر نے رینجرز سے ہی معذرت نہیں کی، بلکہ اپنی مخالف تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کی دل آزاری پر بھی معذرت کر کے یہ تک کہہ دیا کہ وہ جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ لاہور، اور تحریک انصاف کے ہیڈ کوارٹر تک کراچی شہر کے مسائل حل کرنے کے لئے تعاون کے لئے جانے کو تیار ہیں۔ نامزد میئر کی طرف سے یہ ایک خوش آئند اقدام ہے جس کا ان کے سیاسی مخالفوں کی طرف سے مثبت جواب ملنا چاہئے۔ ایم کیو ایم نے ہمیشہ عملیت پسندی کی سیاست کی ہے،اس کے مخالف ہر بار اس کی عملیت پسندی کی سیاست کے سامنے اپنی غلط حکمت عملی اور غلط اندازوں کی وجہ سے پسپا ہوئے ہیں،حالیہ بلدیاتی انتخابات میں بھی یہی کچھ ہوا ہے۔ایم کیو ایم نے رینجرز آپریشن کو اپنے حق میں بڑی چابک دستی اورمہارت سے استعمال کیا جس کا ادراک کرنے سے اس کے مخالف عاری نظر آئے۔ بلدیاتی الیکشن میں’’مہاجر کارڈ‘‘ ایم کیو ایم کی کامیابی کا بنیادی فیکٹر رہا تاہم ایم کیو ایم کو اس زمینی حقیقت کا بھی ادراک بخوبی ہے کہ اب ’’مہاجر کارڈ‘‘ نہیں زمین پر کام کر کے دیکھنا ہو گا، جس کے لئے انہیں سب کا تعاون درکار ہو گا۔ وسیم اختر کا یہ اعلان بھی بہت خوش آئند ہے کہ وہ میئر تو ایم کیو کی وجہ سے بنے ہیں تاہم وہ میئر ایم کیو ایم کے نہیں، پورے کراچی کے شہریوں کے میئر ہوں گے، جس میں ایم کیو ایم کے مخالف بھی شامل ہیں وہ ان کا تعاون بھی حاصل کریں گے اور ان کو اپنے ساتھ لے کر چلیں گے۔ اگر وہ اپنے اس عہد پر قائم رہے تو وہ سابق میئر کراچی عبدالستار افغانی(مرحوم) کی طرح ہمیشہ تاریخ میں زندہ رہیں گے۔ جناب عبدالستار افغانی نے منتخب ہونے کے بعد حلف اٹھاتے ہی یہ اعلان کر دیا تھا کہ ’’مجھے میئر کے لئے نامزد میری جماعت جماعتِ اسلامی نے کیا ہے، اور مَیں اس کی وجہ سے ہی کامیاب ہوا ہوں۔ میری جماعت جب تک چاہے گی، مَیں میئر کے منصب پر فائز رہوں گا اور جب وہ مجھے اس منصب سے فارغ کرنے کا فیصلہ کرے گی مَیں ایک لمحہ کی تاخیر کے بغیر مستعفی ہو کر گھر چلا جاؤں گا،مگر جب تک میئر رہوں گا شہر کا میئر ہوں گا جماعت اسلامی کا میئر نہیں ہوں گا‘‘۔ ایک موقع ایسا بھی آیا کہ جب بلدیہ میں جماعت اسلامی کے ذمہ داران اور میئر کے درمیان اختلاف رائے پیدا ہوا، تو عبدالستار افغانی نے اپنی جماعت کی مرکزی قیادت کے سامنے پوری بے باکی کے ساتھ یہ موقف اختیار کیا تھا کہ جماعت اسلامی کو مجھے میئر رکھنے یا نہ رکھنے کا پورا حق اور اختیار ہے،مگر میئر کی حیثیت سے مجھے پورے کراچی کو ایک اکائی کے طور پر دیکھنا بھی ہو گا اور اپنے سیاسی مخالفوں کی کڑوی کسیلی باتوں کو خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت بھی کرنا پڑے گا۔ جماعت کا ہاؤس میں دفاع کرنا میئر کا کام نہیں ہے، بلکہ اس کا جواب جماعت اسلامی دے گی،میئر نہیں دے گا‘‘۔ جب یہ معاملہ اس وقت کے امیر میاں طفیل محمد مرحوم و مغفور کے سامنے پیش کیا گیا، تو میاں طفیل محمد نے عبدالستار افغانی کے موقف کی تائید کی تھی۔ جناب عبدالستار افغانی مرحوم نے اپنے عمل سے ثابت کیا تھا کہ وہ جماعت اسلامی کا نہیں شہر کراچی کا میئر تھا۔ اللہ کرے جناب وسیم اختر ایم کیو ایم کے نہیں شہر کراچی کے میئر ثابت ہوں۔ جناب وسیم اختر کے لئے ایسا کرنا اس لئے بھی ضروری ہو گا کہ بلدیاتی انتخابات میں کراچی میں انہیں میئر شپ کے لئے ضلع وسطیٰ، ضلع شرقی، ضلع کورنگی میں بھرپور کامیابی نے بلدیہ عظمیٰ میں کسی دوسری جماعت کے ووٹوں کی حمایت کی ضرورت سے بے نیاز ضرور کر دیا، مگر انہیں آزادانہ اور غیر جابندارانہ پولنگ میں اتنے ووٹ نہیں ملے، جو وہ ماضی میں بیلٹ بکسوں سے برآمد کر لیا کرتی تھی،اب اسے کراچی میں 24 لاکھ ووٹوں کی جگہ نصف سے کم ووٹ ملے ہیں۔ ضلع وسطی(سنٹرل) جہاں اسے سب سے زیادہ نشستیں اور سب سے زیادہ ووٹ ملے ہیں وہاں لینڈ سلائیڈ ملنے کے باوجود پولنگ کی شرح ماضی کے مقابلے میں تو بہت کم ہے۔ ضلع وسطی میں ٹوٹل ووٹ17لاکھ سے زیادہ ہیں جبکہ کاسٹ ہونے والے ووٹوں کی تعداد5لاکھ 90ہزار کے قریب ہے۔ایم کیو ایم کی اس ضلع میں51یونین کمیٹیوں سے50پر کامیابی اور ساڑھے چار لاکھ ووٹ ملے ہیں جبکہ کاسٹ ہونے والے ووٹوں کا77فیصد ایم کیو ایم کو اور23فیصد اس کے مخالفوں کو پڑے ہیں یہ اوربات کہ وہ اپنی غلط حکمت عملی کی وجہ سے نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -