لودھراں کا ضمنی انتخاب، جہانگیر ترین، صدیق بلوچ میں سخت مقابلہ،کانجو گروپ اہم ہے

لودھراں کا ضمنی انتخاب، جہانگیر ترین، صدیق بلوچ میں سخت مقابلہ،کانجو گروپ ...

  

جنوبی پنجاب کی سیاسی ڈائری

شوکت اشفاق:

تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے ایک مرتبہ پھر یہ خوشخبری سنا دی ہے کہ ان کی یعنی تحریک انصاف کی حکومت وفاق میں بھی آنے والی ہے خیبرپختون خوا میں پہلے ہی وہ صاحب اقتدار ہیں۔ انہوں نے یہ مژدہ نمل یونیورسٹی میانوالی کے کانووکیشن سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے سنایا اور بہت جلد ملک بھر میں ان کی حکومت ہو گی تاہم انہوں نے ٹائم فریم نہیں دیا بلکہ یہ بتایا کہ نیا پاکستان بنانے کی سوچ ایک بڑی سوچ ہے جس پر عمل درآمد کرنے کا وقت قریب آچکا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی جذبات میں آکر انہوں نے نمل یونیورسٹی سے متصل زمین کے مالکان کو دھمکی بھی دے دی کہ وہ فوری طور پر اپنی زمین معاوضہ یا بغیر معاوضہ یونیورسٹی کے نام کر دیں ورنہ وہ اقتدار میں آکر آرٹیکل 4 نافذ کر دیں گے جس سے یہ زمین یونیورسٹی کے نام منتقل ہو جائے گی اور مالکان کو اس کا معاوضہ بھی نہیں ملے گا، عمران خان اقتدار میں آتے ہیں کہ نہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن اراضی مالکان نے کہا ایک قومی جماعت کا دعویٰ کرنے والی جماعت کے سربراہ کو زیب دیتا ہے جو اپنے آپ کو قومی لیڈر کے طور پر پیش کرتا ہے کہ اس طرح کی دھمکی دے اور وہ بھی ایک ایسے وقت جب متعدد قومی سیاسی رہنماؤں کا نام قبضہ گروپوں اور شریف شہریوں کی جائیدادیں ہتھیانے میں مسلسل آرہا ہے جس پر سول ادارے ایکشن بھی لینے سے ڈرتے ہیں اور صرف فوج اور رینجرز ان پر ہاتھ ڈال رہی ہے۔ عمران خان کو اس طرح کا سیاسی رہنما بنانے میں اسی قسم کے عوام نے اہم کردار ادا کیا ہے اور وہ یقیناًاس توقع کے ساتھ عمران خا ن پر اعتماد کر رہے ہوں گے کہ شاید یہ ان کا نجات دہندہ بن جائے گا لیکن ان کی طرف سے اس قسم کی ’’بھائی لوگ‘‘ والی زبان نے شاید ان ووٹروں کو دوبارہ سوچنے پر مجبور بھی کر دیا ہو اور ان میں ایسے بھی ضرور ہوں گے جو ’’پرانے پاکستان‘‘ میں ہی رہنا پسند کریں کیونکہ ان کے لئے نئے پاکستان میں بھی دھونس اور دھمکی سے جائیداد ہتھیانے والے آرہے ہیں اور یہ مسئلہ یہیں ختم نہیں ہوتا بلکہ اس کا سلسلہ تارکین وطن کے ساتھ بھی جڑا ہے جہاں سے موصوف فنڈز کی بڑی رقوم لے کر آتے ہیں مگر ان کے ساتھ بھی یہی کچھ روا ہوتا ہے جس کے بارے میں موصوف نے اپنی تقریر میں ذکر کیا ہے، اب تحریک انصاف کے قائد اپنے یہ قابل اعتراض الفاظ واپس لیتے ہیں یا ماضی کی طرح اس پر ڈٹ جاتے ہیں یہ تو وقت آنے پر ہی معلوم ہو گا لیکن ایک بات کا اندازہ اب بھی ہو رہا ہے کہ لودھراں کے ضمنی انتخاب میں انہیں اس دھمکی کی قیمت شاید چکانی پڑ جائے گی کیونکہ لودھراں اور اس کے مختلف علاقوں میں صدیوں سے یہاں کے عوام قبضہ گروپوں اور ناجائز زمینیں ہتھیانے والوں کے نرغے میں ہیں اور اس مرتبہ شاید انہوں نے سوچ رکھا ہو گا کہ وہ اس سے بچنے کے لئے کسی دوسری بڑی مخالف قوت کو ووٹ ڈالیں جس کے لئے جہانگیر ترین ایک اچھا چناؤ ہو سکتے تھے مگر جذبات میں بغیر سوچے سمجھے اور الفاظ کا چناؤ کیے بغیر ادا کئے فقرے ان کے لئے سیاسی نقصان کا باعث بن سکتے ہیں، کیونکہ لودھراں میں اس وقت ہونے والے ضمنی انتخاب میں جہانگیر ترین کا پلڑا کوئی زیادہ بھاری نہیں ہے کیونکہ صدیق خان بلوچ اس علاقے سے کافی عرصے سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں اور قبل ازیں بھی رکن قومی اسمبلی رہ چکے ہیں انہیں مقامی لوگوں سے ووٹ لینے کا ’’ڈھنگ‘‘ آتا ہے انہیں معلوم ہے کہ دیہات میں انتخاب کیسے لڑا جاتا ہے اور وفاق اور صوبے کی حکومتیں اس کے ساتھ ہیں جو دن رات ان کے لئے انتھک کاوشیں کر رہے ہیں وفاقی یا صوبائی حکومتوں کی حمایت کام آتی ہے یا صدیق خان بلوچ کی اپنی سیاسی اور انتخابی حکمت عملی کام دکھاتی ہے اس کا فیصلہ اس وقت ہو رہا ہو گا۔

جس وقت آپ یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے۔

مگر ایک بات بالکل واضح ہے کہ یہ ضمنی الیکشن آئندہ آنے والے عام انتخابات کے لئے بھی راہیں متعین کرے گا۔ کیونکہ یہ انتخاب نہ صرف مسلم لیگ (ن) کا ہے بلکہ اس علاقے میں موجود کانجو گروپ کا بھی ہے جو سابق وزیر مملکت صدیق خان کانجو کے بڑے بیٹے عبدالرحمن خان کانجو نے ترتیب دے رکھا ہے اور اس کی قیادت کر رہے ہیں اور انہوں نے گذشتہ عام انتخابات میں نہ تو مسلم لیگ (ن) کا ٹکٹ حاصل کیا اور نہ ہی کسی دوسری جماعت سے بات کی انہوں نے آزاد حیثیت سے ضلع میں ترجیحی پوزیشن حاصل کر لی۔ صدیق خان بلوچ بھی ان کے گروپ کی طرف سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے اس لئے اب دیکھنا یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور ان کی دو حکومتیں صدیق کانجو گروپ کے ساتھ مل کر تحریک انصاف کے امیدوار جہانگیر خان ترین کو کتنا سخت جواب دیتے ہیں۔ ویسے بھی ن لیگ کے امیدوار نے اپنے حلقے کے عوام کو یہ خوشخبری سنا دی ہے کہ ’’ان‘‘ کے جیتنے سے حکومت مہنگائی بیروز گاری اور لوڈشیڈنگ پر فوری قابو پا لے گی یہ ایک ایسا بہلاوہ ہے جو عوام کو ہر انتخاب کے موقع پر اوپر سے نیچے والی قیادت بغیر سوچے سمجھے سنا دیتی ہے لیکن شاید اس بات کے جواب میں عمران خان نے لودھراں میں انتخابی مہم کے آخری جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی اور پنجاب کی صوبائی حکومت کے خلاف مہنگائی میں اضافہ کرنے پر اسمبلیوں میں تحریک چلانے کا اعلان کر دیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فوراً مزید کمی کرے اور ان ڈائریکٹ ٹیکسوں کی مد میں فوری کمی لائے اور کسانوں کو مزید ریلیف دے۔ انہوں نے اورنج لائن ٹرین پر بھی تنقید کی اور ان پیسوں کو تعلیمی اصلاحات پر خرچ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ عمران خان نے جلسہ میں عوامی جوش و خروش کو گذشتہ عام انتخابات سے زیادہ قرار دیا اور اسے جہانگیر ترین کو کامیابی کی نوید بتایا اور کہا کہ ہم کسانوں کا معاشی قتل عام نہیں ہونے دیں گے دوسری طرف انتخابی مہم کے آخری دن (ن) لیگ کے مرکزی رہنما میاں حمزہ شہباز نے بھی ایک بڑے جلسے سے خطاب کیا اور میانوالی میں عمران خان کی تقریر پر سخت تنقید کی اور اسے دھونس اور جھوٹ کی سیاست قرار دیا اور کہا کہ اگر کسی نے شہریوں کی جائیداد کی طرف دیکھنے کی کوشش کی تو اس کا سخت محاسبہ ہو گا۔ تاہم حمزہ شہباز نے مذکورہ شہریوں کو مایوس قرار دے دیا یہ مایوس شہری کون ہیں اور کس سے مایوس ہیں یہ تو میاں حمزہ شہباز شریف ہی بتا سکتے ہیں جن کے سگے ’’تایا‘‘ وزیر اعظم اور والد گرامی وزیر اعلیٰ عرف خادم اعلیٰ پنجاب ہیں یہ بھی بتائیں گے کہ انہیں مایوسی حکومت وقت سے ہے یا پھر تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -