مجذوب چشتی کا چوتھا اور آخری مجموعہ کلام ’’زاویہ فکر‘‘ شائع ہوگیا

مجذوب چشتی کا چوتھا اور آخری مجموعہ کلام ’’زاویہ فکر‘‘ شائع ہوگیا

  

لاہور(پ ر)ملک کے ممتاز مزاحیہ اور سنجیدہ شاعر مجذوب چشتی مرحوم کا چوتھا اور آخری مجموعہ کلام’’زاویہ فکر، مجذوبیات اور کشکول‘‘ کے عنوان سے شائع ہوگیا ہے 236 صفحات کے اس مجموعہ کے تین حصے ہیں پہلے ‘‘زاویہ فکر‘‘ میں مرحوم کی سنجیدہ غزلیں، دوسرے حصے ’’مجذوبیات‘‘ ان کی نمکین مزاحیہ غزلیں، نظمیں اور قطعات اور تیسرے حصے ’’کشکول‘‘ میں ان کا پنجابی ملا جلا مزاحیہ اور سنجیدہ کلام شامل ہے یوں یہ مجموعہ ان کے ورسٹائل شاعر ہونے کا معیار ی اور منہ بولتا ثبوت ہے اس کتاب کے فلیپ عطاء الحق قاسمی، نجیب احمد اور زاہد فخری نے لکھے ہیں جبکہ کتاب کے آغاز میں دیباچے ممتازمزاحیہ شاعر انور مسعود اور امجد اسلام امجد نے تحریر کئے ہیں مجذوب چشتی اور ان کی شاعری کے بارے میں ڈاکٹر انعام الحق جاوید، ڈاکٹر اجمل نیازی، اعزاز احمد آزر(مرحوم)، آفتاب اقبال، ضیاء الحق قاسمی(مرحوم) اور ڈاکٹر احسن اختر ناز کے کالم شائع کئے گئے ہیں مجذوب چشتی کا 1970ء سے لے کراپنی وفات2008 تک ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی ویژن کے بہت معروف اور ممتاز شعراء میں شمار ہوتا تھاکئی صاحبان ذوق کو ان کا مزاحیہ اور سنجیدہ کلام آج بھی یاد ہے اس سے قبل ان کے تین مجموعہ ہائے کلام مجذوب کی بڑ، ذکرنبیؐ اور چڑیا گھر کے نام سے شائع ہوچکے ہیں اور قائرین سے پذیرائی حاصل کرچکے ہیں۔ مکتبہ علم و عرفان اردو بازار لاہو سے شائع ہونے والی اس خوبصورت گٹ اپ والی کتاب کی قیمت 300 روپے ہے اس کتاب کی تقریب رونمائی 7 فروری 2016ء بروز اتوار صبح ساڑھے نو بجے یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی(یو ایم ٹی )جوہر ٹاؤن کے آڈیٹوریم میں منعقد ہوگی۔

مزید :

میٹروپولیٹن 4 -