قتل کیس میں ضمانت پر رہا کپڑے کا تاجر عدالت سے واپسی پر مارا گیا، مدعی بھائی 7برسوں میں نفسیاتی مریض بن گیا

قتل کیس میں ضمانت پر رہا کپڑے کا تاجر عدالت سے واپسی پر مارا گیا، مدعی بھائی ...

  

لاہور(کامران مغل )قتل کے مقدمہ میں پیشی بھگتنے کے بعد عدالت سے واپسی پر دیرینہ دشمنی کی بناپرباپ بیٹوں نے کپڑوں کے تاجرمیرے بھائی افضال حسین کو فائرنگ کرکے قتل کردیا جبکہ میرے کزن کو گولیاں مار کرزخمی کردیاگیا۔گزشتہ 7سالوں سے انصاف کے حصول کے لئے بھٹک رہاہوں اوربدقسمتی سے آج تک مقدمہ کا فیصلہ نہیں ہوسکا ہے ،اتنا عرصہ گزرنے کے بعد بھی جلد انصاف ملنے کی کوئی کرن نظر نہیں آرہی ہے ،ہر بار اگلی تاریخ ملنے کے باعث مقدمہ کے فیصلے کے انتظار میں نفسیاتی مریض بنتا جارہاہوں ۔پاکستان کی جانب سے "ایک دن ایک عدالت "کے سلسلے میں کئے جانے والے سروے کے دوران جوئے شیعہ علی پورچٹھہ گوجرانوالہ کے رہائشی آصف حسین نے بتایا کہ اس کا بھائی افضال حسین کپڑے کا کاروبار کرتا تھا جبکہ مخالف فریق بھی اسی کاروبار سے منسلک تھے اور اسی وجہ سے کاروباری معاملے میں ان کی تلخ کلامی ہوگئی تھی ،متاثرہ شخص نے مزید بتایا کہ اسی رنجش کی بنا پر2006ء میں میرے بھائی افضال حسین اوراس کے برادرنسبتی جہانگیر اوردستگیر کے خلاف تھانہ نشترکالونی میں قاسم خان نامی شخص کو قتل کرنے کے الزام میں مقدمہ نمبر449/06درج کروایا گیا تھا ،مذکورہ کیس میں میرے بھائی سمیت دیگر ملزمان ضمانتوں پر تھے ،8اگست2008ء کو میرا بھائی اپنے کزن عباد حسین کے ہمراہ اس وقت کے ایڈیشنل سیشن جج رانا یوسف کی عدالت سے مذکورہ قتل کے مقدمہ کی سماعت کے بعد سیشن کورٹ سے واپس گھر جارہا تھا کہ پہلے سے گھات لگائے ملزمان صادق خان اور اس کے بیٹوں ماجد خان اور آصف خان نے عامر ہوٹل کے قریب پہنچتے ہی انہیں گھیر لیا اور للکارا مارا کہ آج بھائی مقتول قاسم خان کے قتل کا بدلہ لیں گے جس کے بعدانہوں نے فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجہ میں میرا بھائی افضال حسین اور کزن عباد حسین شدیدزخمی ہوگئے ،فوری طبی امداد کے لئے دونوں کو ہسپتال لے جایا گیا لیکن افضال حسین زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے راستے میں ہی دم توڑ گیا جس کے بعد تھانہ اسلام پورہ پولیس نے مذکورہ ملزمان کے خلاف مقدمہ نمبر1130/08بجرم148/149/302درج کروادیا ۔متاثرہ شخص کا کہنا تھا کہ ملزمان نے کپڑوں کے کاروبار کے تنازع پر معمولی تلخ کلامی کے بعد رنجش دل میں رکھتے ہوئے میرے بھائی کے خلاف پہلے مبینہ طور پر جھوٹا قتل کا مقدمہ درج کروایا اور اسی کو بنیا د بنا پر میرے بھائی افضال حسین کو قتل کردیا گیا ،ملزمان نے میرے بھائی کو قتل کرکے ہماری خوشیاں چھین لی ہیں ،بھائی کے قاتلوں کو پھانسی کے پھندے پر پہنچا کر ہی دم لوں گا۔مقدمہ مدعی کے وکلاء کا کہنا ہے کہ یہ کیس کافی عرصہ سے سیشن عدالت میں زیرسماعت ہے اوراس کی سماعت متعدد ایڈیشنل سیشن ججز کرچکے ہیں ،اب یہ کیس ایڈیشنل سیشن جج عامر شہباز میر کی عدالت میں زیر سماعت ہے ۔وکلاء کا کہنا تھا کہ اس کیس میں دونوں مخالف گروپس کی جانب سے افراد قتل ہوئے ہیں تاہم دونوں مقدمات کا تاحال فیصلہ نہیں ہوسکا ہے جس کی بڑی وجہ پولیس کی جانب سے بروقت گواہان ودیگر عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ کرنا ہے اور اسی وجہ سے مقدمہ التواء کا شکار ہے ،اس وقت مقتول افضال حسین کے کیس میں شہادتیں طلب کی گئی ہیں ،اس کیس کی مزید سماعت6جنوری2016کو ہوگی۔

مزید :

صفحہ آخر -