توہم پرستی یا بد عقیدگی، صوبائی دارالحکومت کی 4ہزار سے زائد جائیدادیں آسیب زدہ قرار

توہم پرستی یا بد عقیدگی، صوبائی دارالحکومت کی 4ہزار سے زائد جائیدادیں آسیب ...

  

لاہور(عامر بٹ سے)صوبائی دارالحکومت کے چار ہزار سے زائد گھر اور پراپرٹیاں آسیب ذدہ قرار،کئی کئی برسوں سے ویران پڑے ہوئے ان گھروں میں جانوروں نے ڈیرے ڈال لئے ، جنات ،آسیب اور بھوت پریت کی نت نئی کہانیوں اور افواہوں کے باعث لوگ بدعقیدگی کا شکار ہونے لگے،ذرائع کے مطابق لاہور کی حدودمیں اس وقت چارہزار سے زائد گھر اور مختلف جائیدادیں ایسی ہیں جن کو وہم،ذہنی،نفسیاتی بیماری،توہم پرستی ،بد عقیدگی کی وجہ سے لوگوں نے آسیب ذدہ اور منحوس قرار دے دیا ہے ،بھگت پورہ،اندرون بھاٹی ،لوہاری،رنگ محل،بھسین،لکھوڈیر،کاہنہ،اچھرہ،الحمد کالونی،بادامی باغ کے ملحقہ آبادیاں،شاہدرہ،صغیر سینماء کے علاوہ درجنوں ایسی آبادیاں ہیں جہاں پر بیشتر گھر ،حویلیاں اور پراپرٹیاں ایسی ہیں جو ویران پڑی ہوئی ہیں ،کئی کئی سالوں سے خریدار اور فروخت کنندہ جن کی طرف آنے سے گھبرارہے ہیں ،لوگوں نے جنات ،بھوت پریت،آسیب ،سایہ کی طرح طرح کی کہانیاں اپنے ذہنوں میں بیٹھانے کے علاوہ مشہور بھی کر رکھی ہیں ،جن کی وجہ سے کوئی بھی فرد ان گھروں کو خریدنے کی کوشش نہ کرتا ہے ،برسوں سے ویران پڑی ان جگہوں میں جانوروں اور پرندوں نے بسیرا کر رکھا ہے رات کے وقت جن کی آوازوں کو بھوت پریت کی آوازیں کہا جارہا ہے ،لوگوں میں اس بارے میں اتنی بدعقیدگی اور توہم پرستی پھیلی ہوئی ہے کہ ان ویران جگہوں کو اپنا مسکن بنانے والے جانوروں اور پرندوں کو جنات ،بھوت قرار دے دیا ہے ،جادو ٹونہ کرنے والے جعلی عاملوں اور نام نہاد پیروں نے بھی ان پر اسرار مکانوں اور جگہوں سے ان جنات اور آسیب کونکالنے کے بہانے پراپرٹی مالکان سے خوب مالی فوائد حاصل کئے ہیں ویرانی اور لوگوں میں پھیلی ہوئی طرح طرح کی کہانیوں نے منشیات فروشوں ،جرائم پیشہ افراد اور نشیوں نے ان مقامات کو اپنی پناہ گاہ بنار کھا ہے ،لوگوں کی آمدو رفت نہ ہونے کے باعث یہ مقامات ان جرائم پیشہ افراد کی محفوظ پناہ گاہ بنے ہوئے ہیں ،بعض افراد کے نزدیک پراپرٹی کے کاروبار سے وابستہ لوگوں نے بھی یہ کہانیاں جان بوجھ کر لوگوں میں مشہور کر رکھی ہیں تاکہ سستے داموں ان جگہوں کو خرید کر زیادہ زیادہ سے منافعہ حاصل کیا جاسکے ۔علماء اکرام کا اس بارے میں کہنا ہے کہ جنات اور آسیب کا وجود موجود ہے لیکن جن گھروں ،آبادیوں میں ،نماز روزہ کی پابندی اور قران پاک کی تلاوت معمول ہے وہاں پر ایسی مخلوق کا وجود ناممکن ہے کیونکہ قران رحمت ہے اور رحمت کے ہوتے کسی زحمت کا وجود نہیں ہو سکتا ہے،صوبائی دارلحکومت میں جن گھروں اور پراپرٹیوں کو آسیب زدہ قرار دیا گیا ہے ان میں حقیقت سے زیادہ لوگوں میں قران و حدیث اور تعلیم کی کمی وجہ سے صرف قصے کہانیاں مشہور ہیں،دوسری جانب ان پراپرٹیوں اور گھروں کے مالکان نے ڈی سی او لاہور سے اپیل کی ہے ہماری ان پراپرٹیوں کے بارے میں مشہور کہانیوں کی سچائی جاننے کے لئے سروے کروا کر کلیئرنس رپورٹ دی جائے اور بھوت پریت اور آسیب ذدہ ہونے کی چھاپ کو ختم کیا جائے ۔

مزید :

صفحہ آخر -