پنجاب قتل اور اقدام قتل کی وارداتوں میں اضافہ نے پولیس کی کارگردگی ظاہر کر دی

پنجاب قتل اور اقدام قتل کی وارداتوں میں اضافہ نے پولیس کی کارگردگی ظاہر کر دی

  

 لاہور(وقائع نگار) پنجاب میں قتل ،اقدام قتل اور ڈکیتی مزاحمت پر قتل کے رواں سال کے پہلے 10ماہ میں ہونے والے مقدمات میں متواتر اضافہ نے پولیس کی کارکردگی کا پول کھول دیا ہے ۔پولیس کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال قتل اور ڈکیتی مزاحمت پر قتل کے کل 3843مقدمات درج ہوئے جبکہ اقدام قتل کے 4383مقدمات درج کیے گئے۔تفصیلات کے مطابق صوبہ بھر میں قتل ،اقدام قتل اور ڈکیتی مزاحمت پر قتل کے واقعات میں متواتر اضافہ ہو رہا ہے جبکہ نامعلوم لاشوں کی صورت میں سینکڑوں قتل ایسے ہیں جن کے مقدمات ہی درج نہیں کیے گئے کیونکہ مقتولین کے لواحقین کا سراغ نہیں لگایا جا سکا تھا اور مقتولین کو لاوارث قرار دیکر پولیں نے سپرد خاک کرتے ہوئے کارروائی مکمل کر لی ہے ۔ایک محتاط اندازے کے مطابق صرف صوبائی دارالحکومت میں روزانہ تین نامعلوم لاشیں ملتی ہیں جبکہ پنجاب بھر میں یہ تعداد 20سے 25 کے درمیان ہے ۔اس طرح سے سالانہ پنجاب بھر سے 9ہزار سے زائد نامعلوم لاشیں ملتی ہیں جن میں سے 60فیصد افراد کو تشدد ، بداخلاقی ،گلا دبا کر یازہر دیکر مارا گیا ہوتا ہے لیکن شناخت نہ ہونے پر ان قتلوں کا مقدمہ د رج نہیں ہو سکتا اور چند روز تک مردہ خانہ میں رکھے جانے کے بعد پوسٹ مارٹم کی کارروائی مکمل کرتے ہوئے پولیس اہلکار ان کو سپرد خاک کر کے بری الزماں ہو جاتے ہیں ۔پنجاب پولیس کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے پہلے 10ماہ میں قتل اور ڈکیتی مزاحمت پر قتل کے 3843مقدمات درج کیے گئے جن میں سے 210مقدمات کو بعد ازاں تفتیش کے دوران کینسل کر دیا گیا ۔2612مقدمات کے چالان مکمل کر کے عدالت میں پیش کیے گئے جبکہ 865مقدمات تاحال زیر تفتیش ہیں اور 156قتل کے ایسے مقدمات بھی ہیں جن کا کوئی سراغ پولیس نہیں لگا سکی ہے۔اسی طرح سے اقدام قتل کے کل 4382مقدمات ماہ اکتوبر تک درج ہوئے جن میں سے 242مقدمات کو کینسل کر دیا گیا ۔3673مقدمات کا چالان مکمل کر کے عدالت میں پیش کیا گیا اور 763مقدمات تاحال زیر تفتیش ہیں ۔ان مقدمات میں بھی 204مقدمات ایسے ہیں جن کو پولیس تاحال ٹریس کرنے میں ناکام رہی ہے ۔ڈکیتی کے مقدمات کی کل تعداد 1288ہے جو کہ رپورٹ کیے گئے ان میں سے بھی پولیس نے 111مقدمات کو کینسل کر دیا جبکہ 789مقدمات کے چالان پیش کیے گئے ۔262مقدمات تاحال زیر تفتیش ہیں اور 126مقدمات کا سراغ نہیں لگایا جا سکا۔

مزید :

علاقائی -