لا پتہ افراد کا سراغ بیرون ملک قید پاکستانیوں کا مسئلہ قومی اہمیت کا حامل بن گیا

لا پتہ افراد کا سراغ بیرون ملک قید پاکستانیوں کا مسئلہ قومی اہمیت کا حامل بن ...
 لا پتہ افراد کا سراغ بیرون ملک قید پاکستانیوں کا مسئلہ قومی اہمیت کا حامل بن گیا

  

لاہور(بلال چودھری )لاپتا افرادیاایجنسیوں کے ہاتھوں گرفتار اور بیرون ملک قید پاکستانی شہریوں کا مسئلہ قومی اہمیت کا حامل بن چکا ہے، دنیا بھر میں اس مسئلے کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے اور بین الاقوامی سطح پر 30 اگست کو لاپتہ افراد کے عالمی دن کی حیثیت سے منایا جاتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق صرف امریکا میں سالانہ 9 لاکھ افراد غائب کردیے جاتے ہیں جس سے اس مسئلے کی بین الاقوامی اہمیت اور سنگینی کا احساس ہوتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق بیرون ملک 8500 سے زائد پاکستانی قیدی جیلوں میں قید ہیں۔پاکستان کا 13 ممالک کے ساتھ تحویل مجرمان کا معاہدہ ہے۔ سب سے زیادہ پاکستانی منشیات کے کیسز میں قید ہیں۔ جبکہ اسی وجہ سے کویت نے پاکستانیوں کے لئے ویزے بند کئے ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق سب سے زیادہ پاکستانی سعودی عرب، یو اے ای، کویت اور عمان کی جیلوں میں قید ہیں۔بھارت میں قید پاکستانی شہریوں کی تعدا 403 ہے جب کہ عمان میں 347، افغانستان میں 315 اور چین کی جیلوں میں پاکستان کے 264 شہری بند ہیں۔ماضی میں شکیل آفریدی کی حوالگی و رہائی اور اس کے بدلے میں ڈاکٹر عافیہ کی واپسی کے تذکرے اور تجویز کافی عرصہ چلتی رہی ہے۔جبکہ حکومت کی جانب سے بیرون ملک سزا یافتہ پاکستانی قیدیوں کو واپس ملک میں لانے کے فیصلے کی خبریں بھی کئی مرتبہ سننے میں آئی ہیں لیکن عملی طور پر صورتحال نہ ہونے کے برابر ہے ۔رپورٹ کے مطابق مختلف ممالک میں قید پاکستانیوں کی زیادہ تعداد امیگریشن قواعد کی خلاف ورزی اور منشیات کے جرائم میں ملوث ہے۔ پاکستان کچھ عرصے سے امریکا و یورپ سمیت دنیا کے 20 ممالک سے اپنے قیدیوں کی واپسی کے لیے کوشاں ہے لیکن اس میں کوئی خاطر خواہ کامیابی تاحال نہیں مل سکی ہے ۔رپورٹ کے مطابق امیگریشن قوانین کے تحت سزا پانے والے قیدی عموماً بے ضرر ہوتے ہیں، جن میں بڑی تعداد ایسے شہریوں کی ہوتی ہے جو اپنی لاعلمی یا انسانی اسمگلنگ کے کاروبار میں ملوث گروہ یا ایجنٹوں کی دھوکا بازی کی بنا پر قانون کی زد میں آجاتے ہیں۔ لیکن منشیات جیسے دھندوں میں ملوث افراد کو لمبی سزائیں دی جاتی ہیں، ان پر حکومت کو اضافی اخراجات برداشت کرنے کے علاوہ بعض قیدیوں کو خصوصی سیکیورٹی بھی دینا ہوگی۔ اس حوالے سے لاہور ہائیکورٹ نے بیرون ملک جیلوں میں قید پاکستانیوں کو قانونی امداد کی فراہمی اور قیدیوں تک رسائی کے لئے حکومت کو پالیسی واضح کرنے کی ہدایت بھی کی ہے ایک کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیئے کہ بیرون ملک جیلوں میں بند قیدیوں کو کس جرم کے تحت پکڑا گیا یہ جاننا قیدیوں اور ان کے اہل خانہ کا حق ہے ،بیرون ملک پکڑے گئے شہریوں کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے ،حکومت بیرون ملک قید پاکستانیوں کے قانونی تحفظ کے لئے کیا اقدامات کر رہی ہے عدالت کو آگاہ کیا جائے۔مسٹرجسٹس سید منصور علی شاہ نے کیس کی سماعت کی۔درخواست گزاروں کی وکیل بیئرسٹر سارہ بلال نے عدالت کو بتایا کہ سعودی عرب سمیت دنیا کے دیگر ممالک کی جیلوں میں قید پاکستانیوں تک رسائی نہ ہونے سے انکے اہل خانہ سخت اذیت سے دوچار ہیں۔انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب کی جیلوں میں ایک ہزار 509 پاکستانی قیدی موجود ہیں مگر گرفتاری کے وقت ان کا جرم نہیں بتایا گیا۔سرکاری وکیل نے وفاقی وزارت خارجہ کا جواب داخل کراتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ سعودیہ میں اگر کسی پاکستانی کا سر قلم کر دیا جائے تو اسکا جسم واپس بھجوانا سعودی حکومت کی پالیسی میں شامل نہیں ہے جبکہ حکومت پاکستان کا سعووی عرب سے قیدیوں کی حوالگی کا کوئی معاہدہ موجود نہیں۔اوورسیز پاکستانیز فاونڈیشن کے ایڈیشنل سیکرٹری نے عدالت کو بتایا کہ سعودی عرب کی تمام جیلوں میں موجود قیدیوں تک حکومت پاکستان کے نمائندوں کو رسائی حاصل ہے۔عدالت نے وفاقی سیکرٹری خارجہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ درخواست گزار اور متعلقہ فریقین کا موقف سن کر پالیسی واضح کرے اور اپنی سفارشات کی حتمی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیاہے۔

مزید :

علاقائی -