توہین عدلات کیس میں آئی جی سندھ سمیت 13پولیس افسران پر فرد جرم عائد

توہین عدلات کیس میں آئی جی سندھ سمیت 13پولیس افسران پر فرد جرم عائد

  

کراچی(آن لائن)سندھ ہائیکورٹ کے احاطے میں نقاب پوش اہلکاروں کے تشدد پر توہین عدالت کیس میں آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی سمیت 13 پولیس افسران کے خلاف فرد جرم عائد کردی گئی۔سندھ ہائیکورٹ کے 2 رکنی بینچ جسٹس احمد علی اورجسٹس فاروق شاہ نے کیس کی سماعت کی۔آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی اور دیگر افسران عدالت میں پیش ہوئے۔سندھ ہائی کورٹ میں آئی جی سندھ سمیت 13 افسران کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت شروع ہوئی ، آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی عدالت میں موجود تھے ، ڈی آئی جی ساؤتھ ڈاکٹر جمیل موجود نہیں تھے جس پر عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔ اور آئی جی سندھ سے کہا کہ پندرہ منٹ میں ڈی آئی جی ساؤتھ نہیں پہنچے تو آئی جی صاحب آپ کو ہتھکڑی لگوا دیں گے اوریہاں آنے والے پولیس افسران کی گرفتاری کا حکم جاری کر دیا جائے گا۔سماعت کے دوران ایس ایس پی طاہر نورانی کی عدم پیشی پرعدالت نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی غیرحاضری سے متعلق پوچھا جس پرپولیس حکام نے جواب دیا کہ وہ عمرے پرگئے ہوئے ہیں اس موقع پرعدالت نے آئی جی سندھ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آئی جی صاحب آپ بتائیں طاہر نورانی آپ کی اجازت سے گئے جس پرغلام حیدرجمالی خاموش رہے۔اس کے بعد عدالت نے وقفہ کر دیا۔ اس دوران ڈئی آئی جی ڈاکٹر جمیل، ایس ایس پی کیپٹن اسد اور تمام ملزم افسران اور آئی جی سندھ کے وکیل فاروق ایچ ناءَیک عدالت پہنچ گئے۔وقفہ کے بعد سماعت شروع ہوئی تو عدالت نے آئی جی سندھ اور دیگر پولیس افسران پر فرد جرم عائد کی۔ جسٹس سید فاروق شاہ نے فرد جرم پڑھ کر تمام افسران کو سنائی۔آئی جی سندھ سمیت تمام ملزمان نے صحت جرم سے انکارکر دیا۔ جن افسران پر فرد جرم عائد کی گئی ان میں آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی، اے آئی جی غلام قادر تھیبو، اے آئی جی فیصل بشیر میمن ، ڈی آئی جی جمیل ، ڈی آئی جی فیروز شاہ ، ایس ایس پی چودھری اسد ، ایس ایس پی میجر (ر) سلیم شامل ہیں۔عدالت نے ملزموں کے وکلا کے تمام موقف کو مسترد کر دیا،عدالت کی جانب سے فرد جرم عائد کئے جانے کے بعد باقاعدہ مقدمے کی سماعت کے لئے درخواست گزاروں اور گواہوں کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے سماعت کل تک کے لئے ملتوی کردی گئی۔عدالتی احاطے میں نقاب پوشوں کے تشدد کے کیس میں آئی جی سندھ 8 بارعدالت میں حاضر ہوئے اور 3 بارمعافی جو کہ عدالت نے مسترد کر دی۔ منگل کو آئی جی سندھ اوراوردیگر ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا۔ عدالت نے کیس کی سماعت بدھ کی صبح 11 بجے تک ملتوی کر دی۔واضح رہے کہ 23 مئی 2014 کو پیپلز پارٹی کے ناراض رہنماذوالفقارمرزاکی سندھ ہائیکورٹ میں پیشی کے موقع پر نقاب پوش پولیس اہلکاروں نے عدالت کے احاطے میں ذوالفقار مرزا کے حامیوں اور صحافیوں پر تشدد کیا تھا۔ جس کے بعد آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی نے عدالت کا محاصرہ کرنے والے ایس ایچ او پریڈی اور ایس ایس یو کے 12 اہلکاروں کو معطل کیا جب کہ اس معاملے میں پولیس کے اعلی افسران نے عدالت سے تحریری معافی بھی مانگی جسے عدالت نے مسترد کردیا تھا۔

مزید :

صفحہ اول -