دہشتگردوں کے فرار سے آپریشن کے مطلوبہ اہداف حاصل نہ ہو سکے: جنرل(ر) کیانی

دہشتگردوں کے فرار سے آپریشن کے مطلوبہ اہداف حاصل نہ ہو سکے: جنرل(ر) کیانی

  

اسلام آباد ،جدہ (آن لائن ) پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کی ملک سے فرارہونے کے باعث دہشت گردی کیخلاف جاری آپریشن کے مطلوبہ اہداف حاصل نہ ہو سکے ، آپریشن کے بعد دہشت گرد افغانستان فرار ہو گئے اور انکے معاون پاکستان کے مختلف شہروں بالخصوص کراچی میں روپوش ہو گئے ہیں ، دہشت گرد اب بھی مسلح افواج پاکستان اور رینجزز کے اہلکاروں پر حملے کر رہے ہیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز سعودی اخبار کو انٹرویودیتے ہوئے کیا ہے ،جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی نے کہا کہ آرمی پبلک سکول حملے کے معاون افغانستان فرار ہو گئے ہیں دہشت گردوں کی پاکستان حوالگی دشوار گزار مرحلہ ثابت ہو گی ،انہوں نے کہا کہ را پاکستان میں دہشت گردی کرا رہی ہے اور اس کا جلال آباد میں وسیع و عریض مرکز قائم ہے ،اس مرکز میں پاکستان اور افغانستان سے بچوں کو اغواء کر کے انکی تربیت کی جاتی ہے ،ہندوستانی اہلکار مسلمان بن کر بچوں کی برین واشنگ کرتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ میرے دور میں شمالی وزیرستان میں آپریشن دہشت گردوں کے ملک بھر میں پھیلنے کے خدشے کی وجہ سے شروع نہ ہو سکا ہم نے منصوبہ بندی کی تھی کہ دہشت گردوں کو شمالی وزیرستان میں گھیرے میں لے کر ٹھکانے لگانا تھا ، لیکن بد قسمتی سے نہیں ہو سکا،انہوں نے کہ کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے حکمت و تدبر کی ضرورت ہے ،دہشت گردوں کی ملک سے فراری کے باعث جنگ کے مطلوبہ ہداف حاصل نہ ہو سکے ،دہشت گرد اب بھی فوج اور رینجزز اہلکاروں پر حملے کر رہے ہیں دہشت گرد افغانستان فرار ہو گئے ہیں اور اطلاعات کے مطابق افغانستان کے شہر نورخان اور کنڑ میں روپوش ہیں جبکہ انکے معاون کراچی اور پاکستان کے دیگر شہروں میں روپوش ہیں انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان سے افغانستان میں امریکی فوج کی ناکامی کا بدلا لے رہا ہے۔

مزید :

صفحہ اول -