وفاقی حکومت نے کراچی میں رینجرز کے اختیارات بحال کر دئیے

وفاقی حکومت نے کراچی میں رینجرز کے اختیارات بحال کر دئیے

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی حکومت نے سندھ میں رینجرز کو 60 دن کی توسیع دیدی ہے جس کے مطابق رینجرز اپنے مکمل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے آپریشن کو جاری رکھے گی۔تفصیلات کے مطابق وزیرداخلہ چوہدری نثار کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا جس میں سندھ حکومت کی جانب سے بھجوائی گئی سمری پر غور کیا گیا تاہم آخر کار فیصلہ کر لیا گیاہے کہ سندھ میں رینجرز کو اختیارات کے بغیر نہیں رکھا جاسکتا،رینجرز اختیارات پر کوئی بھی شرائط قبول نہیں کی جائیں گی۔وفاقی حکومت نے رینجرز اختیارات کے حوالے سے سندھ حکومت کی سمری مسترد کرتے ہوئے رینجرز کے اختیارات میں 60دن کی توسیع کر دی ہے اور اختیارات میں توسیع کانوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیاہے۔وفاقی حکومت کی جانب سے سندھ حکومت کو خط بھی لکھا گیاہے جس میں کہا گیاہے کہ سندھ میں رینجرز کے اختیارات میں توسیع انسداد دہشت گردی کے قانون کے مطابق کی گئی ہے ،سند ھ حکومت وفاق کے بنائے ہوئے قانون میں تبدیلی نہیں کر سکتی۔خط میں کہا گیاہے کہ جب کسی قانون نافذ کرنے والے ادارے کو صوبے میں تعینات کیا جاتاہے تو آرٹیکل 147کے تحت اس کے اختیارات کو محدو د نہیں کیا جاسکتاہے۔وزیر داخلہ کی زیر صدارت اجلاس میں رینجرز اختیارات سے متعلق دو پہلوؤں پر غور کیا گیا ،ایک یہ کہ یہ سمری ایسے ہی واپس بھجوادی جائے اور غیر مشروط سمری قبول کی جائے اور دوسری یہ کہ وفاق اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے سندھ میں رینجر ز کو اختیارات دے۔ترجمان وزارت داخلہ کاکہنا ہے کہ جسے اعتراض ہے وہ عدالت جائے ۔

رینجرز اختیارات

اسلام آباد ،کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) وفاق نے رینجرز کے اختیارات میں توسیع کا نوٹیفکیشن جاری کیا تو پیپلز پارٹی نے بھی شدید رد عمل ظاہر کردیا۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کہتے ہیں ایسے معاملات خراب کرنے سے بات آگے بڑھے گی اور صورتحال مزید خراب ہو گی,وفاق کو جو کرنا ہے کر کے دیکھ لے۔۔ سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے دہشتگردی کے حوالے سے رینجرز کے اختیارات پر قدغن نہیں لگائی، انہوں نے استفسار کیا کہ چودھری نثار علی خان کو وزیر اعلیٰ سندھ سے بات کرتے ہوئے کیوں شرم آتی ہے۔ سید خور شید شاہ کا مزید کہنا تھا کہ ایسے اقدامات سے کچھ بھی اچھا نہیں ہو گا، بلکہ صورتحال مزید خراب ہو گی، انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت نے دہشتگردی کے حوالے سے رینجرز کے اختیارات پر قدغن نہیں لگائی۔سید خورشید شاہ نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ ڈاکٹر عاصم کے معاملے کا رینجرز کے اختیارات کے معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔قمر زمان کائرہ نے کہا کہ اس ملک میں بادشاہت ہے کہ وفاق کا حکم مانیں، وزیر اعظم بادشاہ نہیں ہیں،سندھ میں تمام اختیارات رینجرز کو نہیں دے سکتے،معلوم نہیں وزیر داخلہ اپنے ا?پ کو کیا سمجھتے ہیں ؟ان کا کہنا تھا کہ چوہدری نثار کی پریس کانفرنس نے صورتحال خراب کی ہے اور کشیدگی کے وہ ذمہ دار ہیں اور ڈاکٹر عاصم کے کیس پر اثر انداز ہورہے ہیں۔جبکہ آصف زرداری جلد پاکستان آئیں گے۔علاوہ ازیں سندھ حکومت کے مشیر اطلاعات مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ اپنے تحفظات ا?گاہ کرنے پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے اب وفاق کی سکت کا اندازہ ہوگیا ہے۔صوبوں کیلئے پیدا کئے گئے مسائل وفاق پر اثر انداز ہونگے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ رینجرز کارروائیوں پر کوئی اعتراض نہیں۔قرارداد پر ہم نے اطمینان کا اظہار کیا تھا۔پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عدالتوں کا احترام کیا ہے۔سندھ اسمبلی کی قرار داد کو کیوں غلط سمجھا جارہا ہے۔دریں اثنا سندھ حکومت کے وزیر خزانہ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ رینجرز کے متعلق وفاق کاسندھ کو نو ارب دینے کا دعویٰ غلط ہے۔وفاق نے سندھ حکومت کی سمری مسترد کرکے غیر آئنی اقدام کیا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ چوہدری نثار صرف پریس کانفرنس میں بھڑکنا جانتے ہیں۔دوسری طرف دفاقی وزارت داخلہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کو اگر سمری پر اعتراض ہے تو عدالت جائے اور رینجرز پر نوارب کے اخراجات کی تفصیل اخبارات میں دیں گے۔

مزید :

صفحہ اول -