خطے کا امن دہشت گردوں کے خلاف کارروائی سے مشروط ہے،شاہی سید

خطے کا امن دہشت گردوں کے خلاف کارروائی سے مشروط ہے،شاہی سید

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) ملک اور خطے کا امن دہشت گردی میں ملوث تمام گروہوں کے خلاف بلا امتیاز اور بلاتاخیر کاروائی سے مشروط ہے ،پشتونوں کو ایک منصوبے اور ایک طر ز فکر کے ذریعے دہشت گردی اور انتہاء پسندی کی بھینٹ چڑھایا گیا اگر بشیر بلور شہید جیسے نڈر ، جرات مند اور دور اندیش لیڈر موجود ہوتے تو شاید 16 دسمبر کا افسوسناک سانحہ رونما نہ ہوتا ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ ہماری بعض غلط پالیسیوں اور قیادت کے مبہم رویوں نے دہشت گردی کے لامتناہی واقعات کا راستہ ہموار کیا بشیر احمد بلور جیسے جہاندیدہ اور بہادر لیڈروں اور کارکنوں کی قربانیوں اور جرات ہی کا نتیجہ ہے کہ آج دہشتگردی کے خلاف آوازیں اْٹھنی شروع ہو گئی ہیں شہادت ہماری میراث ہے ہم نے شہید لیڈر سمیت اے این پی کے سینکڑوں رہنماؤں اور کارکنوں نے امن کیلئے سینے پر گولیاں کھا کر اس روایت کو زندہ رکھا،بشیر بلور شہید کو تمام آسائشیں اور سہولیتیں میسر تھیں ان کو اس بات کا بخوبی علم تھا کہ ان کی آواز دبانے کی کوشش کی جائیگی مگر ان تمام عوامل کے باوجود اْنہوں نے جام شہادت اس لیے نوش کیا کہ وہ پا ک دھرتی وارث ، نگہبان تھے ،شہید بشیر احمد بلور کی تیسری برسی کے موقع باچا خان مرکز سے جاری کردہ بیان میں سینیٹر شاہی سید نے مذید کہا کہ ہم نے ملک پر انتہا پسندوں کے قبضے کی کوششوں کو ناکام بنایا اور اس کے بدلے نہ صرف یہ کہ سینکڑوں جانوں کی قربانیاں دیں بلکہ اس کا ایک صلہ ہمیں یہ بھی ملا کہ ایک منصوبے کے تحت ایسے لوگوں کو حکومت میں لایا گیا جو کہ انتہا پسندوں کے ہمدرد تھے اور ان کے نظریات کا دفاع کرتے تھے،دہشتگردی کے خلاف مؤثر آواز اْٹھانے پر اے این پی کو کئی برسوں تک مسلسل حملوں ، دھمکیوں اور دباؤ کا نشانہ بنایا گیااور 2013 کے الیکشن میں ہمارا محاصرہ بھی کیا گیا جس کے نتیجے میں ایک منصوبے کے تحت ہمیں عوام کی پارلیمانی نمائندگی سے محروم رکھا گیا تاہم ان تمام مساعد حالات کے باوجود اے این پی میدان میں ڈٹی رہی اور اسی کا نتیجہ ہے کہ عوام پھر سے اے این پی کے جھنڈے تلے جمع ہونا شروع ہو گئے ہیں، اے این پی کو محض اس لیے نشانہ بنایا گیا کہ یہ امن ، ترقی اور استحکام کیلئے جدوجہد کرتی رہی،اگر ہم دہشت گردی کے خلاف قربانیاں نہ دیتے تو انتہائی پسندی پورے ملک کو لپیٹ میں لے لیتی تاہم اس کا صلہ ہمیں مسلسل حملوں اور الیکشن کے پورے عمل سے باہر رکھنے کی صورت میں مل گیا، آج جو لوگ آپریشن ضرب عضب کی حمایت کر رہے ہیں سوات آپریشن کے دوران اْنہوں نے اے این پی کو تنہا چھوڑ رکھا تھا بلکہ یہ لوگ ہماری قربانیوں ، جدوجہد اور پالیسیوں کی مخالفت کر رہے تھے اگر اس وقت انتہا پسندی پر قومی اتفاق رائے کا اظہار کیا جاتا اور پورے ملک کی سطح پر مؤثر اور بلا امتیاز کارروائیوں کا آغاز کیا جاتا تو پاکستان بدترین حالات کا شکار ہونے سے بچ جاتا اور ہم کئی بڑے سانحات سے بھی بچ جاتے،جماعت اسلامی اور تحریک ا نصاف آج بھی دہشت گردی کی کھل کر مذمت نہیں کرتی ایسے ہی عناصر نے بعض طاقتور اداروں کی پشت پناہی سے بار بار جمہوریت کو ڈی ریل کرایا جس کے باعث ملک عدم استحکام سے دوچار رہا اور جمہوری رویوں کی بجائے انتہا پسندانہ رویے جنم لیتے رہے اب حالت یہ ہو گئی ہے کہ لوگوں میں برداشت کا مادہ ختم ہو کر رہ گیا ہے اور بے چینی اور خوف میں کمی نہیں آ رہی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -