مسائل کے حل کیلئے فوج نہیں عدلیہ کردار ادا کرے،پرویز مشرف

مسائل کے حل کیلئے فوج نہیں عدلیہ کردار ادا کرے،پرویز مشرف

  

 کراچی (مبشرمیر) فوج نہیں عدلیہ کو کردار ادا کرنا چاہیے ۔مسائل کا حل آئین میں تلاش کرنا ہے لیکن ’’پاکستان پہلے‘‘ کی بنیاد پر ایمرجنسی کا نفاذ یا ماورا آئین اقدام سوچا جاسکتا ہے ۔عدلیہ دیکھے کہ 2013کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے ۔تبدیلی کے لیے جو بھی کام کرے اس کی مدد کرنے کی ضرورت ہے ۔لال مسجد کے مولانا کو گرفتار کرکے جیل میں ڈالنا چاہیے ۔کمزور قیادت کمزور حکومت کی نشانی ہے ۔پاکستان کے پاس بہت سے وسائل ہیں لیکن بہتر حکمت عملی کی ضرورت ہے ۔بھارت پہلے کشمیر کا مسئلہ حل کرے پھر تجارت ہونی چاہیے ۔کراچی میں رینجرز بہتر کام کررہی ہے ۔ان خیالات کا اظہار سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے کوریا ،جرمنی ،آسٹریلیا ،بیلجیئم ،روس ،اٹلی ،جاپان اور سری لنکا کے بزنس فورمز کی جانب سے منعقد کی گئی ایک تقریب میں کیا جہاں انہوں نے گورننس اور اکانومی پر لیکچر دیا اور حاضرین کے سوالات کے جواب بھی دیئے ۔سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے نسبتاً محتاط انداز میں گفتگو کی اور وفاقی حکومت پر تنقید سے گریز کیا ۔انہوں نے اپنے دوراقتدار میں اقتصادی کامیابیوں کا بھی ذکر کیا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس بے پناہ وسائل ہیں اگر قیادت وژن کے ساتھ موجود ہو تو بہتر فیصلے کرسکتی ہے ۔پرویز مشرف نے کہا کہ پاکستان 20ملین آبادی کا ملک ہے اور ایک طاقتور فوج بھی موجود ہے لہذا ہمیں قومی سلامتی کے حوالے سے کوئی خطرہ نہیں ہوگا لیکن اقتصادی ترقی کے بغیر سویت یونین بھی ختم ہوگیا تھا لہذا اقتصادی ترقی وقت کی اہم ضرورت ہے ۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -