پاکستانی سائنسدان جوڑے نے زیر آب ڈرون کمپنی قائم کردی

پاکستانی سائنسدان جوڑے نے زیر آب ڈرون کمپنی قائم کردی
پاکستانی سائنسدان جوڑے نے زیر آب ڈرون کمپنی قائم کردی

  

سڈنی (ویب ڈیسک) آسٹریلیا میں مقیم پاکستانی سائنسدان جوڑے نے زیر آب ایک کمپنی قائم کی ہے جو زیر آب ڈرونز سے فش فارم، پائپ لائن، آبی ذخیروں، ڈیمز اور دیگر مقامات کی صفائی، منصوبہ بندی کے ساتھ زیر آب نقشہ سازی کرتی ہے۔ ان کا بنایا ہوا ڈرون زیر آب کیمروں کی مدد سے تھری ڈی نقشے بناتا ہے۔ پاکستانی سائنسدان ناصر احسان سمندری روبوٹکس میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری رکھتے ہیں جب کہ ان کی بیگم حنا احسان نے ڈیٹا تجزیہ میں ماسٹرز کیا ہوا ہے ان کی ٹیم کے تیسرے رکن کا مسعود نقشبندی کا تعلق افغانستان سے ہے جو سینسر ٹیکنالوجی کے ماہرہیں اور چوتھے رکن ابراہیم قزاز لبنانی نژاد آسٹریلوی ہیں جو سول انجینئر ہیں اور اب یہ چاروں آسٹریلوی شہریت رکھتے ہیں۔ناصر احسان پاکستان میں ہمالیہ کے دامن میں پیدا ہوئے اور وہاں موجود دریا اور جھیلوں کو دیکھ کر انہیں ان کی گہرائی ناپنے اور معلومات حاصل کرنے کا خیال آیا، اس خواب کی تعبیر کے لیے انہوں نے پانی میں کام کرنے والے روبوٹس پر تعلیم حاصل کی اور اس کے ماہر ہوئے کیونکہ دنیا میں صرف چند لوگ ہی اس نئے شعبے پر مہارت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کروڑوں ڈالر کی لاگت سے تیار ہونے والے زیرِ آب روبوٹ ” ناٹیلس“ کو چلایا جس کے ذریعے سمندر کی تہہ میں گرم پانی خارج کرنے والی قدرتی چمنیوں پر تحقیق کی گئی تھی جو سمندر کی غیرمعمولی گہرائی میں موجود ہیں۔ ناصر احسان نے ناٹیلس سے جڑے ایک اور روبوٹ ”ہرکولیس“ کو چلایا اور اس سے گہرے ترین سمندر کی حیرت انگیز تصاویر لی تھیں۔ناصر احسان نے ناسا کے ایک انجینیئر کے اوپن سورس پروجیکٹ اوپن آر او وی کو بھی آگے بڑھایا۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -