’پڑھی لکھی خواتین کو شادی کے بدلے الیکشن لڑوانے کی پیشکش‘

’پڑھی لکھی خواتین کو شادی کے بدلے الیکشن لڑوانے کی پیشکش‘
’پڑھی لکھی خواتین کو شادی کے بدلے الیکشن لڑوانے کی پیشکش‘

  

نئی دلی (نیوز ڈیسک) پسماندہ ممالک میں خواتین کی تعلیم کو عموماً قابل توجہ نہیں سمجھا جاتا لیکن جب اس کے بدلے کوئی بڑا مفاد حاصل ہوتا نظر آئے تو یہ فوری طور پر اہم ترین ترجیح بن جاتی ہے۔ بھارتی ریاست ہریانہ میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے جہاں مقامی الیکشن میں خواتین کی مخصوص نشستوں پر قبضہ کرنے کے لئے سیاسی خاندانوں نے دھڑا دھڑ تعلیم یافتہ لڑکیوں کو بیاہ کر لانا شروع کردیا ہے، تاکہ انہیں الیکشن لڑوایا جا سکے۔

اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق میوات شہرمیں اس نوعیت کی 50 شادیاں اب تک ہو بھی چکی ہیں۔ اس نئی سکیم کی بنیاد ڈالنے والا مقامی سیاستدان اصغر ہے جو کہ مقامی نیمکا پنچایت کا سرپنچ ہے۔ اصغر نے خواتین کے لئے مخصوص سیٹ پر اپنی بہو کو لڑانے کا ارادہ کیا تھا لیکن اتفاق سے اس کی تعلیم کم نکلی، جس کے بعد اس نے سیٹ بچانے کے لئے اپنے بیٹے مقصود کی دوسری شادی انجم ناز نامی لڑکی سے کر دی، جو بی اے کررہی ہے۔ مقصود کی پہلی شادی 2007ء میں ہوئی تھی اور اب الیکشن کی خاطر اس نے دوسری شادی کرلی ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق اہم سیاسی خاندان مخصوص سیٹوں کو بچانے کے لئے آخری حد تک جارہے ہیں اور اپنے بھانجوں، بھتیجوں اور بیٹوں کی شادیاں تعلیم یافتہ لڑکیوں سے دھڑادھڑ کررہے ہیں، تاکہ کوئی بھی مخصوص نشست ہاتھ سے جانے نہ پائے۔

مزید :

بین الاقوامی -