قطری شاہی خاندان کے ارکان کو اغواء کرنے والوں نے رہائی کے بدلے سعودی عرب سے انتہائی حیران کُن مطالبہ کردیا

قطری شاہی خاندان کے ارکان کو اغواء کرنے والوں نے رہائی کے بدلے سعودی عرب سے ...
قطری شاہی خاندان کے ارکان کو اغواء کرنے والوں نے رہائی کے بدلے سعودی عرب سے انتہائی حیران کُن مطالبہ کردیا

  

دوحہ(مانیٹرنگ ڈیسک) گزشتہ دنوں عراق سے 26قطری باشندوں کو اغواء کر لیا گیا تھا جو شکار کی غرض سے بغداد سے 230میل دور صحرائی علاقے میں موجود تھے اور ان میں قطر کے شاہی خاندان کے افراد بھی شامل تھے۔ اب ان کے اغواء کاروں کی طرف سے ان کی رہائی کے بدلے میں ایک مطالبہ بھی سامنے آگیا ہے۔

برطانوی اخبار’’ڈیلی میل‘‘ کی رپورٹ کے مطابق اغواء کاروں نے مغویوں کی رہائی کے بدلے میں شیعہ عالم شیخ النمر کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے جو سعودی عرب کی قید میں ہیں اور انہیں سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔ عراقی ٹی وی چینل ’’الشرقیہ‘‘ کی رپورٹ کے مطابق اغواء کار قطر کے عراق کے حوالے سے پالیسی میں بھی تبدیلی چاہتے ہیں اور انہوں نے شام میں موجود سنی شدت پسند گروپ جماعت النصرہ کی قید میں موجود شیعہ شدت پسندوں کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ٹی وی چینل کے مطابق اغواء کاروں نے قطر سے کچھ ایسے سیاسی گروہوں پر سے پابندیاں اٹھانے کا بھی مطالبہ کیا ہے جن کی مسلح شاخیں عراق میں بھی موجود ہیں۔ تاہم ان تمام مطالبات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

عراق کے وزیرخارجہ اغواء کاروں اور حکومت کے درمیان کسی بھی تعلق یا رابطے کی تردید کر چکے ہیں۔ کویت کے وزیرخارجہ صباح خالد الصباح سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے عراقی وزیرخارجہ ابراہیم الجعفری سے سوال کیا کہ ’’کیا قطری باشندوں کے اغواء کاروں کا تعلق حشد الشابی(شیعہ پیراملٹری فورس جو براہ راست عراقی حکومت سے وابستہ ہے) سے ہے؟ ‘‘ جواب دیتے ہوئے عراقی وزیرخارجہ نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’’ قطری باشندوں کے اغواء کاروں سے عراقی حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ کوئی حکومت پر اغواء کاروں سے ساز باز کرنے کا شک نہیں کرے گا۔‘‘تاہم الجعفری نے اعتراف کیا کہ عراقی حکومت قطری باشندوں کو مناسب سکیورٹی دینے میں ناکام رہی جس کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا۔

مزید :

بین الاقوامی -