ترکی کے خلاف مہم میں روس کو بڑا دھچکا لگ گیا، جس چیز پر سب سے زیادہ بھروسہ تھا اسی نے دھوکہ دے دیا

ترکی کے خلاف مہم میں روس کو بڑا دھچکا لگ گیا، جس چیز پر سب سے زیادہ بھروسہ تھا ...
ترکی کے خلاف مہم میں روس کو بڑا دھچکا لگ گیا، جس چیز پر سب سے زیادہ بھروسہ تھا اسی نے دھوکہ دے دیا

  

ماسکو(مانیٹرنگ ڈیسک) روسی صدرولادی میر پیوٹن شروع سے بضد تھے کہ ترک افواج کی طرف سے مارگرایا جانے والا روسی جنگی طیارہ ترکی کی حدود میں داخل ہی نہیں ہوا تھا اور وہ بار بار کہتے آ رہے تھے کہ ’’ہم یہ بات ثابت کر کے رہیں گے۔‘‘ اس حوالے سے صدر پیوٹن کی آخری امید طیارے کا بلیک باکس تھا۔ وہ پرامید تھے کہ بلیک باکس سے ملنے والے شواہد ان کا موقف درست ثابت کر دیں گے اور ترکی کے خلاف اپنی جاری کردہ مہم میں کامیاب ہو جائیں گے مگر ان کی اس امید پر پانی پھر گیا ہے کیونکہ واقعے کی تحقیقات کرنے والے روسی ماہرین بلیک باکس سے مواد نکالنے میں ناکام ہو گئے ہیں۔

روسی وزارت دفاع نے کھلے عام بلیک باکس کھولنے اور اس کا مواد نکالنے کا کام گزشتہ ہفتے شروع کیا تھا تاکہ دنیا حقیقت جان سکے مگر ایک ہفتے کی کوششوں کے بعد تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ اور روسی ایئرفورس کے شعبہ فلائٹ سیفٹی کے انچارج سرگئی بینی ٹوف نے گزشتہ روز کہہ دیا ہے کہ ’’بلیک باکس فلائٹ کا ڈیٹا نکالنا ناممکن ہو چکا ہے کیونکہ واقعے میں بلیک باکس کو اندرونی نقصان پہنچا ہے۔‘‘

برطانوی اخبار ’’ڈیلی میل‘‘ کی رپورٹ کے طابق بینی ٹوف کا کہنا ہے کہ ’’بلیک باکس کی 16مائیکرو چپس(Microchips) مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں اور باقی کو بھی نقصان پہنچا ہے اور یہ نقصان اتنا شدید ہے کہ ان سے ڈیٹا حاصل کرنا ناممکن ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ ’’ترکی کا میزائل لگنے کے بعد طیارہ اس قدرتیزی اور قوت کے ساتھ آ کر زمین سے ٹکرایا کہ بلیک باکس ہی ناکارہ ہو گیا۔اب وزارت دفاع تباہ شدہ چپس سے ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے سائنسی ماہرین کی خدمات حاصل کرے گی اور یہ ایک غیریقینی طریقہ کار ہو گا جس میں بہت زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔‘‘

مزید :

بین الاقوامی -