’سوکر اٹھی تو ماں بن چکی تھی‘

’سوکر اٹھی تو ماں بن چکی تھی‘
’سوکر اٹھی تو ماں بن چکی تھی‘

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) دوران زچگی خواتین کو ہونے والے دردِ زہ کو اس کی شدت کے باعث جاں کنی کی تکلیف سے مشابہہ قرار دیا جاتا ہے لیکن اس برطانوی خاتون نے نیند میں ہی بچے کو جنم دے دیا اور اب اسے اپنا زچگی کے عمل سے گزرنے کی تکلیف تو کیا، کچھ بھی یاد نہیں۔ اس کے لیے ایسے ہی ہے کہ وہ سو کر اٹھی تو ماں بن چکی تھی۔ 24سالہ جوڈی رابنسن برمنگھم کی رہائشی ہے اور ایک اعصابی بیماری کلین لیوین سنڈروم (Kleine Levin Syndrome)میں مبتلا ہے جس کی وجہ سے انسان طویل عرصے کے لیے نیند میں رہتا ہے۔ وہ بچے کی پیدائش سے قبل نیند میں گئی اور 11دن بعد جاگی۔ جوڈی کافی عرصے سے اس عارضے میں مبتلا ہے اور اس سے قبل بھی کئی مواقع پر طویل نیند سو چکی ہے۔ اسے اپنی زندگی کے کئی کرسمس و دیگر اہم مواقع یاد نہیں کیونکہ اس دوران وہ سو رہی ہوتی تھی۔

جوڈی کا کہنا ہے کہ ’’ایک بار جب میں آنکھ بند کرتی ہوں اور دوبارہ کھولتی ہوں تو دو تین ہفتے گزر چکے ہوتے ہیں۔اس مرض کی وجہ سے میں نے کئی چھٹیاں ضائع کر دیں۔ میں اپنی بہن کی اٹھارہویں سالگرہ پر بھی سوتی رہی تھی۔‘‘ اس نے بتایا کہ ’’پہلی بار میں اس وقت طویل عرصے کے لیے سوئی جب میں 12سال کی تھی اور اپنے ماں باپ کے ساتھ سپین میں رہتی تھی۔ میں اس روز اپنی دوست کے پاس ایک رات کے لیے گئی، میں اپنے بیگ میں کھلونے، مٹھائی اور کپڑے لے کر گئی تھی۔ اس رات میں جب سوئی تو 8دن بعد میری آنکھ کھلی، جب میں جاگی تو میں اپنے خاندان کے افراد اور ماحول کو پہچان نہیں پا رہی تھی، مجھے سب کچھ خواب سا لگ رہا تھا، مجھ کچھ بھی یاد نہیں تھا، حتیٰ کہ میں یہ بھی بھول چکی تھی کہ میں کون ہوں۔‘‘

مزید :

ڈیلی بائیٹس -