شام کی چند سال قبل کی اور موجودہ تصاویر ,ایسے ہولناک مناظر کہ آپ کا دل بھی مسلمان ملک کے لئے خون کے آنسو روئے گا

شام کی چند سال قبل کی اور موجودہ تصاویر ,ایسے ہولناک مناظر کہ آپ کا دل بھی ...
شام کی چند سال قبل کی اور موجودہ تصاویر ,ایسے ہولناک مناظر کہ آپ کا دل بھی مسلمان ملک کے لئے خون کے آنسو روئے گا

  

دمشق(مانیٹرنگ ڈیسک) پانچ سال سے جاری جنگ سے قبل شام کا شہر حلب سیاحوں کی جنت کہلاتا تھا کیونکہ یہاں بے شمار تاریخ عمارات اور سیاحتی مقامات تھے۔شام میں دنیا بھر کی مسلح فوجوں کے تصادم سے قبل ہر سال سیاحوں کی ایک فوج حلب شہر پر یلغار کرتی تھی، مگر اب اس شہر کے قدیم ورثے کے ہیرے، جو پورے مشرق وسطیٰ میں یکتا تھے، پتھروں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ طویل جنگ و جدل نے اس ہنستے بستے شہر کو ویرانیوں کا ایسا راستہ دکھایا ہے کہ واپسی شاید کبھی ممکن نہ ہو سکے، کیونکہ امن قائم ہونے پر مسمار ہوئے گھر اور نئی بلندوبالا عمارتیں تو تعمیر ہو جائیں گی لیکن قدیم ورثے کی حامل جو عمارتیں زمیں بوس ہو چکی ہیں، اب کبھی واپس نہیں آ سکتیں۔

عالمی خبررساں ایجنسی رائٹرز نے حلب کی مختلف تاریخی عمارات کی جنگ سے پہلے، اور اب جنگ کے بعد تباہ ہونے کے بعد کی تصاویر اپنی ایک رپورٹ میں جاری کی ہیں۔ ان تصاویر کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ جنگ کے ان سالوں میں اس شہر پر خوف و وہشت کس طرح راج کرتے آ رہے ہیں اور فریقین کے مفادات کی اس جنگ نے اس شہر کو کس طرح تاراج کر دیا ہے۔رائٹرز کی جاری کردہ تصاویر میں پہلی تصویر شہر کے فضائی منظر کی ہے جو 24نومبر 2008ءمیں لی گئی تھی۔ اس رات کے منظر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پورا شہر رنگ برنگی روشنیوں میں نہایا ہوا ہے۔ گہرے سرمئی رنگ کے بادل نیلگوں آسمان میں تیر رہے ہیں، جابجا مساجد کے مینار اور تاریخی عمارتوں کے گنبد نظر آ رہے ہیں اور شب کے اوقات میں بھی زندگی رواں دواں ہوتی ہے۔ دوسری طرف اسی زاوئیے سے رواں ماہ 13دسمبر کو لی گئی تصویر ہے جو دن کے وقت لی گئی ہے۔ اس تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دن کے وقت بھی پورے شہر میں ویرانیوں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں اور زندگی کے آثار تک دکھائی نہیں دیتے اور تمام عمارتیں ملبے کی ڈھیر بنی ہوئی ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ کوئی قیامت خیز زلزلہ آیا تھا جس نے پورے شہر کو تباہی و بربادی کی مجسم تصویر بنا دیا ہے۔

دنیا کا وہ علاقہ جہاں 456 ایٹم بم چلائے گئے، تاریخ میں ایٹم بم کا سب سے زیادہ نشانہ بننے والا مقام کیونکہ۔۔۔

اگلی تصویر میں 8ویں صدی عیسوی میں سلطنت بنوامیہ کے دور میں بنائی کی تاریخی عظیم الشان مسجد ’امیہ مسجد‘ کا 6اکتوبر 2010ءکو لیا گیا منظر ہے۔ عالیشان گنبد سربلند ہیں، فرش اور دیواریں قیمتی پتھروں سے مزین ہیں اور احاطے میں لوگوں کی آمدورفت جاری ہے، کچھ لوگ ایک گنبد کے سائے تلے بیٹھے ہیں، ایک روح پرور نظارہ ہے جو اس تصویر میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس مسجد کی 17دسمبر2016ءمیں لی گئی تصویر میں ہر چیز تباہ ہو چکی ہے، فرش اکھڑ چکا ہے، عمارت کا بیشتر حصہ منہدم ہو چکا ہے اور سنگ مرمر کے تباہ ہو چکے فرش کے بیچ کاملبے کے ڈھیر پڑے ہیں۔رائٹرز نے ان کے علاوہ ’شہابہ شاپنگ مال‘ ’الشیبانی سکول‘ کی عمارت‘ النہاسین نامی مساج پارلر کی عمارت، پرانے حلب کے تاریخی قلعہ اور الضرب مارکیٹ کی جنگ سے قبل اور اب لی گئی تصاویر بھی جاری کی ہیں۔ حلب کا تاریخی قلعہ سلطنت عثمایہ کی افواج کی بیرک کے طور پر بھی استعمال ہوتا رہا۔ عظیم فاتح صلاح الدین ایوبی نے کہا تھا کہ ”حلب شہرشام کی آنکھ ہے اور اس کا تاریخی قلعہ اس آنکھ کی پلکیں۔“ اب مفادات کی اس جنگ نے اس آنکھ کی روشنی چھین لی ہے اور اس کی ایک ایک پلک اکھاڑ کر پھینک دی گئی ہے۔ ملکِ شام اندھا ہو چکاہے۔

مزید :

بین الاقوامی -