بے جا تنقید کا کلچر ختم کیا جائے

بے جا تنقید کا کلچر ختم کیا جائے
 بے جا تنقید کا کلچر ختم کیا جائے

  

جمہوری نظام حکومت میںآزادی رائے کو قائم رکھنے پر بہت زور دیا جاتا ہے، تاکہ کوئی طبقہ اپنی رائے کسی رکاوٹ، مداخلت، دباؤ اور اثر کے بغیر، زبانی یا تحریری طورپر، منظر عام پر لاسکے۔ اس طرح لوگوں کے مسائل، پریشانیوں اور مشکلات کو حل کرنے کے لئے متعلقہ حکمرانوں اور سماجی راہنماؤں کی مدد اور اعانت حاصل کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں، تاکہ وہ اپنی زندگی کو درپیش تکالیف سے نجات حاصل کرسکیں۔ اس ضمن میں قومی ذرائع ابلاغ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ گزشتہ چند سال سے مختلف ٹی وی چینل بھی یہ ذمہ داری جرأت وہمت سے سرانجام دے رہے ہیں۔ان کی مثبت خدمات سے کئی مظلوم افراد کے بعض مسائل حل کرنے میں کافی مدد ملی ہے۔ اس طرح معاشرے میں قدرے امن و سکون قائم کرنے میں مدد ملتی ہے۔پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے۔ یہ تاحال کئی مسائل سے نبرد آزما ہے۔ عوام کی کثیر تعداد اپنی زندگی گزارنے کے لئے شب وروز مشکلات سے دو چار رہنے کے حالات سے مجبور ہے، ان کو مندرجہ بالا اذیت ناک مسائل سے نجات دلانے کے لئے حکمران طبقوں کو بلاتاخیر ایسی منصوبہ سازی کرنے کی ضرورت ہے، جس سے وہ اپنے بچوں کو صحت ،تعلیم اور کھیل کی بنیادی ضروریات کی سہولتیں فراہم کرسکیں۔ بیروزگاری میں کمی کی خاطر فنی تعلیم کے حصول اور مہارت کی تربیت کے ادارے ملک کے چاروں صوبوں میں قائم کئے جائیں۔ تعلیم دینے کے لئے بچوں کی فیسیں کم کرائی جائیں۔

کئی پرائیویٹ تعلیمی ادارے ہر ماہ، ہزاروں روپے فی بچہ فیس لے رہے ہیں۔ اس خرچ سے تو خواندگی میں 90فی صد سے زائد بچوں کی مطلوبہ تعداد تعلیم حاصل نہیں کرسکتی۔ حکومت ان تمام اداروں سے مذاکرات کرکے فیسوں کی موجودہ شرح کم کر کے 500سے ایک ہزار روپے ماہانہ تک ہی عملی طور پر نافذ کرادے تو یہ غریب عوام کی اکثریت پر بڑا احسان ہوگا۔۔۔ سکول جانے والے کروڑوں بچوں کو بھاری وزن کے بستوں سے بھی نجات دلانے کی ضرورت ہے تاکہ ان کو روزانہ سکول جانے اور واپس آنے میں آسانی ہو جائے۔ حکومت اگر اس بستے کا بوجھ 3کلو گرام تک رکھنے کی پابندی لگادے، تو وہ شاید قدرے آرام و اطمینان محسوس کریں۔ اساتذہ کرام تمام مضامین کی کتب روزانہ پڑھانے کی بجائے متبادل دنوں میں تقسیم کریں تاکہ طلبہ اپنا تعلیمی کورس، جلد مکمل کرکے امتحانات دینے کی استعداد حاصل کرلیں۔ کتابوں کی قیمتیں بھی روز بروز بڑھتی جارہی ہیں۔ ان کو بھی کنٹرول کیا جائے۔اگر یہ کتابیں سادہ کاغذپر چھاپی جائیں تو ان کا وزن اور قیمت بھی نصف یا کم ہو سکتی ہے۔ بعض مخصوص دکانوں سے کتابیں خریدنے کی کسی ادارے کی جانب سے شرط نہ لگائی جائے۔ اس طریقے سے تو سکول کے طلبہ کو لوٹنے کا شک ہوتا ہے۔ طالب علموں سے مختلف بہانوں سے اضافی اخراجات وصول نہ کئے جائیں۔ حکمران طبقے یاد رکھیں کہ اگر تعلیم کا حصول مہنگا ہوگا، تو شرح خواندگی میں عملی طور پر اضافے کی توقعات رکھنا سراسر دیوانے کا خواب ہوگا۔

اپوزیشن کے سیاسی راہنماؤں کو بھی مثبت تجاویز دینا ہوں گی۔ وہ محض چند مخصوص حوالوں سے ہی حکومت پر کڑی تنقید کر کے اپنی ذمہ داری ادا نہیں کرسکتے۔ معاملات کو سنبھالنا اور سنوارنا ہر طبقہ فکر کی اصل ذمہ داری ہے۔ یہی قوم کی صحیح خدمت ہے۔ گزشتہ چند سال سے ذرائع ابلاغ اور بعض ٹی وی چینل مختلف پروگراموں میں حریف قائدین کے حوالے سے تضحیک آمیز جملے اور طنزیہ محاورے عوام کو سنارہے ہیں۔ یہ کارکردگی ہمارے اخلاقی زوال کی روش ہے۔کیا اس طرح ان قائدین سیاست کی اپنی ذات یا متعلقہ پارٹی کی ساکھ بہتر ہوسکتی ہے؟ اگر کوئی رہنما غیر آئینی اور غیر قانونی کارروائیوں میں ملوث ہے تو متعلقہ عدالتوں سے رجوع کرکے فیصلے لئے جائیں اور ان پر دیانتداری سے عمل کیا جائے۔ عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات پر ٹی وی چینلوں اور اخبارات میں رائے زنی نہ کی جائے ،بلکہ عدالتوں کے فیصلوں کا انتظار کیا جائے۔

مزید :

کالم -