حکومت سندھ مداخلت سے کیسے محفوظ ہو ؟

حکومت سندھ مداخلت سے کیسے محفوظ ہو ؟
 حکومت سندھ مداخلت سے کیسے محفوظ ہو ؟

  

سید قائم علی شاہ کا معمر ہونا حکومت سندھ کی کارکردگی کی راہ میں رکاوٹ سمجھا جاتا تھا۔ صوبائی اپیکس کمیٹی کا چیئرمین ہونے کے باوجود ہر قسم کی تنقید انہیں برداشت کرنا پڑتی تھی۔ سیاست دان اور ذرائع ابلاغ ان کا تمسخر اڑایا کرتے تھے۔ قائم علی شاہ کی جگہ سید مراد علی شاہ وزیر اعلی مقرر ہوئے۔ عام خیال یہ تھا کہ وہ حکومت کی کارکردگی بہتر بنا سکیں گے اور صوبہ سند ھ کی تمام کے تمام شعبوں میں کارکردگی بہتر ہو سکے گی۔ سندھ کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ یہ تو کئی معاملات میں بلوچستان سے بھی آگے نکل گیا ہے ۔ وہ کئی معاملات ہی ہیں جن کی وجہ سے کارکردگی پر انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں۔ لیکن سید مراد علی شاہ اپنی عوام دوستی کے مظاہروں ، بھاگ دوڑ، فوری فیصلہ سازی، اور افسران کو تنبیہ کے باوجود صوبہ سندھ میں یہ ثابت نہیں کر سکے کہ وہ حکومت کے انتظامی سربراہ ہیں۔ حالانکہ وہ بار بار کہتے یہی ہیں کہ وہ انتظامی سربراہ ہیں، ان کی اجازت یا مرضی کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔ ممکن ہے کہ مرحوم وزیر اعلی سید عبداللہ شاہ کے وزیر اعلی بیٹے درست ہی سمجھتے ہوں یا درست ہی کہتے ہیں لیکن حالات، واقعات اور شواہد ان کے دعووں کی تصدیق نہیں کرتے ہیں۔ اس کالم میں صرف دو واقعات کو ذکر ضروری ہے تاکہ قارئین کو اندازہ ہو سکے کہ حکومت سندھ کی باگ دوڑ بظاہر وزیر اعلی کے ہاتھ میں ہے اور وہ احکامات پر عمل در آمد کرنے پر مجبور ہیں۔ سندھ پولس کے سربراہ اے ڈی خواجہ کی نو ماہ کے بعد تبدیلی۔ اور تبدیلی بھی ایسی کہ ان کے خلاف سوشل میڈیا پر بھر پور مہم بھی چلائی گئی تاکہ ان کی کردار کشی ہو سکے۔ خواجہ سندھ کے سرکاری افسران کے اس گروہ سے تعلق رکھتے ہیں جن کی شہرت پر کوئی داغ تصور نہیں کیا جاتا۔ پولس کے ان افسران میں شمار ہوتے ہیں جن کے تبادلوں کے خلاف عوام احتجاج اور مظاہرے کرتے رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کی پہلی شہرت یہ ہے کہ یہ لوگ رشوت نہیں لیتے۔ آج کے دور میں یہ قابل ذکر شہرت ہے کیوں کہ سرکاری افسران خواہ کسی بھی محکمہ سے تعلق رکھتے ہوں، اسی وجہ سے بدنامی کے طوق ان کے گلوں میں لٹکے ہوئے ہیں۔

اے ڈی خواجہ کو ان کی پیدائش کے فوری بعد ان کے والد کے ایک دوست نے گود لے لیا تھا اور انہوں نے ہی ان کو گود میں لیتے ہوئے کہا تھا اللہ ڈنو‘‘۔ (اللہ نے دیا ہے) ان کا نام ہی اللہ ڈنو رکھ دیا گیا۔ خواجہ تو ان کے نام کا حصہ بعد میں بنا کیوں کہ ان کے والد اسماعیلی یا آغا خانی تھے۔ سندھ میں آغا خانیوں کو خوجہ پکارا جاتا ہے تو خواجہ ان کے نام کا حصہ بن گیا۔ ان کے والد نے اپنے بیٹے کو جن صاحب کو گود دیا تھا وہ زمیندار کے ساتھ ساتھ تاجر بھی تھے ۔ ان کا نام دریا نو مل تھا۔ دریا نو مل کی نرینہ اولاد نہیں تھی۔ بیٹیاں ہی تھیں۔ انہیں اللہ ڈنو مل گئے۔ ان کی تعلیم و تربیت دریانو مل کے گھر ہوئی۔ پھر انہوں نے مقابلے کا سرکاری امتحان پاس کیا اور اس طرح پولس ملازمت میں آگئے۔ دریانو مل نے اپنے بیٹے سے پوری زندگی میں اسطرح کا احسان نہیں لیا جس سے ظاہر ہو سکتا کہ انہوں نے بیٹے کا سہارا لے کر اپنے کاروبار یا زمینداری میں فروغ حاصل کیا ہو۔ اے ڈی خواجہ دریانو مل کی موت کے بعد ان کے گھر کے سربراہ بھی ہو گئے۔ زمینداری اور تجارت ( ان کے کئی شہروں میں پیٹرول پمپ موجود ہیں) کے تمام معالات کی نگرانی کرتے ہیں تاکہ اپنی والدہ اور بہنوں کو ان کے حصے دئے جاسکیں اور ان کے مفادات کا تحفظ ہو سکے۔ وہ دریا نو مل کے تمام اثاثوں کے مالک ضرور ہیں لیکن وہ اپنے آپ کو صرف ان کا نگران تصور کرتے ہیں۔ اے ڈی خواجہ سخت افسر اس لئے بھی تصور کئے جاتے ہیں کہ دریانو مل نے انہیں یہی سبق دیا تھا کہ کسی کے سامنے جھکنا نہیں اور کسی بھی قیمت پر ظلم نہیں کرنا۔ اس سبق پر عمل در آمد نے انہیں ہمیشہ سرخ رو رکھا۔ وہ جہاں بھی رہے، سمجھوتوں سے کنارہ کشی کرتے رہے۔

جب انہیں صوبہ سندھ میں پولس فورس کا سربراہ بنایا جارہا تھا تو ان کے بہی خواہوں کو خیال تھا کہ ا نہیں یہ عہدہ اس لئے قبول نہیں کرنا چاہئے کہ وہ مداخلت برداشت نہیں کریں گے اور یہی وجہ بن جائے گی کہ ان کے اختلافات ہو جائیں گے۔ ہوا بھی ایسا ہی۔ اور انہیں نو ماہ کے بعد ہی جبری رخصت پر روانہ کردیا گیا۔ سندھ میں وزیر اعلی کے علاوہ دیگر افراد کی مداخلت ہی اختلافات کا سبب بنتی رہی ہے۔ قائم علی شاہ در گزر کیا کرتے تھے اور ہر تنقید کو خند ہ پیشانی سے برداشت کیا کرتے تھے۔ مراد علی شاہ اپنی بات منوانے کی کوشش ضرور کرتے ہیں لیکن انہیں کئی معاملات میں جھکنا پڑتا ہے۔ افسران کیا کریں، ہر افسر مزاحمت کی طاقت نہیں رکھتا ہے۔ ہر ایک کی مجبوریاں ہیں۔کمزوریاں ہیں۔ یہاں تو بڑے بڑے (سیاست دان) سجدہ کرتے پائے جاتے ہیں۔ یہ گریڈ 19، 20یا 21 کے افسران کیا حیثیت رکھتے ہیں؟ انہیں تو کوئی تحفظ دینے والا بھی نہیں ہوتا ہے۔ چیف سیکریٹری حضرات کیوں ہٹائے جاتے رہے، محکمہ آبپاشی کے سیکریٹری کیوں نہیں ٹکتے ہیں؟ اے ڈی خواجہ نے پولس میں بھرتیوں کو شفاف بنانے کے لئے فوجیوں کی موجودگی میں امیدواروں کے ٹیسٹ کرائے جس پر پیپلز پارٹی کے بعض بڑوں نے اعتراض بھی کئے کہ بھرتیوں میں ان کی نہیں سنی جارہی ہے۔ وزراء، اراکین صوبائی اور قومی اسمبلی پولس اور اساتذہ کی بھرتیوں میں اپنا حصہ چاہتے ہیں۔ اساتذہ کی بھرتی کے معاملات کو تو ورلڈ بنک اور ایشین ڈیو لپمنٹ بنک کے قرضوں کے پیش نظر شفاف بنایا گیا اور اساتذہ کی جو کھیپ بھرتی ہوئی ، اس کی بھاری اکثریت اہل لوگوں پر مشتمل ہے۔ پولس کی بھرتی کے معاملات میں مداخلت کا معاملہ اے ڈی خواجہ نے بند کردیا۔ وہ جاتے جاتے بھی اہل لوگوں کی بھرتی کے احکامات جاری کر گئے۔ ان کی یہ ادا ’’ نا پسندیدہ ‘‘ ہونے کے باوجود برداشت کر لی گئی۔ لیکن ان کی دوسری ادا ناقابلِ برداشت ہوئی جو ان کے تبادلے کی وجہ بن گئی۔

یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ صوبہ سندھ میں چینی تیار کرنے والے کارخانوں کی اکثر یت کی ملکیت اومنی گروپ کے پاس ہے۔ یہ اومنی گروپ سابق صدر آسف علی زرداری کی ملکیت قرار دیا جاتا ہے۔ اومنی گروپ کے معاملات انور مجید نامی صاحب چلاتے ہیں۔ تھر پارکر میں کڑوے پانی کو میٹھا کرنے والے پلانٹ بھی انور مجید کی کمپنی نے نصب کئے ہیں۔ انورمجید اپنی ماتحت ملوں کو گنا فروخت کرنے کے لئے پولس کو استعمال کرنے،مخالف ملوں پر دباؤ ڈالنے کے لئے مشہور ہیں۔ ڈگری شوگر مل کو ان سے اختلاف کرنے کی پاداش میں ماحولیاتی تحفظ کی ایجنسی نے آلودگی پھیلانے کے الزام میں سر بمہر کردیا۔ یہ بات انور مجید کے تصور میں بھی نہیں تھی کہ آئی جی انہیں پولس استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔ وہ تو گنا ہی کیا بلکہ پولس کے ذریعہ بعض ملوں پر قبضہ بھی کر اچکے تھے اور مل مالکان کو عدالتوں سے مدد حاصل کرنا پڑی تھی۔ اے ڈی خواجہ اور انورمجید کے درمیاں ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو نے کشیدگی میں اضافہ کیا۔ پولس سربراہ کی تبدیلی کی باتیں تو ان کے اس عہدے پر آتے ہی شروع ہو گئی تھیں ۔ ایک دفعہ تو اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں کورکمانڈر لیفٹیننٹ جنرل نویدمختاراورڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبر نے اس موقف کا اظہار کیا تھا کہ آئی جی بہتر کام کررہے ہیں پولیس کی کارکردگی بہترہورہی ہے لہٰذاانہیں تبدیل نہ کیا جائے۔ ان کے تبا دلوں کے فوری بعد ہی اے ڈی خواجہ کو بھی رخصت کر دیا گیا۔ ا ن کی رخصتی کی وجہ سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان بھی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ اے ڈی خواجہ کو محنتی، ایمان دار اور ضابطوں کو پابند افسر سمجھتے ہیں۔ نئے پولس سربراہ کے عہدے کے لئے پیپلز پارٹی کی قیادت کسی نام پر اتفاق نہیں کر پارہی ہے۔ اسی لئے قائم مقام پولس سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔

مزید :

کالم -