اک دلیر آدمی کی نئی کتاب،معلومات افزاء

اک دلیر آدمی کی نئی کتاب،معلومات افزاء
اک دلیر آدمی کی نئی کتاب،معلومات افزاء

  

ملتان سے آنے والی خبروں اور ہمارے شوکت اشفاق کی ڈائری میں جب مخدوم جاوید ہاشمی کو بزرگ رہنما لکھا نظر آتا ہے تو پہلے لمحے جھٹکا سا لگتا ہے کہ ہمارے سامنے تو ان کی وہ تصویر رہتی ہے، جب نعرہ لگتا تھا’’ایک بہادر آدمی،ہاشمی ،ہاشمی‘‘ یہ پنجاب یونیورسٹی میں طلباء سیاست کا دورتھا اور پہلے یہ رابطہ یونیورسٹی آرڈیننس کے خلاف طلباء کی جدوجہد کی وجہ سے ہوا تو پھر یہ سلسلہ پنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کے انتخابات تک بھی پھیل گیا۔ اس دور میں یونیورسٹی بھی دائیں بائیں کی کشمکش میں مبتلا تھی اور ہم ذہنی طور پر ترقی پسند ہوتے ہوئے بائیں طرف مائل تھے لیکن صحافتی ذمہ داریوں کی وجہ سے خود کو ہر دم غیر جانبدار رکھنے کی کوشش کرتے تھے اور پھر وہ وقت آیا جب جہانگیر بدر (مرحوم) بھی نمایاں ہوئے تو ان کی طرف داری کی، تاہم خبروں کی حد تک خود کو اس کشمکش سے بالا رکھا، یہی وجہ تھی کہ یہ سب سامنے ہوتے ہوئے بھی دائیں والوں سے تعلقات خوشگوار رہے۔ انہی دنوں یہ بھی دور آ گیا کہ بائیں والوں کا رجحان پیپلزپارٹی اور دائیں والے جماعت اسلامی ہو گئے جماعت والے دوست اس سیاست میں اسلامی جمعیت طلباء کے ذریعے تنظیمی طور پر یونیورسٹی سیاست میں شامل تھے اور جاوید ہاشمی ان کے ہم خیال ہوئے اور پھر انہی کی حمایت سے یونین کے صدر بھی منتخب ہوئے۔ اس دور میں بھی متحارب ہونے کے باوجود جہانگیربدر اور جاوید ہاشمی کے ذاتی تعلقات شریفانہ اور دوستانہ ہی رہے اور جاوید ہاشمی بھی وضع دار تھے تب اخبار نویسوں سے ان کی دوستی رہی۔ ہم تو ان کی یوں بھی عزت کرتے کہ اس وقت روزنامہ امروز ملتان کے چیف رپورٹر ولی محمد واجد کے ساتھ ہماری بڑی پکی دوستی تھی اور ان کے جاویدہاشمی سے تعلقات دوستانہ تھے یوں یہ تکون بھی بن گئی تھی۔ پھر مہ و سال گزرے، جاوید ہاشمی طلباء سیاست سے عملی سیاست تک پہنچے اور ایک بڑے لیڈر بن گئے۔ سختیاں تو ایوبی دور سے دیکھنا شروع کر دی تھیں، تاہم جیل والی شہرت جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور سے ملی، جب ایک خط کی بناء پر ان کے خلاف مقدمہ بنا۔ لاہور جیل میں تھے اور کبھی کبھار سروسز ہسپتال چیک اپ کیلئے آتے تو دو تین صحافی دوستوں سے بھی ان کی ملاقات ہوجاتی تھی۔ ان کے اندر ذرا سا بھی اضطراب اور گھبراہٹ نہیں تھی اور پھر انہوں نے ’’باغی‘‘ میں سب کچھ لکھ دیا۔جو جیل میں تصنیف ہوئی تھی۔

ایک وقت وہ بھی یاد آتا ہے جب ان کو فالج کے حملے کی وجہ سے جنرل ہسپتال لایا گیا اور پھر ان کا علاج یہاں ہوا،ان کی خود اعتمادی کا یہ عالم تھا کہ نہ صرف اس بیماری سے نکلے بلکہ جلد ہی سیاست میں عمل دخل شروع کر دیا اور بتدریج بڑھاتے گئے اب اگرچہ بیماری کے اثرات پوری طرح زائل تو نہیں ہوئے تاہم وہ بہت حد تک سنبھل چکے ہوئے ہیں اور تقریر میں ان کا پہلا طنطنہ واپس آ گیا ہوا ہے۔ آج ان کی یاد آنے کا سبب ان کی نئی کاوش بنی کہ قریباً ایک ہفتہ قبل ان کی طرف سے ایک اور کتاب موصول ہوئی جس کا عنوان ’’زندہ تاریخ‘‘ ہے۔یہ کتاب بھی جیل ہی سے متعلق ہے اور ان یادداشتوں پر مشتمل ہے جو انہوں نے جیل کے دوران لکھی جانے والی ڈائریوں سے مستعار لے کر لکھ دی ہے۔ وہ جیل میں ڈائری لکھنے لگے تھے کہ فرصت کے دن کام میں لائے جائیں ابھی تک پوری پڑھی نہیں گئی۔ جتنی بھی پڑھ لی اس نے ان کی تحریر کے تاثر کو بھی مضبوط کیا کہ بڑی خوبصورتی سے جیل کے شب و روز کو محفوظ کیا گیا اور پھر وسعت نگاہ سے کچھ تنقید بھی کی گئی انہوں نے اپنے اردگرد جو ماحول دیکھا اسے خوبصورتی سے تحریر کیا چاہے یہ مشاہدہ ہی ہے۔ کتاب میں جیل کے شب و روز اور معمول کو بھی بڑی خوبصورتی سے بتایا گیا اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ کسی فلم کا سکرین پلے لکھا گیا ہو، نامکمل مطالعہ کی وجہ سے زیادہ تفصیل میں نہیں جایا جا سکتا تاہم جتنی بھی پڑھی اس سے یہی احساس ہوتا ہے کہ وہ اور بھی کتابیں لکھیں گے۔

جاوید ہاشمی ان دنوں دو راہے پر ہیں وہ برملا اظہار کر چکے کہ وہ مسلم لیگی ہیں اور ان کو مسلم لیگ سے کوئی جدا نہیں کر سکتا لیکن باقاعدہ طور پر ابھی ان کی واپسی نہیں ہوئی کہ یہ مسلم لیگ (ن) ہی میں ہونا ہے۔جہاں سے بچھڑ کر گئے تھے۔ یہ بھی ایک داستان ہی ہے کہ وہ مسلم لیگ کے قائم مقام صدر تک بھی رہے اور ایسے وقت میں جماعت کو سنبھالا جب قیادت باہر تھی تاہم پھر ایک وقت وہ آیا کہ اپنے مزاج کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کو چھوڑنے پر مجبور ہو گئے کہ ان کو اپنی خود اختیاری اور مختاری ترک کرنامنظور نہیں تھا۔ ان کی ثابت قدمی نے ان کو سہارا دیا اور وہ آج بھی فعال اور قومی امور پر ذاتی رائے دینے سے گریز نہیں کرتے جو کچھ بھی انہوں نے لکھا اور جہاں تک ہم نے پڑھ لیا اس سے ان کی وسعت نگاہی کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔ وہ آج بھی ایک اصول پر قائم اور اس کا اظہار کرتے رہتے ہیں اللہ اس کو صحت مند رکھے اور وہ رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے رہیں۔

مزید :

کالم -