شام میں کیا ہونے جا رہا ہے ؟ ( آخری قسط)

شام میں کیا ہونے جا رہا ہے ؟ ( آخری قسط)
شام میں کیا ہونے جا رہا ہے ؟ ( آخری قسط)

  

بعض قارئین شائد اکتا رہے ہوں گے کہ ایک ہی موضوع پر میں یہ تیسرا کالم کیوں لکھ رہا ہوں۔لیکن ہم پاکستانیوں کے لئے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ اگر ہماری دفاعی حیثیت بھی اسی طرح کی ناتواں ہوتی جس طرح ملت اسلامیہ کے ان پانچوں ممالک (افغانستان، عراق، شام، لیبیا اور یمن) کی تھی تو ہم چھٹا اسلامی ملک ہوتے جس کا منظر آج کے کابل، بغداد، حلب، تریپولی اور صنعا کے دلدوز مناظر سے چنداں مختلف نہ ہوتا۔ ان اسلامی ممالک کی بھری پُری آبادیوں کا جوحشر کر دیا گیا ہے اس پر آنسو بہانے کے لئے دوچار کالموں کی نہیں، کئی کتابوں کی ضرورت ہے۔ شائد میرے قاری کے دل میں یہ حقیقت اتر جائے کہ جس کے پاس لاٹھی ہوتی ہے اسی کی بھینس ہوتی ہے اور یہ لاٹھی آج مغرب کے پاس ہے اور او آئی سی (OIC) کی 56بھینسیں اس کے سامنے ہیں۔ پاکستان وہ واحد اور 57 ویں بھینس ہے جس کی لاٹھی بھی اس کے اپنے پاس ہے اور اس لاٹھی کے ساتھ ایک نہائت منظم، تجربہ کار، تربیت یافتہ اور جدید ملٹری فورس ہے جس میں جوہری ہتھیار اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بھی شامل ہیں۔

میں قاری کو ملک شام کے سب سے زیادہ شاد و شاداب اور گنجان آباد شہر کی طرف لے جانا چاہتا ہوں جو شام کے شمال مغرب میں واقع ہے اور جس کا نام حلب ہے۔ انگریزی میں اس کو Allepo کہا جاتا ہے۔ حلب ایک سرسبز و شاداب علاقہ ہے جس کی مٹی میں سلیکا ریت کی ایک بڑی مقدار شامل ہے۔ اسی ریت سے شیشہ بنایا جاتا ہے اور حلب کا شیشہ تو دنیا بھر میں مشہور تھا۔ پھر یہی سلیکا ریت بحری جہاز وں میں بھر بھر کر یورپ پہنچا دی گئی۔ بلجیم کا شیشہ آج اس لئے مشہور ہے کہ یہاں شیشہ سازی کی جدید صنعت قائم ہے جس نے حلب کی شیشہ سازی کی قدیم صنعت کو گہنا دیا ہے۔ حضرت اقبال کا ایک شعر یاد آ گیا ہے، فرماتے ہیں:

کشاکشِ زم و گرما، تپ و تراش و خراش

زخاکِ تیرہ دروں تابہ شیشہ ء حَلَبی

یہ شعر اسی سات شعروں پر مشتمل ایک مختصر سی نظم (بانگ درا) میں موجود ہے جس کا عنوان ارتقا ہے اور اس کا یہ پہلا شعر تو بارہا آپ کی نظروں سے گزرا ہوگا:

ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز

چراغِ مصطفویؐ سے شرارِ بو لہبی

یہ نظم ملتِ اسلامیہ کی گویا پوری تاریخ ہے جسے اقبال نے صرف سات شعروں میں بیان کر دیا ہے اور جس میں مسلمانوں کی بحیثیت قوم، ارتقائی جدوجہد کی طویل داستان کیپسول کر دی گئی ہے۔اقبال نے بطورِ مثال حلب کے شیشے کا ذکر کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ حلب کی مٹی کو حلب کا شیشہ بنانے کے لئے جن بھٹیوں سے گزارتے ہیں ان میں ان کو پہلے گرم کیا جاتا ہے، پھر ٹھنڈا کیا جاتا ہے، پھر تراشا جاتا ہے اور پھر کانٹ چھانٹ کر شیشہ ء حلبی کی شکل دی جاتی ہے۔ اسی طرح امتِ مسلمہ بھی انہی نشیب و فراز، کانٹ چھانٹ اور مشکل مراحل سے گزر کر ملتِ اسلامیہ بنی تھی!

حلب عربی زبان کے لفظ حلیب کی بگڑی ہوئی شکل ہے جس کا مطلب دودھ سے اور چونکہ حلب کی زمین میں سفید رنگ کی سلیکا ریت کی کثیر تعداد پائی جاتی ہے اور یہاں کا سفید سنگِ مرمر بھی دنیا بھر میں اپنا ثانی نہیں رکھتا اس لئے عربوں نے اس خطہ ء ارض کو ’’حلب‘‘ کا نام دیا۔۔۔۔ آج یہی حلب ہے جس کی تباہ شدہ عمارتوں اور بمباری شدہ پلازوں کو دیکھ دیکھ کر ہول آتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق، گزشتہ چار برسوں میں حلب اور اس کے گردونواح کے چار لاکھ شہری لقمہ اجل بن چکے ہیں اور یہ ساری ہلاکتیں شامی جنگ کے اسی تنگ سے حصے میں ہوئی ہیں۔ آج حلب کا کوئی گھر ایسا نہیں جوسلامت بچ گیا ہو۔ بیشتر آبادی یا تو فضائی بمباری یا پھر توپخانے کی گولہ باری کی نذر ہو چکی ہے یانقل مکانی کرکے ترکی کے راستے یورپ چلی گئی ہے۔ تاریخ میں اتنی بڑی ہجرت کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ کروڑوں مرد، عورتیں اور بچے افغانستان، یمن، عراق اور شام سے بھاگ کر پناہ ڈھونڈنے کی خاطر مختلف یورپی ممالک کے خیموں میں پڑے کراہ رہے ہیں۔ دریں اثناء ہزاروں لاکھوں لوگ اس نقل مکانی اور ہجرت کے دوران ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔ اس موضوع پر درجنوں کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھے جا چکے ہیں اور لکھے جا رہے ہیں۔

گزشتہ دنوں اخبار ٹیلی گراف میں ایک کالم نویس جیمز سورین (James Sorene) کا کالم نظر سے گزرا جس کا عنوان تھا: ’’حلب کے سقوط کے ساتھ، مشرق وسطیٰ میں مغرب کا کنٹرول بھی ختم ہو گیا ہے!‘‘۔۔۔ میں نے گزشتہ اقساط میں مشرق وسطیٰ کی جنگ کا جو مختصر حالِ زار بیان کیا ہے اس حوالے سے دیکھا جائے تو یہ کالم نویس بھی میرا ’’ہمنوا‘‘ ہے لیکن چونکہ غیر مسلم ہے اور مغرب میں رہتا ہے اس لئے اس کا نقطہ ء نگاہ ایک مسلمان اور مشرق میں رہنے والے میرے جیسے کالم نگار سے مختلف ہی نہیں، متضاد بھی ہے!۔۔۔ جیمز کا ایک پیراگراف دیکھئے:

’’جب امریکہ شام سے پیچھے ہٹ گیا تو روس نہائت سنگدلی سے آگے بڑھ آیا۔ مشرق وسطیٰ میں امریکی پالیسی اب روسی پالیسی کے تابع نظر آتی ہے۔۔۔ یہ ایک افسوسناک یوٹرن ہے۔۔۔ حلب کا سقوط ایران کی ایک بہت بڑی فتح ہے۔ اب ایران فخریہ یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ وہ تہران سے لے کر بغداد ، دمشق اور بیروت تک کی قوس (Arc) کو کمانڈ اور کنٹرول کر رہا ہے۔حزب اللہ نے اگرچہ اسد پر جواء لگایا تھا اور اگرچہ اس کو بھاری جانی نقصانات کا سامنا بھی ہوا لیکن اب یہ تنظیم ایرانی فورسز اور روسی کمانڈ سٹرکچر کے مابین ڈھل کر اس سارے خطے میں ایک موثر ترین فورس بن چکی ہے‘‘۔

جیسا کہ قارئین کو معلوم ہوگا حزب اللہ، لبنان کی وہ شیعہ مسلح فورس ہے جو اسرائیل کے خلاف صف آراء رہی ہے اور شام کی جنگ میں گزشتہ چار برسوں میں ایرانی سپورٹ اور روسی اسلحہ کے ساتھ داعش سے برسرپیکار ہے۔ یہ تنظیم صدر بشارالاسد کی حامی ہے اور اگرچہ داعش نے اس پر حملے کرکے اس کا بہت کثیر جانی نقصان کیا ہے لیکن جب روسی فضائیہ نے حلب میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کرکے اسے وہاں سے نکلنے پر مجبور کر دیا تو اسی حزب اللہ کی انفنٹری نے حلب میں جا کر زمینی کنٹرول سنبھالنے میں اسد کی وفادار فوج کا ساتھ دیا۔۔۔‘‘

جیمز سورین اتنا لکھنے کے بعد آگے چل کر سقوط حلب پر جو تبصرہ کرتا ہے وہ چشم کشا بھی ہے اور دلچسپ بھی ہے۔ وہ لکھتا ہے:’’حلب کی اس لڑائی نے جنگی جرائم کو ایک معمول بنا دیا ہے۔ شہروں پر بے تحاشا گولہ باری ،فضائی بمباری اور کیمیاوی ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال ایک معمول بن گیا ہے۔ اگر آئندہ حزب اللہ کو اسرائیل سے جنگ کرنا پڑی تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ اپنی انہی چالوں کو اسرائیلوں کے خلاف بھی آزمائے گا اور استعمال کرے گا!‘‘

آپ نے دیکھا مغرب کے کالم نویسوں کی تان کہاں جا کر ٹوٹتی ہے؟ ان کو لاکھوں کروڑوں مسلمانوں کی جانی ہلاکتوں کا کوئی غم نہیں اور نہ ہی مسلم ممالک کی مادی بربادیوں کا کوئی افسوس ہے۔ اگر کوئی غم یا افسوس ہے تو اپنے اسرائیل کا ہے کہ اگر کل کلاں حزب اللہ نے اسرائیل کے خلاف جنگ لڑی اور وہ طریقہ ء ہائے حرب و ضرب استعمال کئے جو اس نے داعش کے خلاف استعمال کئے ہیں تو کیا ہوگا؟‘‘

لیکن یہ تو حزب اللہ اور اسرائیل کی بات تھی اور ایران کا اور حزب اللہ کا نقطہ ء نظر تھا۔ لیکن اس جنگ کا دوسراپہلو وہ عرب نقطہ ء نظر ہے جو داعش اور اس کے تائید کنندگان (Supporters) کا ہے۔ یعنی یہ وہی المیہ ہے جس کے بارے میں، میں نے گزشتہ اقساط میں اشارہ کیا تھا اور عرض کیا تھا کہ یہ جنگ دراصل ایران اور سعودی عرب کے درمیان ہے یعنی یہ کشاکش دراصل دو مسالک کے مابین ہے۔اور مزید یعنی یہ آویزش دراصل شیعہ۔ سنی آویزش ہے۔۔۔۔

’’عرب نیوز‘‘ عربی زبان کا ایک معروف روزنامہ ہے جس میں باریہ علام الدین (Baria Alamuddin) کا ایک مضمون کل ہی شائع ہوا ہے جس کا عنوان ہے: ’’کیا ایران، اسرائیل سے 100گنا زیادہ بدتر نہیں؟‘‘۔۔۔ یہ کالم نگار اپنے مغربی (یورپی اور امریکی) لکھاریوں کی ہم نوائی میں لکھتا ہے: ’’خمینی، حزب اللہ لیڈر حسن نصراللہ، بغداد کا سلیمانی، اسد اور روسی صدر ولاڈی میر پوٹن ایک دوسرے کو مبارک باد دے سکتے ہیں کہ انہوں نے حلب میں عورتوں اور بچوں کو ذبح کرکے رکھ دیا ہے۔ تاہم ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ سقوطِ حلب نے ساری دنیا کے امن پسند لوگوں کو یکجا کر دیا ہے۔ وہ دن جلد آئے گا اور ضرور آئے گا جب شام اور عرب دنیا کے عظیم سپوت ان سے نبردآزما ہوں گے اور اپنی اس آزادی اور خود احترامی کو بحال کرکے دم لیں گے جو ان سے چھین لی گئی ہے‘‘۔

اسی طرح ’’فارن پالیسی‘‘ کے نام سے انگریزی زبان کا ایک میگزین ایک عرصے سے امریکہ سے شائع ہو رہا ہے جس میں دفاع، بین الاقوامی امور، قومی سلامتی اور سٹرٹیجک اہمیت کے حامل مضامین شائع ہوتے ہیں۔ پاکستان کی مسلح افواج کے اعلیٰ تدریسی اداروں (مثلاً کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد، نیول وار کالج لاہور اور ائر وار کالج کراچی وغیرہ) میں بھی اس کی کاپیاں منگوائی اور پڑھی جاتی ہیں۔ اگلے روز اس میں ایک آرٹیکل شائع ہوا ہے جس کا مصنف ایمائل سمپسن (Emile Simpson) ہے۔ اس نے سقوطِ حلب پر ایک متوازن تبصرہ کیا ہے۔ اس کے ایک پیراگراف کا ترجمہ بھی دیکھ لیجئے۔ اس میں کالم نگار نے جو استدلال کیا ہے، اس کی کاٹ دار صداقت بھی آپ کی نگاہوں سے اوجھل نہیں رہنی چاہیے۔وہ لکھتا ہے:

’’اصل اور بنیادی سچ یہی ہے کہ آج کی جنگیں باوجود ٹیکنالوجی کی بے پناہ ترقی کے ،گراونڈ پر انفنٹری کی مدد سے جیتی جاتی ہیں۔ یہ انفنٹری ہی ہے جو امن کی ضامن بنتی ہے۔ باغی فورسز جو پراکسی وار لڑتی ہیں اور جن میں اکثر اسلامی دہشت گرد بھی شریک ہو جاتے ہیں، ان کی بھی ایک حد ہے۔ دوسرے لفظوں میں کہوں گا کہ اگر مغربی ممالک واقعی مشرقی وسطیٰ میں مداخلت کا ارادہ رکھتے ہیں تو ان کو اپنی فورسز، گراؤنڈ پر بھیجنی چاہئیں اور پراکسی وارز نہیں لڑنی چاہئیں۔ ان کو اپنی زمینی افواج بھیج کر ایک طویل عرصے تک وہاں قیام کرنے کی پلاننگ کرنی چاہیے۔(یہ نہیں ہونا چاہیے کہ پانچ سات سال کسی ملک میں گئے اور پھر واپس چلے آئے)۔ بلند بانگ دعوے کرنا، جمہوریت کے قیام کا درس دینا، مقامی آبادیوں کی فلاح و بہبود کا ڈھنڈورہ پیٹنا اور ساتھ ہی چند ہزار ٹروپس بھیج دینا یہ سب کچھ اس وقت بے کار ہو جاتا ہے جب دہشت گردوں کے ساتھ جنگ میں ان سپاہیوں کے بدن کے پرزے ہوا میں تحلیل ہونے لگتے ہیں، خانہ ساز بارودی سرنگوں (IEDs) سے ان کے جسموں کے پرخچے بکھرنے لگتے ہیں اور نام نہاد جمہوریت کا محل دھڑام سے زمین بوس ہو جاتا ہے‘‘۔

’’شام اور حلب میں آج جو کچھ ہو رہا ہے اگرچہ مغرب اس کا براہ راست ذمہ دار نہیں لیکن ہم نے 2011ء سے داعش باغیوں کو جو جھوٹے دلاسے دے رکھے تھے اور جو غلط امیدیں دلا رکھی تھیں اور پھر جس طرح اسلحہ اور دوسرے سازوسامانِ جنگ سے ان کو سپورٹ بھی کیا تھا، وہ انتہائی غلط طریقہ تھا۔ ہمیں چاہیے تھا کہ ہم اپنے زمینی ٹروپس بھیج کر باغیوں سے شرطِ وفا نبھاتے!۔ یہ ٹروپس جیسا کہ اوپر کہا گیا مختصر عرصے کے لئے نہیں ہونے چاہئیں بلکہ ہمیں اس وقت تک مشرق وسطیٰ کے ان ممالک میں قیام کرنا چاہیے جب تک کوئی حتمی فیصلہ نہ ہو جائے۔ یعنی یا تو ہمیں فیصلہ کن وار کرنا چاہیے، یا پھر میدانِ جنگ میں اترنا ہی نہیں چاہیے!‘‘۔

سقوطِ حلب کے بعد سمپسن کا یہ صحافیانہ مشورہ پس از مرگ واویلا کے سوا کچھ اور نہیں:

خیالِ زلفِ دوتا میں نصیر پیٹا کر

گیا ہے سانپ نکل، اب لکیر پیٹا کر

مزید :

کالم -