جشن میلاد النبی ﷺ اور ہفتہ وحدت

جشن میلاد النبی ﷺ اور ہفتہ وحدت

  

طلوع نور یعنی رحمت للعالمین حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آمد پروردگار عالم کی جانب سے احسان عظیم ہے ۔ سید الانبیاء امام المرسلین سے منسوب ایام کو ہفتہ وحدت المسلمین کے طور پر منانے کا فلسفہ پوری ملت اسلامیہ کو اتحاد و یگانگت کی لڑی میں پروتا ہے ۔ یوں تو ربیع الاول کا پورا مہینہ بابرکت ہے اور خوشیوں کا مرکز ہے لیکن اس ماہ میں اہلسنت برادران 12 ربیع الاول کو حضور پاکؐ کی ولادت با سعادت کا جشن مناتے ہیں اور اہل تشیع برادران کے مطابق 17 ربیع الاول کو حضور پاک کی ولادت سے یہ دنیا منور ہوئی۔ مسلمانوں کے درمیان وحدت و اتحاد کے بہت بڑے داعی انقلاب اسلامی کے بانی حضرت امام خمینی ؒ نے ایک خوبصورت فیصلہ کیا اور حکم دیا کہ 12 سے 17 ربیع الاول تک میلاد النبی ﷺکوہفتہ وحدت کے طور پر مل کر بھرپور انداز میں منائیں ، اور اس ہفتہ کو ہفتہ وحدت کا نام دیا گیا۔ امام خمینی ؒ کے فرمان پر پوری دنیا میں عمومی طور پر اور بالخصوص ایران میں ہفتہ وحدت مذہبی جوش و جذبے اور عقیدت کے ساتھ بھرپور انداز میں منایا جاتا ہے ۔

ہفتہ وحدت اپنے دامن میں بے شمار برکات و ثمرات سمیٹے ہوئے ہے ۔ جس کے اثرات سے پوری نسل آدم فیضیاب ہو رہی ہے ۔ انسان کو اپنے خالق سے روشناس کرانے کے لئے اللہ نے حیات انسانی کے ہر دور میں اپنے پیغمبر بھیجے ، جنہوں نے اللہ کے پیغام کو بندوں تک پہنچا کر انہیں اس قابل بنایا کہ وہ اپنے خالق کی خوشنودی و رضا کے لئے اسی کے بتائے اصولوں کے مطابق اپنی زندگی بسر کریں۔

روئے زمین پر جتنے بھی پیغمبر آئے ، سب نے اپنے فرائض کے تحت تعلیمات الٰہی کو اللہ کے بندوں تک پہنچایا۔ احکام خداوندی، اپنے تمام اصول و ضوابط کے ساتھ مکمل ہونے تک نبوت کا دروازہ کھلا رہا اور اللہ نے یکے بعد دیگرے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر روئے زمین پر بھیجے ۔ ہر رسول و پیغمبر کی رحلت کے بعد اس کی امت نے اپنے نبی کی تعلیمات کو بھلا دیا۔ ایک ایسے وقت میں جب انسان اپنی قدر و منزلت سے غافل، جہالت و ضلالت کی دلدل میں غرق، احساس محرومی کی زندگی بسر کر رہا تھا، بنت حوا شعور کی آنکھ کھولنے سے قبل صحرا کی تپتی ریت میں ہمیشہ کے لئے زندہ درگور ہو جاتیں تھیں۔ فتنہ و فساد اور شر نے حیات انسانی کو اپنی گرفت میں جکڑ رکھا تھا۔ عجیب عالم بے چارگی تھا، انسانیت اقدار کی ردا گنوا کر تپتے صحراؤں میں سسکتی، بلکتی مسیحا کو آوازیں دے رہی تھی۔

ایسے میں اس نور مبین کی آمد ہوئی، جس نے جہالت کے اندھیروں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا اور علم و حکمت و دانش کا ایسا چراغاں کیا کہ نگاہ بشر اس کی چکاچوند کی تاب نہ لاتے ہوئے خود بخود سجدہ ریز ہوگئی۔ یہی وہ پاک و پاکیزہ ہستی ہے جو اللہ کی بہت زیادہ محبوب ہے ، جس کے لئے پوری کائنات کو خلق کیا گیا، جن سے محبت و عقیدت اور عشق رکھنے والوں کے لئے جنت انعام مقرر ہوئی اور ان سے بغض و عداوت رکھنے والوں اور اس ہستی کے صفات و معجزات اور سیرت و کردار پر شک کی نظر کرنے والوں کے لئے دوزخ وجود میں لائی گئی۔

امام الانبیاء، سیدا لاوصیاء، فخر کائنات، رحمت للعالمین، حبیب خدا، حضرت محمد مصطفے ، احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آمد اللہ کی جانب سے اپنے بندوں پہ انعام عظیم ہے ۔ آپؐ کی آمد سے ہی انسان کو اپنے خالق کی بارگاہ میں سرخرو ہونے کا موقع میسر آیا ۔آپؐ تمام علوم کا سرچشمہ ہیں، آپؐ کی رحمت سے صرف ایک خاص مکتب فکر یا صرف انسان ہی فیضیاب نہیں ہوئے بلکہ چرند پرند سمیت کائنات میں وجود رکھنے والی ہر شے آپؐ کی رحمت سے بہرہ مند ہوئی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آپؐ کی ولادت باسعادت کے موقع پر آپؐ سے محبت اور عشق رکھنے والے اپنے اپنے انداز میں آپؐ کے حضور گلہائے عقیدت پیش کرتے ہیں۔حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دنیا کے سامنے اسلام کا ایسا جامع نظام پیش کیا جو انسانی اقدار اور تہذہب و اخلاق سمیت حیات انسانی کے ہر پہلو کو تحفظ و ناموس فراہم کرتا تھا۔

اللہ نے لاکھوں انبیاء، رسل، اولیاء، اوصیاء اپنے بندوں کو صراط مستقیم سے روشناس کرانے کے لئے بھیجے اور ان تمام کو مختلف علوم و فنون، معجزات اور فضیلت و کرامات سے نوازا، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ان تمام فضائل و کرامات اور معجزات کا سرچشمہ بنایا اور آپ کی ذات مبارک کے ہر پہلو کو اتنا مکمل خلق کیا کہ کائنات کے تمام ظاہری و مخفی علوم آپ کی شخصیت کا حصہ بنے ۔

تاریخ انسانی شاہد ہے کہ دنیا میں کسی تحریک، کسی مذہب نے قلیل وقت میں اتنی ترقی نہیں کی کہ جتنی اسلام نے کی ۔یہ آپﷺ کی شخصیت کا ہی اعجاز تھا کہ صرف دس سال کی قلیل مدت میں اسلام کا دائرہ دُور دُور تک پھیل چکا تھا۔ آپ کی تعلیمات، شخصیت اور اسوۂ حسنہ نے دوسرے تمام مذاہب پر اسلام کے اتنے خوش نما نقوش ثبت کئے کہ دنیا بھر کے لوگ بلا تفریق رنگ و نسل دائرہ اسلام میں داخل ہونے لگے اور آج روئے زمین کا کوئی حصہ ایسا نہیں جہاں مسلمان نہ بستے ہوں۔

اسلام کا دائرہ اس قدر وسیع ہونے کے باوجود آپؐ نے دنیا میں بسنے والے تمام مسلمانوں کو ایک جسم قرار دیا اور فرمایا کہ تمام مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں اور اگر جسم کے ایک حصہ میں تکلیف ہو گی تو پورا جسم بے چین ہو گا۔

اتحاد و اخوت و بھائی چارے کی اس سے بہترین اور جامع تعریف ممکن نہیں۔ یہ آپؐ کی سیرت و کردار، تعلیمات اور حسن سلوک کا ہی خاصہ تھا کہ جزیرۃ العرب سے بلند ہونے والی "لا الہ الا اللہ " کی صدا پوری دنیا میں گونج اٹھی اور اسلام کا چراغ ہر گھر کو اپنے نور سے منور کرنے لگا ایسے میں اسلام دشمن عناصر اسلام کے عالمگیر و آفاقی نظام سے شکست فاش کھانے کے بعد مسلمانوں کے خلاف طرح طرح کی سازشیں کرنے لگے جن میں سب سے گھناؤنی اور خطرناک سازش مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنا تھا اور ملت اسلامیہ کے فرزندوں کے درمیان اختلافات کو اس حد تک ہوا دینا تھا کہ یہ آپس میں دست گریباں ہو جائیں۔

ماہ ربیع الاول وہ مبارک مہینہ ہے جب حضور اکرم ﷺ اس دنیا میں تشریف لائے اور اپنے نور سے عالم کو منور فرمایا جس کے باعث ہر مسلمان کے لئے یہ مہینہ یکساں عقیدت و احترام کا حامل ہے ۔ امام الانبیاء خاتم المرسلین سید العالمینؐ کی ولادت باسعادت کے مبارک موقع پرہفتہ وحدت 12 تا 17ربیع الاول کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ تمام مسلمان اس مبارک موقع پہ حضور نبی کریم ﷺ کے ذکر سے محافل آباد کرتے ہیں اور آپ کی نمونہ عمل سیرت و کردار کو دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ ربیع الاول کے بابرکت مہینے میں ہفتہ وحدت، ذکر رسالت مآ بؐ سے منور و روشن ہے جس کے ثمرات و برکات کا کوئی احاطہ نہیں کیا جا سکتا۔ حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے انقلاب اسلامی کے پہلے سال ہی ہفتہ وحدت کا اعلان کرکے مسلمانوں کے درمیان یکجہتی کو فروغ دینے کی جو کوشش کی ہے یقیناً وہ قابل ستائش ہے ۔ ان کا یہ کارنامہ ان کی اسلام سے دلی وابستگی اور عشق رسولؐ کی عکاسی کرتا ہے ۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی سید علی خامنہ ای مدظلہ العالی فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی آج کی اسلامی دنیا کے تمام مسائل کا حل ہے ، فی الوقت پوری دنیا میں اسلام کے خلاف جتنی کارروائیاں انجام دی جا رہی ہیں ان میں سب سے زیادہ شدت کے ساتھ یہود و عیسائیت کی ناموسِ رسالت مآب ﷺمیں بے ادبی، جسارت، توہین اور گستاخی کا معاملہ نمایاں ہے ، اسی پر اسلام مخالف مشینریاں اپنی توانائیاں اور مال و دولت صرف کر رہی ہیں، تمام ذرائع بشمول میڈیا کا استعمال اس کے لئے کیا جا رہا ہے ، اظہارِ رائے کی آزادی کے نام پر اہانت رسالت کی مہم کو عالمی بنا دیا گیا ہے ، احترام رسالت مآبؐ کو پسِ پشت ڈالنے کی خاطر تمام باطل قوتیں اس کے لئے شب و روز متحرک و فعال ہیں، فطری امر ہے کہ حملے کا رُخ جس سمت سے ہوگا دفاع بھی اسی رُخ سے کیا جائے گا، حملہ پشت کی طرف سے ہو اور حصار سامنے کھڑا کیا جائے تو غیر دانشمندانہ بات ہوگی، یوں ہی موجودہ دور میں بلکہ گزری دو صدیوں سے جاری حملوں کے جواب میں مسلمانوں کے لئے لازم ہوگیا ہے کہ وہ رحمت للعالمینؐ سے اپنی نسبت، عقیدت و ارادت مزید مضبوط کرلیں، اس کے لئے وہ تمام جائز امور استعمال میں لائیں جس سے مسلمانوں کے دل کا رشتہ محبت نبی کریم ﷺ کی بارگاہ سے استوار رہے ۔ آج دنیا بھر کے مسلمانوں کو عید میلاد النبیﷺ زور و شور سے پرعزم و پرارادت طریقے سے منانا ہو گی تاکہ اس سے حاصل ہونے والے فوائد کا علم ہو۔ ساتھ ہی مسلمانوں کی اجتماعیت، اتحاد اور اجتماعی تسلسل کا بھی اندازہ ہو سکے ، نیز اس سے ہمیں اسلامی سوسائٹی کو مضبوط کرنے میں بھی مدد ملے گی اور آستین میں چھپے دشمن کو مایوس کیا جا سکے گا تاکہ جذبہ تقلید اور جذبہ عمل قائم رہے ۔

دنیا کی باشعور، باحس اور زندہ قومیں اپنے رہنماؤں اور قائدین کو ان کے یومِ ولادت کی مناسبت سے یاد کر کے اپنی عقیدتوں کے نذرانے پیش کرتی ہیں، پیغمبر اسلام ﷺ کی ذات باعث رحمت عالمین ہے ، ان کا ذکر باعث رحمت ہے ، عین عبادت ہے ، ان کی ولادت کے موقع پر ان کی یاد کو قائم کرنا اور آپ ﷺکی تعلیمات کو عام کرنا عقیدت و فرض شناسی ہی نہیں بلکہ آپؐ کا ہم پر یہ حق بھی ہے کہ آپؐ کے پیغام امن عالم و انسانیت اور پیغام وحدت و اخوت کو عام کریں، ہمیں فخر کے ساتھ رسولؐ اسلام کے پیغام اخوۃ المسلمین کو عام کرتے ہوئے میلادالنبی کے موقع پر ہفتہ وحدت کا بھرپور انداز میں اہتمام کرنا چاہئے ۔

مزید :

ایڈیشن 1 -