کبھی کسی کو کم تر نہیں سمجھا ‘ہمیشہ کچھ نیا سیکھنے کی کوشش کی ،صباء کاظمی

کبھی کسی کو کم تر نہیں سمجھا ‘ہمیشہ کچھ نیا سیکھنے کی کوشش کی ،صباء کاظمی
 کبھی کسی کو کم تر نہیں سمجھا ‘ہمیشہ کچھ نیا سیکھنے کی کوشش کی ،صباء کاظمی

  

لاہور( فلم رپورٹر) فلم،ٹی وی اور تھیٹر کی معروف اداکارہ و ماڈل صباء کاظمی نے کہا کہ میں نے ہمیشہ پروفیشنل پراجیکٹس میں کام کرنے کو ترجیح دی ہے جس کی بہترین مثال جرمنی میں مقیم پاکستانی نژاد پروڈیوسر اور پروموٹریار محمد صابری شمسی کی فلم ہے اس فلم میں میرا رول پاور فل اور پرفارمنس سے بھرپور ہے۔ یار محمد صابری نے جب دورہ پاکستان کے دوران مجھے سکرپٹ سنایا تو میں نے اپنے کردارکو سنتے ہی فلم میں کام کی حامی بھر لی اس فلم کی شوٹنگ آئندہ برس جرمنی اور پاکستان میں ہوگی۔ فلم کا نام تا حال فائنل نہیں ہوا پروڈیوسریار محمد صابری کا کہنا ہے کہ فلم کا نام شوٹنگ کے آغاز سے ایک ہفتہ قبل شاندار اور پروقار تقریب میں منظر عام پرلایا جائے گا۔

میں حال ہی میں ایک آئی ٹی کمپنی کا کمرشل کیا ہے جس کو منتظم شاہ نے ڈائریکٹر کیا ہے یہ کمرشل جلد ہی تمام چینلز کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر آن ائیر ہوگا۔ صباء کاظمی نے کہا کہ حسد اور تنقید برائے تنقید نے عوام کابیڑہ غرق کردیا ہے جب تک ہم سیکھنے کے عمل کو بہتر نہیں کریں گے ۔ہم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے ۔صباء کاظمی نے کہا کہ میں نے بچپن سے ہی خود کو دوسرے سے سیکھنے کی طرف متوجہ کردیا تھا اور آج تک سیکھتی آرہی ہوں کبھی کسی کو اپنے سے کم تر نہیں سمجھا ہمیشہ کچھ نیا سیکھنے کی کوشش کی ہے ۔شوبزکی دنیا کسی یونیورسٹی سے کم نہیں ہے اس میں ہر طرح کے لوگ موجود ہیں ۔انہوں نے مزید کہااب مار دھاڑ کی فلموں کیلئے انڈسٹری میں کوئی جگہ نہیں ہے ایسی فلمیں اور ڈرامے بننے چاہییں جو شائقین کو اچھی تفریح مہیا کرسکیں ۔ عدم برداشت کا معاشرے کی تباہی میں اہم کردار ہے ‘لوگ اپنی سوچ کے خلاف کوئی بات سننے کو تیار نہیں ہو تے جس کی وجہ سے لڑائی جھگڑوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے ۔ صباء کاظمی نے کہا کہ پاکستان میں وسائل اور محنتی لوگوں کی کمی نہیں مگر بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں لوگ اپنی سوچ کے خلاف ایک بھی الفاظ سننے کو تیار نہیں ہو تے اور صرف خود کو ٹھیک اور باقی کو غلط سمجھتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے بدلتے حالات میں ہر کسی کو اپنے اندر برداشت پیدا کر نا ہوگی کیونکہ جہاں برداشت ختم ہو جائے وہاں معاشرے تباہ ہوجاتے ہیں اور پاکستان میں بھی برداشت کا کلچر ختم ہو تا جا رہا ہے ۔

مزید :

کلچر -