پیپلز پارٹی نے 2دفعہ جھٹکا دیا پھر بھی زرداری کی واپسی پر خوش ہیں :نواز شریف

پیپلز پارٹی نے 2دفعہ جھٹکا دیا پھر بھی زرداری کی واپسی پر خوش ہیں :نواز شریف

  

سرائیوو(عثمان شامی سے) وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ ایٹمی دھماکوں کے وقت پاکستان اور بھارت کے ساتھ یکساں سلوک کیا گیاتھا مگر 1999 میں ہماری حکومت کے خاتمے کے بعد آنے والی حکومتوں میں پاکستان عالمی برادری کی طرف سے یکطرفہ طور پر دباؤکا شکار ہا، بعض لوگ کہتے ہیں کہ بجلی کی قلت کا مسئلہ حل کردیں تو آئندہ الیکشن بھی مسلم لیگ(ن) کا ہی ہوگا لیکن کرنیوالے اور بھی بہت سے کام ہیں ، گوادر سے کوئٹہ اور چمن تک پھر خیبرپختونخوا تک سڑک بنارہے ہیں ، میڈیا کو بھی دعوت دیں گے تاکہ بتایا جائے کہ بجلی ، سڑکوں ، گوادر کی ترقی اور ایئرپورٹس کے کون کونسے منصوبے زیرتعمیر ہیں کیونکہ دیکھے بغیر یہ نہیں پتہ چلے گاکہ کیا کیا ہورہا، صرف بنانا نہیں کرکے دکھانابھی ضرور ی ہے ، 2018ء تک بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کردیں گے ،ملک چلانا دھرنے والوں کے بس میں نہیں، پیپلزپارٹی نے دودفعہ جھٹکادیا لیکن زرداری کی واپسی پر خوشی ہیں اور انہیں اپنی پارٹی کے معاملات کو ہاتھ میں لیناچاہیے ، وزیراعظم نے کہاکہ پیپلزپارٹی اور زرداری سے اچھا تعلق ہے اور وہ اسے برقراررکھناچاہتے ہیں،سب جماعتوں کو ساتھ لے کر چلناچاہتے ہیں، پاکستان کے اندرونی معاملات کو ٹھیک کرنے کے لیے تیزی کیساتھ کام جاری ہے اور اب چینی بھی پنجاب سپیڈ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں جو چھوٹی بات نہیں، سی پیک کے تحت گوادرکوئٹہ اور چمن شاہراہیں تیار ہوگئی ہیں ، تنقید کرنیوالے لوگ یہ نہیں جانتے کہ سڑک کے بغیر ہسپتال یاسکول ہیلی کاپٹر ز کے ذریعے جائیں گے ، شفافیت پر بھی نظر ہے ، اگر شفافیت چاہتے ہیں تو کچھ بھی ہو، آپ شفافیت رکھ سکتے ہیں۔ان کاکہناتھاکہ ضروری نہیں کہ تمام ممالک کیساتھ تعلقات کی بنیاد اقتصادی مفادات ہوں ، کچھ ممالک کیساتھ پاکستان کاجذباتی رشتہ ہے اور بوسنیا ان میں سے ایک ہے۔ان خیالات کا اظہار وزیراعظم نے سرائیوو ،بوسنیا میں پاکستانی صحافیوں کے ساتھ ناشتے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر وہ بے حد خوشگوار موڈ میں نظرآئے اور سوالوں کے جواب میں دلچسپ فقرے بھی چست کرتے رہے ، وزیراعظم کا یہ روپ ایک عرصے بعد دیکھنے میں سامنے آیااور اس ’تبدیلی ‘ میں پاکستان میں حالیہ دنوں میں ہونیوالی تبدیلیوں نے یقیناًانتہائی اہم کردار اداکیا۔سینئر صحافیوں سے گفتگواورسوالات کے جواب میں وزیراعظم نوازشریف نے کہاکہ آصف علی زرداری کی واپسی پر خوشی ہے ، وہ اپنی پارٹی کے معاملات اپنے ہاتھ میں لیں ،سب جانتے ہیں کہ الیکشن جیتنے کے بعد اوروزیراعظم بننے سے پہلے وہ زرداری کے پاس گئے تھے، زرداری کی ریٹائرمنٹ پر ہم نے انہیں بلایا اور اچھے طریقے سے الوداع کیا، رواداری کا قائل ہوں اور یہ رواداری چلتی رہنی چاہیے اور جب کسی طرف سے اس میں کمی آتی ہے تو پھر تکلیف ہوتی ہے،انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور زرداری سے اچھاتعلق تھا اور اسے قائم رکھنا چاہتاہوں۔ہم نے پیپلزپارٹی کے ساتھ میثاق جمہوریت پر دستخط کیے اور پھراین آراو ہوگیاتو دھچکالگا ،2008ء کے الیکشن میں ہم آگے آگئے اور پی پی کو حکومت بنانے کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ہم حمایت کرتے ہیں، ہم نے حکومت میں شمولیت اختیار کی ، بار بار کہاکہ پی پی ڈلیور کرتی ہے تو اگلے پانچ سال بھی وہ لیں، مجھے انہیں گھر بھیج کر اپنی حکومت بنانے کی خواہش نہیں تھی ، ان دنوں ایک اینکر نے استعفوں کی بابت سوال کیاتو میں نے کہاکہ لوگوں نے استعفوں کیلئے مینڈیٹ نہیں دیا، پیپلزپارٹی نے این آراو اور حکومت پنجاب کے گرانے کی وجہ سے دوبارجھٹکادیا۔ نوازشریف نے کہاکہ کبھی دھرنے کی بات کی نہ ہی استعفوں کی ، یہاں تودھرنے کو بھی شکرانہ کہنے اور استعفوں کو واپس لینے کی بھی روایت ہے لہٰذا وہ بات کرنی چاہیے جولوگ مانیں اور آپ اس پر قائم رہ سکیں ،وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ پاکستان چلانا ہرکسی کے بس میں نہیں بلکہ دھرنے والوں کے تو بالکل ہی بس میں نہیں۔بوسنیا کے دورے سے حاصل ہونیواے مقاصد کے بارے میں وزیراعظم نے کہاکہ ضروری نہیں تمام ممالک سے تعلقات کی بنیاد اقتصادی مفادات ہی ہوں ، دنیا میں چند ممالک ایسے بھی ہیں جن سے پاکستان کا جذباتی رشتہ بھی ہے اور بوسنیا ان میں سے ایک ہے ، جب یہاں خانہ جنگی جاری تھی تو اس وقت میں نے کوشش کی کہ بطوروزیراعظم بوسنیا کے مسلمانوں کی بھرپور مدد کی جائے اور یہ بات بوسنیا کے لوگوں کو بھی آج تک یاد ہے ، بوسنیا یورپ میں واحد ایسا ملک ہے جس سے پاکستان کا اتنا قریبی رشتہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ اسی طرح بیلاروس ایک ایسا ملک ہے جس سے رواں دورحکومت میں پاکستان کے تعلقات انتہائی گہری دوستی میں بدل چکے ہیں جبکہ نیوکلیئرسپلائیرگروپ میں شمولیت کے معاملے پر بیلاروس نے بھارت کیخلاف پاکستان کی بھرپور حمایت کی۔ مسلم لیگ ن کے منشور پر عمل درآمد اور 2017ء کے ایجنڈے سے متعلق سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہاکہ داخلہ و خارجہ پالیسی میں اصلاحات کررہے ہیں اوریہ اصلاحات ہرسیکٹرمیں جاری رہیں گی ، گزشتہ ساڑھے تین سال میں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھے حکومت نے کچھ نہ کچھ ضرور دیا اور اگرماضی میں دیکھیں تو پتہ چلے گاکہ شاید ہی کوئی حکومت ہو جس نے اپنے اہداف حاصل کیے جبکہ بعض نے توا پناایجنڈا ہی نہیں دیا اوران میں سے کچھ لوڈشیڈنگ کا تحفہ اور کچھ دہشتگردی کی لعنت چھوڑ گئے ، انہوں نے کہا کہ پاکستان وہیں کھڑا تھا جہاں 1999ء میں چھوڑا، اس وقت بجلی کا بحران نہیں تھا تاہم پالیسیاں اچھی تھیں،وزیراعظم نے کہا کہ ایٹمی دھماکوں کے وقت یکساں طورپر پاکستان اور بھارت پرپابندیاں لگیں لیکن پاکستان پچھلے کئی برسوں سے یکطرفہ دباؤکا شکار ہے، ماضی میں مسلم لیگ ن کی حکومت کے وقت دونوں کو ایک جیسا سلوک کیاجاتاتھا، ہم بھارت کو بجلی سپلائی کی بات کررہے تھے لیکن2013ء میں انڈیا ہمیں بجلی دینے کی بات کررہاتھا۔انہوں نے کہا کہ اندرونی معاملات کو ٹھیک کرنا ترقیاتی کاموں سے بھی ضروری ہے جبکہ بیرونی دباؤ سے بچنا ہے تو پھر ان معاملات کو اچھی طرح دیکھناہوگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ بوسنیا میں حکام کو بتایاکہ گوادر سے کوئٹہ اور چمن تک پھر خیبرپختونخوا تک سڑک بنارہے ہیں ، میڈیا کو بھی دعوت دیں گے تاکہ بتایا جائے کہ بجلی ، سڑکوں ، گوادر کی ترقی اور ایئرپورٹس کے کون کونسے منصوبے زیرتعمیر ہیں کیونکہ دیکھے بغیر یہ نہیں پتہ چلے گاکہ کیا کیا ہورہا، صرف بنانا نہیں کرکے دکھانابھی ضرور ی ہے۔انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ بجلی کامسئلہ حل کردیں تو اگلا الیکشن بھی آپ کا ہے، یہ تو میرے حساب سے بڑا سستاسودا ہے لیکن ایک طرف بجلی کا مسئلہ ٹھیک کرکے بیٹھ جائیں کہ الیکشن جیتنا ہے لیکن ہم تو سب شعبوں میں بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں۔2016ء کے اختتام اور2017ء کی آمد پر حکومت کو درپیش مسائل پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے بتایاکہ 2016ء تو گزرگیا، الحمد اللہ ، جو گزرا بس اچھا گزرا تاہم مزیداچھاگزر سکتاتھا ، انہوں نے کہا کہ ہم سب لوگ اپنی ذمہ د اریوں کیساتھ فرض نبھائیں تو پاکستان بہت اچھا بن سکتاہے لیکن ایک ذمہ دارقوم کا رول اداہوناچاہیے، میڈیا سے بہت توقعات ہیں اوراگر چاہے تو یہ سب کچھ بدل سکتاہے ، لوگ کہتے ہیں کہ صبح سے شام تک بہت اچھا دن گزرتا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ پاکستان عروج کی طرف جارہا لیکن مغرب کے بعد گھرآتے ہیں تو ٹی وی لگاتے ہی ایسا ڈپریشن ہوتاہے کہ نیند آنی مشکل ہوجاتی ہے،لوڈشیڈنگ کے خاتمہ سے متعلق وزیراعظم نے کہا کہ انشاء اللہ دھرنوں کے منفی اثرات کے باوجود 2018ء میں بجلی کا بحران ختم کردیں گے ،چینی صدر کا دورہ 9ماہ موخر ہوا، اگردھرنے نہ ہوتے توجتنا وقت ضائع ہوا،وہ بھی استعمال کرتے اور سی پیک بھی کچھ دیر موخر نہ ہوتا اورشاید اب لوڈشیڈنگ کا معاملہ بالکل ختم کرنے کے قریب تر ہوتے لہٰذا وہ وقت شامل کرلیں تو شاید 2017ء میں ہی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہوجاتا۔وزیراعظم نے کہا کہ جس رفتار سے کارخانے چل رہے ہیں چائنہ والے بھی اب پنجاب سپیڈ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں اور یہ کوئی چھوٹی بات نہیں ہے ، انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے پاکستان کا ٹریک ریکارڈ اتنا خراب تھا کہ ایک منصوبہ20 بیس سال مکمل نہیں ہوتا،اب تین برسوں کے بجائے ڈیڑھ دو برس میں مکمل ہورہے ہیں ۔وزیراعظم نے کہا کہ3600میگاواٹ کے ایل این جی کے تین پلانٹس کی مثال لے لیں ، وہ وقت سے پہلے مکمل ہورہے ہیں، پورٹ قاسم کا1310میگاواٹ کا کارخانہ اور ساہیوال کے پاور پلانٹ بھی اسی طرح وقت سے پہلے مکمل ہورہے ہیں۔960میگاواٹ ہائیڈروالیکٹرک نیلم جہلم بہت ہی دھتکارا گیا منصوبہ تھا درحقیقت وہ منصوبہ بغیر تیاری کے شروع کیاگیااور بعد میں ان کو خیال آیا کہ زلزلے کے بعدڈیزائن وغیرہ میں ضروری ترمیم نہیں کی ، یہ سب ملک کیساتھ زیادتی ہے لیکن2017ء کے آخر یا2018ء میں وہ بھی مکمل ہوجائے گا۔ وزیراعظم نے کہاکہ وہ بار بار کہہ چکے ہیں کہ1998ء میں اسلام آباد سے لاہور تک موٹر وے کا ہم نے افتتاح کیا ،پھر آگے کراچی ، گوادر یا بلوچستان کیوں نہیں گئی؟ یہ سوال سابق حکمرانوں پوچھنا بنتاہے کیونکہ یہ ملک کا معاملہ ہے ،میڈیا کو بھی پوچھنا چاہیے ، وزیراعظم نے کہا کہ سڑک نہیں بنے گی تو پھر لوگ ہسپتال اورسکول جہازوں پر اڑ کر جائیں گے ؟ انہوں نے کہا کہ موٹروے کی بھی مخالفت کی گئی لیکن کچھ سمجھدار لوگوں اور سینئر سیاستدانوں نے تعریف بھی کی۔ریگولیٹراداروں کو وزارتوں کے تابع کرنے اور مسلم لیگ ن کے دورحکومت میں پایہ تکمیل کو پہنچنے یا زیرتعمیر منصوبوں میں شفافیت سے متعلق سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہاکہ نیپرا کے معاملات کی اگر مسلم لیگ ق نے بات کی تو اپنے دور میں انہوں نے ملک کو دہشتگردی اور اندھیروں میں دھکیلا، ایسے ایسے معاملات میں تاخیر ہوئی جو ہم برداشت ہی نہیں کرسکتے ، وزیراعظم نے کہا کہ اقتدار میں آتے ہی فیصلے نہ کرتے تو 2018ء تک بجلی کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ میرے بس میں نہیں تھا،انہوں نے کہا کہ کئی کئی مہینے ٹیرف ہی نہیں ملتا، شفافیت اگر آپ نے رکھنی ہوتو کچھ بھی ہو، آپ کرسکتے ہیں، نیپرا کے ہوتے ہوئے ہم نے ایل این جی کے پراجیکٹ لگائے ہیں اورنیپرا سے کم ٹیرف میں لے کرآئے ہیں۔وزیراعظم نے بتایاکہ صحت کے شعبے میں 49 ہسپتال فعال کام کررہے ہیں ، نئے بھی بنارہے ہیں ،کئی اضلاع میں لوگوں کو ہیلتھ کیئرکارڈ دیئے جنہیں مفت طبی سہولیات دی جارہی ہیں تاہم اہداف کے حصول میں کچھ صوبے آڑے آرہے ہیں جن کا خیال ہے کہ ہم نے یہ کام کرلیاتو وہ فارغ ہوجائیں گے ، ایسی بات نہیں ہونی چاہیے ،ہم سب کو ساتھ لے کر چلناچاہتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ معاملات صحیح سمت میں لائے جائیں جبکہ اس کا مظاہرہ الیکشن کے فوری بعد کردیاتھا،وزیراعظم نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی سندھ میں اکثریت تھی لیکن اکثریت نہ ہونے کے باوجود کے پی کے اور بلوچستان میں دوسری جماعتوں کو دعوت دی کہ حکومت بنائیں۔ ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ سے متعلق وزیراعظم کاکہناتھاکہ اس موضوع پر پاکستان میں بات ہوگئی ، جائزہ لیں گے اوراگر کمیشن بنتاہے تو پھر اس کی رپورٹ بھی منظرعام پر آنی چاہئے۔

مزید :

صفحہ اول -