بلدیہ کراچی کا اجلاس، ہنگامہ آرائی کی نذر ہو گیا ، الطاف حسین کی حمایت میں نعرے

بلدیہ کراچی کا اجلاس، ہنگامہ آرائی کی نذر ہو گیا ، الطاف حسین کی حمایت میں ...

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) بلدیہ عظمیٰ کراچی کی سٹی کونسل میں میئر کراچی کی زیر صدارت ہونے والا پہلا اجلاس ہنگامہ آرائی کی نذر ہوگیا۔ ایوان میں بانی ایم کیو ایم کی حمایت میں نعرے بازی شروع ہوئی تو میئر نے اجلاس ہی ملتوی کردیا تاہم اجلاس ملتوی ہونے کے باوجود ایوان میں نعرے بازی کا سلسلہ جاری رہا۔ ایک جانب بانی ایم کیو ایم جبکہ دوسری جانب سب پہ بھاری آصف زرداری کے نعرے لگتے رہے۔ میئر کراچی وسیم اختر کی زیر صدارت سٹی کونسل کا تیسرا اجلاس 20 منٹ کی تاخیر سے دوپہر 2 بجکر 20 منٹ پر شروع ہوا۔ اجلاس میں ممتاز عالم دین سید شاہ تراب الحق قادری کے انتقال پر تاج الدین صدیقی نے تعزیتی قرارداد پیش کی جسے اتفاق رائے سے منظور کرلیا گیا بعد ازاں ایجنڈے کے مطابق ایوان میں قائد حزب اختلاف کی نامزدگی کی کارروائی شروع کی گئی تمام اپوزیشن جماعتوں نے متفقہ طور پر پیپلز پارٹی کے کرم اللہ وقاصی کا نام اپوزیشن لیڈر کے لیے پیش کیا جسے ایوان نے اتفاق رائے سے منظور کرلیا سینٹرل جیل کے اطراف ٹیلی فون جیمر ہٹانے اور کراچی میں بلند و بانگ عمارات کی تعمیرات روکنے سے متعلق قرارداد ایوان نے منظور کرلی۔ اجلاس کے دوران حکمراں جماعت ایم کیو ایم کی جانب سے اختیارات اور وسائل کی عدم دستیابی کی بات کی گئی تو اپوزیشن لیڈر کرم اللہ وقاصی نے کہا کہ حکومت سندھ بلدیہ عظمیٰ کو وسائل دینے کے لیے تیار ہے لیکن شرط یہ ہے کہ یہ فنڈ تنخواہوں کی بجائے ترقیاتی عمل میں خرچ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نعمت اللہ خان کے دور میں بلدیہ عظمیٰ کے ملازمین کی تعداد 13 ہزار تھی اور اب یہ تعداد 35 ہزار ہوچکی ہے جبکہ بلدیہ عظمیٰ میں 10 ہزار ملازمین کا کوئی پتہ نہیں کہ وہ کہاں ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں۔ سابق سٹی ناظم کے دور میں مضافاتی علاقوں کو نظر انداز کیا گیا۔ اس کے جواب میں ایم کیو ایم کے عارف خان ایڈووکیٹ اور حنیف سواتی نے کہا کہ ایم کیو ایم کے سٹی ناظم کا دور مثالی تھا ان کے دور میں پورے شہر میں بلا تفریق ترقیاتی عمل انجام دیا گیا۔ مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر امان آفریدی نے تجویز دی کہ بلدیہ عظمیٰ کے پاس نہ وسائل اور نہ اختیارات ہیں تمام ارکان کو چاہیے کہ وہ درگاہ سید عبداللہ شاہ غازیؒ پر حاضری دیں انہوں نے کہا کہ کراچی کی ترقی کیلئے بھیک مہم شروع کی جائے مسلم لیگ اس سلسلے میں تعاون کعنے کیلئے تیار ہے ، مسلم لیگ (ن) کے تنویر جدون نے بلدیہ جنوبی کی جانب سے تعاون کی عدم دستیابی پر کہا کہ اگر انہیں بے اختیار یوسی چیئرمین ہی رہنا ہے تو بہتر یہی ہے کہ وہ مستعفی ہوجائیں۔ پیپلز پارٹی کے عبدلمجید بلوچ نے کہا کہ اس دور میں بھی لیاری کو نظرانداز کیا جا رہا ہے پیپلز پارٹی کے بلوچ خان گبول نے کہا کہ ستم ظریفی یہ ہے کہ ایک کنڈی مین کی تنخواہ 19 ہزار ہے اور یوسی چیئرمین کی تنخواہ صرف 10 ہزار روپے ہے میں بھی سوچ رہا ہوں کہ چیئرمین شپ سے مستعفی ہوکر کنڈی مین بن جاؤں۔ اجلاس کے دوران ضلع کورنگی سے تعلق رکھنے والے متحدہ کے یوسی چیئرمین فاروق پوائنٹ آف آرڈر پر کھڑے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں بانی ایم کیو ایم کے نامزد کردہ میئر کراچی وسیم اختر کو بلدیہ کے ایوان میں خوش آمدید کہتا ہوں اور اپنے متحدہ کے قائد کی جانب سے انہیں مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اس کے ساتھ ہی ایوان میں متحدہ بانی کے حق میں نعرے بازی شروع ہوگئی۔ میئر کراچی نے فوری طور پر اجلاس 24 جنوری تک ملتوی کردیا تاہم اس کے باوجود ایوان میں بانی ایم کیو ایم کے حق میں نعرے بازی کا سلسلہ جاری رہا جبکہ دوسری جانب پیپلزپارٹی کے ارکان نے جئے بھٹو اور جئے زرداری کے نعرے لگائے۔ کونسل ارکان ڈیسکوں پر چڑھ گئے اور اپنے سیاسی قائدین کے حق میں نعرے بازی کرتے رہے۔ متحدہ کے ارکان کونسل ایوان میں بانی ایم کیو ایم کے حق میں نعرے لگانے کی ابتداء کرنے والے رکن فاروق کو بحفاظت ایوان سے نکال کر محفُوظ مقام کی جانب لے گئے۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -