حکومت کی اولین ترجیح عوام کی معاشی بحالی اور خوشحالی ہے: اسحاق ڈار

حکومت کی اولین ترجیح عوام کی معاشی بحالی اور خوشحالی ہے: اسحاق ڈار

  

 اسلام آباد (این این آئی) وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ حکومت کی اولین ترجیح عوام کی معاشی بحالی اور خوشحالی ہے،مربوط حکومتی پالیسیوں کے نتیجے میں دیہی و شہری علاقوں میں غربت ،بیروزگاری میں کمی ہوئی ہے ،مائیکرو فنانس سیکٹر 42 لاکھ افراد کو روزگار اور کاروبار کیلئے آسان شرائط پر قرضے فراہم کر رہا ہے،وزیر اعظم کی بلا سود قرضہ سکیم کے ذریعے 2لاکھ 50ہزار افراد کو قرضہ جات کے اجراء کاسنگ میل عبور ہونا خوش آئند ہے ،حکومت کا غریبوں کیلئے مالیاتی خدمات کا پھیلاؤ قابل قدر کارنامہ ہے ،حکومت نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بجٹ میں تین گنا اضافہ کیا ہے جو 40ارب سالانہ سے 117 ارب تک پہنچ گیا ہے،2017 کے آخر تک پاکستان میں لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہو جائیگا، عالمی مالیاتی اداروں کے مطابق پاکستان بیرونی سرمایہ کاروں کیلئے ایک پرکشش منزل بن گیا ہے۔انہوں نے یہ بات جمعرات کو پرائم منسٹر انٹرسٹ فری لون سکیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔اس موقع پر چیئرپرسن پرائم منسٹرز یوتھ پروگرام لیلیٰ خان، چیئرمین سٹیئرنگ کمیٹی پی ایم آئی ایف ایل سکیم ڈاکٹر امجد ثاقب، چیف ایگزیکٹو آفیسر پی پی اے ایف قاضی عظمت عیسیٰ اور پی ایم آئی ایف ایل سکیم کے شراکتی ادارے کے نمائندے بھی موجود تھے۔ وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا کہ وزیر اعظم کی بلا سود قرضہ سکیم کے ذریعے 2لاکھ 50ہزار افراد کو قرضہ جات کے اجراء کاسنگ میل عبور ہونا خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کی آبادی کی معاشی ضروریات ایک جیسی نہیں ہیں۔ دنیا کے اکثر ممالک کے برعکس ہمارے ملک کی معیشت انتہائی مختلف نوعیت کی ہے اور آبادی کے ہر حصے کی اپنی منفرد معاشی ضروریات ہیں۔ ملک کی زیادہ تر آبادی انتہائی غریب اور محروم طبقات سے تعلق رکھتی ہے جسے کم ہی معاشی ترقی کے مواقع نصیب ہوتے ہیں اور وہ اپنا کاروبار شروع کرنے کے قابل نہیں ہوتے، لہٰذا وہ اپنی ضروریات انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے پوری کرتے ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ جو غریب طبقہ مائیکرو فنانس یا چھوٹی سرمایہ کاری کی سہولیات حاصل نہیں کر سکتا وہ وزیراعظم کی بلا سود قرضہ سکیم سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اس سکیم سے 44 اضلاع کی 427 یونین کونسلز میں دو لاکھ پچاس ہزار مستحقین کو قرضہ کی سہولت، رہنمائی اور تربیت فراہم کی جا چکی ہے جس میں 62 فیصد خواتین شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان نے ملک میں غربت اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے مسائل سے نمٹنے کیلئے 2014ء میں وزیراعظم کی بلا سود چھوٹے قرضوں کی سکیم شروع کی۔ اس سکیم کے تحت آبادی کے غریب طبقہ کو اپناچھوٹا کاروبار شروع کرنے میں سہولت فراہم کرنے کے لیے وفاقی بجٹ سے 3.5 ارب روپے کی خطیر رقم مہیا کی گئی۔ اس حوالے سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس اسکیم کو پی پی اے ایف کے ذریعے نافذ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی بلا سود قرضہ سکیم کی بدولت پسماندہ طبقے بالخصوص غریب دیہی خواتین تک پہنچ گئے ہیں جو کاروبار کرنے کی صلاحیت تو رکھتے ہیں لیکن کنونیشنل تک رسائی یا اہلیت نہیں رکھتے۔ اس میں نوجوانوں اور خصوصی افراد کو برابر مواقع فراہم کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے بلا سود قرضے کے استعمال سے یہ مستحقین اپنا کاروبار شروع کرنے اور دوسری مالیاتی خدمات تک رسائی کے قابل ہو گئے ہیں۔ قرضہ حاصل کرنے والوں میں تقریباً پچاس ہزار افراد بی آئی ایس پی کے مستحقین ہیں جو کامیاب طریقے سے اپنا کاروبار چلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کی مربوط پالیسیوں کے نتیجے میں دیہی اور شہری علاقوں میں غربت اور بے روزگاری میں کمی آئی ہے۔ حال ہی میں عالمی بینک کے اشتراک سے کئے گئے پاکستان کی سماجی معیار زندگی کے اقدامات کے سروے کے مطابق بنیادی ضروریات کی لاگت کے فارمولے کے تحت 2001-02ء میں غربت کی شرح 64.2فیصد سے کم ہو کر 2013-14ء میں 29.5 فیصد ہوگئی ہے جبکہ خوراک کی توانائی کے فارمولے کے تحت یہ اسی دورانئے میں 34.6 فیصد سے کم ہو کر 9.31 فیصد پر آ چکی ہے۔ اسی طرح بے روزگاری کی شرح بھی 2012-13ء میں 6.2 فیصد سے کم ہوکر 2014-15 میں 5.9فیصد پر آگئی ہے۔

اسحاق ڈار

مزید :

کراچی صفحہ اول -